57

خشک سالی!

پاکستان کے مختلف علاقوں میں خریف کی فصل کا موسم اپریل تا جون‘ شروع ہو کر اکتوبر سے دسمبر تک جاری رہتا ہے اور خریف کی اہم فصلوں میں چاول‘ گنا‘کپاس اور مکئی شامل ہیں لیکن رواں برس موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی وجہ سے ان فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے‘وہ موسم جو ماضی میں جزوی طور پر زراعت پر اثرانداز ہوتے تھے اب زیادہ شدت سے حاوی ہو رہے ہیں‘ جو قطعی غیرمتوقع نہیں لیکن مسلسل انکار کرنیوالے حکومتی اداروں کے پاس خشک سالی سے زیادہ خوفناک خبروں کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ایک سے زیادہ حکومتی ادارے درپیش موسمی حالات سے نمٹنے کی تیاری نہیں رکھتے‘تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ زرعی پیداوار کے بارے میں لگائے جانے والے تمام اندازے موجودہ بگڑتی صورتحال کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ پانچ برس میں پہلی مرتبہ خریف کی فصل خشک سالی سے متاثر ہوسکتی ہے‘محکمہ موسمیات اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی فصل کی بوائی کے موسم کا آخری مہینہ زیادہ مشکل ہوگا کیونکہ آخری چار ہفتوں میں پانی کی کمی پچاس فیصد تک بڑھ سکتی ہے!یہ صورتحال انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی مشاورتی کمیٹی کے حالیہ ہنگامی اجلاس میں بھی زیرغور آئی کیونکہ پاکستان میں فصلوں کیلئے دستیاب پانی کی کمی چالیس فیصد کی نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے اور اگر یہ کمی اسی طرح برقرار رہتی ہے اور اس میں ہر سال اضافہ ہوتا رہے گا۔

جس سے غذائی اجناس کی پیداوار میں غیرمعمولی خسارہ یقینی ہے‘مہنگائی سے بے حال عوام اگر پاکستان میں پیدا ہونیوالی سبزی کی قیمت کے بارے شکایت کرتے ہیں تو جب درآمد شدہ سبزی کی قیمت ادا کرنے عام آدمی کے بس میں نہیں ہوگا۔ زراعت اور تحفظ خوراک جیسی ذمہ داری رکھنے والے حکومتی اداروں کو توقع تھی کہ رواں برس پانی کی کمی زیادہ سے زیادہ 31 فیصد ہوگی لیکن یہ بیالیس فیصد تک جا پہنچی‘جو تاحال مستقل نہیں اور نہ ہی آنیوالے دنوں میں کہیں سے پانی کی دستیابی کے آثار ہیں‘ زراعت کے حوالے سے اگر کسی سال کو تقسیم کیا جائے تو خریف کا موسم 10 جون تک جاری رہتا ہے اس عرصے میں لامحالہ صوبوں کو دیئے جانیوالے پانی کے حصے میں ردوبدل یعنی کمی لانا پڑے گی جو پہلے ہی کم پانی کی وجہ سے متاثر ہیں‘ یہ امر بطور خاص لائق توجہ ہے کہ خریف کی فصلیں عام طور پر اچھی پیداوار دیتی ہیں‘ جن میں گندم‘ گنا اور کپاس شامل ہیں کیونکہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ان فصلوں نے موجودہ شدید پانی کے بحران کا سامنا نہیں کیا‘ارسا کے حالیہ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر صوبوں کو 31فیصد پانی کی کمی کے حساب سے حصہ دیا گیا تو بوائی کے موسم میں ان کے حصے کے پانی میں مزید کمی کرنا پڑے گی‘ جو صوبوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگی‘ارسا اجلاس میں محکمہ موسمیات کے عہدیداروں نے بتایا تھا کہ رواں ماہ کے دوران بالعموم اور جون کے پہلے ہفتے تک موسم خشک رہنے کی توقع ہے اور مون سون کا آغاز جون کے وسط میں ہونے کا امکان ہے‘اجلاس میں چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں سمیت وفاق کے نمائندے بھی شریک تھے جس میں پنجاب کی جانب سے کوٹری اور تونسہ بیراج میں پانی کی کمی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں شامل تمام نمائندوں نے ہنگامی بنیادوں پر نئے ڈیمز کی تعمیر کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا‘بلوچستان کی جانب سے کی گئی شکایت پر حکومت سندھ نے بلوچستان کو درپیش پانی کی کمی کے معاملے پر فوری طور پر اقدامات اٹھانے پر زور دیا اور اس ضمن میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی کی کمی سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ انہیں پانی کی کمی کا سامنا اسوقت ہوتا ہے جب انہیں صوبوں کیلئے مختص پانی کا پورا حصہ فراہم نہ کیا جائے‘آنیوالے دنوں میں متوقع بارشوں کے پیش نظر ارسا نے ریگولیشن کے منصوبوں میں تبدیلی کرتے ہوئے پانی کے بہاؤ کی بنیاد پر صوبوں کے حصے میں اضافہ کردیا‘ جسکے بعد پنجاب میں پانی کا حصہ 56سے بڑھ کر 64ہزار کیوسک‘ سندھ کا 43سے بڑھا کر 55ہزار کیوسک کردیا گیا جبکہ بلوچستان کا 5ہزار کیوسک اور خیبر پختونخوا کا 3ہزار 100کیوسک مختص کیا گیا ہے پاکستان کے چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعات پائے جاتے ہیں‘ فیصلہ سازوں کو احساس ہو رہا ہے کہ کس طرح پانی کے معاہدوں پر عمل درآمد نہ کرنے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے زرعی خسارہ ہر سال بڑھ رہا ہے! پانی کے دستیاب وسائل سے بہتر انداز میں استفادہ دانشمندانہ حکمت عملی ہے لیکن بڑے آبی ذخائر پاکستان کی بقاء کیلئے ایک ناگزیر ضرورت ہیں پاکستان کو درپیش آبی بحران اور مشکلات کے خاتمے کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کم سے کم آئندہ پانچ سال تک کیلئے منجمد کر دینا چاہئے اور فنڈز کا رخ پانی کے بڑے ذخائر کی تعمیر کیلئے ترجیحی بنیاد پر موڑنا چاہئے۔