94

وبال جان!

موبائل فون نہایت ہی تیزی کیساتھ معمولات زندگی کا حصہ تو بن گئے لیکن صارفین کی اکثریت اس کے محفوظ استعمال سے ناواقف ہے اور صرف عوام ہی نہیں بلکہ خواص بھی موبائل فونز کے ذریعے شکار ہو رہے ہیں‘پاکستان میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنیوالے رضاکاروں کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور انہیں باقاعدہ ڈیجیٹل حملوں کی مہم کے ذریعے نشانہ بنایا جانے لگا ہے‘ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چار ماہ کی تحقیقات کے بعد انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنیوالے غیرسرکاری تنظیموں کے ملازمین اور بالخصوص رضاکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کئے گئے ہیں اور جاسوسی کے ایک خاص سافٹ وئرکے ذریعے موبائل اور کمپیوٹروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے‘ اس حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹ‘ میں انسانی حقوق کے عالمی نگران ادارے نے پاکستان کے موبائل فون صارفین کو ڈیجیٹل خطرات سے آگاہ اور خبردار کیا ہے پاکستان میں انسانی حقوق کا دفاع کرنیوالوں کو نقصان پہنچانے کیلئے انکے نام اور شناخت سے جعلی آن لائن اکاونٹ تخلیق کئے گئے اور سوشل میڈیا پروفائل پر موجود معلومات کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جو سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

‘ موبائل فون صارفین کو سب سے پہلی احتیاط یہ کرنی چاہئے کہ وہ معروف کمپنیوں کے علاوہ غیرضروری سافٹ وئر اِنسٹال نہ کریں اور نہ ہی کسی انجان ذریعے سے آنیوالے سافٹ وئر کے لنک کو قابل بھروسہ سمجھیں‘ایمنسٹی نے سائبر حملہ آوروں کے وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انسانی حقوق تحفظ کیلئے کام کرنیوالوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا اور اس میں کون ملوث ہے لیکن جو کچھ بھی ہوا‘ اسکے پیچھے منظم نیٹ ورک کا ہاتھ ہے‘ جس نے نہایت ہی نفیس اور سنجیدہ طریقہ کار کا سہارا لیا اور اس بات کو پیش نظر رکھا کہ اگر انکا جرم معلوم ہو بھی جائے لیکن شناخت ظاہر نہ ہونے پائے‘ طریقہ واردات یہ ہے کہ سائبر حملہ آور دھوکا دینے کیلئے بڑی چالاکی سے جعلی پروفائل بناتے تھے اور پھر الیکٹرانک ڈیوائسزپر جاسوسی کے خودکار سافٹ وئرز جنہیں سپائی وئرز کہا جاتا ہے کے ذریعے حملے کئے جاتے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے کسی بھی صارف کی نگرانی کی جا سکتی ہے‘ اسے دھوکا دیا جاسکتا اور یہاں تک کہ اسکا جسمانی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے‘ رپورٹ میں سول سوسائٹی کی کارکن دیپ سعیدہ کی مثال دی گئی ہے۔

جسکے مطابق انکے ایک دوست اور سماجی کارکن رضا خان دو دسمبر دوہزارسترہ میں لاپتہ ہوئے‘اس واقعے کے بعد دیپ سعیدہ کی جانب سے رضا خان کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی‘ جسکے بعد انہیں مشکوک پیغامات موصول ہوئے‘ایمنسٹی انٹرنیشل کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ ایک افغان خاتون ثناء حلیمی کے نام سے فیس بک صارف نے دیپ سعیدہ سے بذریعہ میسنجر رابطہ کیا اور تعارف میں بتایا کہ وہ دبئی میں رہتی ہے اور اقوام متحدہ میں کام کرتی ہے۔ افغان خاتون کا دعویٰ کرنے والی اس صارف نے دیپ سعیدہ کو بتایا کہ اسکے پاس رضا خان کے حوالے سے کچھ معلومات ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے اپنی پروفائل سے ایک لنک بھیجا‘ جس میں ایک وائرس سٹیلتھ ایجنٹ چھپا ہوا تھا اور اگر اس لنک کو کھولا جاتا تو ان کا موبائل متاثر ہوسکتا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اداروں کا ماننا تھا کہ یہ پروفائل جعلی ہے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے ذریعے دیپ سعیدہ کا ای میل ایڈریس جاننے کے بعد انہیں ای میل پر سپائی وئرز موصول ہونے لگے‘ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اپنی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں موجود انسانی حقوق کے سرگرم رضاکاروں کو اسی طرح کے طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے اور کئی مرتبہ ایسے لوگوں (ہیکرز) نے خود انسانی حقوق کے کارکن ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ کچھ ماہ میں اس بات کو دیکھا گیا کہ صحافیوں‘ بلاگرز‘ پر امن مظاہرین‘ سول سوسائٹی کے اہم لوگوں اور سرگرم رضاکاروں کو موبائل فون سے کوائف چوری کی وجہ سے ہی کی وجہ سے دھمکیوں‘ پرتشدد کاروائیوں اور جبری گمشدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے‘موبائل فون وبال جان نہیں لیکن اگر اسکا محتاط اور سمجھ کر استعمال کیا جائے ہر چند ہفتوں بعد اپنے فون کو ہارڈریسٹ کرنے اور انجان لوگوں کی طرف سے آنے والے سافٹ وئرز اور دوستی کی درخواستوں کو قبول نہ کرنے ہی میں عافیت ہے۔