127

فاٹااصلاحات کا عندیہ

سیاسی تناؤ‘ ہائی پروفائل کیسز‘ انکوائریوں اور نوازشریف کے متنازعہ بیان پر ہر جانب سے ردعمل کے نتیجے میں حدت پکڑتی سیاسی فضاء میں فاٹا اصلاحات کاکام مکمل کرنیکا عندیہ خوش کن تاہم عملی اقدامات یقینی بنانے کا متقاضی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے قبل30 ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ فاٹا اصلاحات سے متعلق بل صرف صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو مختص کرنے کے حوالے سے ہے اس مقصد کیلئے مجوزہ بل کل ایوان میں لائے جانے کا عندیہ دیا جارہا ہے اس بل سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ حکومت کو ایوان میں منظوری کیلئے اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل ہے قومی اسمبلی میں رواں سال کے آغاز پر ہی سپریم کورٹ اور عدالت عالیہ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقہ جات تک بڑھانے کی غرض سے بل کی منظوری دی جاچکی ہے اس سے پہلے گزشتہ سال ستمبر میں پولیس کے دائرہ کار کو فاٹا تک بڑھاتے ہوئے علاقے میں پولیس ایکٹ1861 نافذ کیا گیا تھا وفاقی حکومت اگر اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے قبل فاٹا اصلاحات کی منظوری حاصل کرلیتی ہے ۔

تو یہ اسکے دور اقتدار کے اہم کاموں میں شامل ہوگا جسکی ابتداء بھی موجودہ حکومت نے کی اور خصوصی کمیٹی نے طویل رابطوں کے بعد اپنی سفارشات پیش کیں جہاں تک فاٹا اصلاحات پر تحفظات کی بات ہے تو یہ بات چیت میں طے ہو سکتے ہیں سیاسی جماعتوں کے لیول پرتو فاٹا کے کیس میں تحفظات اور خدشات خود حکومت کی اپنی اتحادی جماعتوں کے ہی ہیں جن کیساتھ ہر وقت بات چیت کی جا سکتی ہے اگر حکومت کل اسمبلی میں آئینی ترمیم منظور کروالیتی ہے تو اگلے مراحل کیلئے قاعدے کا پورا عمل مکمل ہونے کیساتھ سرکاری اداروں کو اس حوالے سے عملی نتائج دینا ہونگے اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ دفاتر اپنا ہوم ورک مکمل کرلیں تاکہ حکومتی سطح پر منظوری کیساتھ کام شروع ہو جائے ایسا نہ ہو کہ فاٹا میں عدالتی دائر اختیار کی توسیع سے متعلق اعلامیہ جس طرح تاخیر کا شکار ہوا اسی طرح باقی کا کیس بھی ایک سے دوسرے دفتر گردش ہی نہ کرتا رہ جائے ایسا ہوا تو حکومت کی ساری ایکسر سائز بے ثمر رہے گی۔

رمضان المبارک اور خدمات

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور نے رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو بروقت پانی کی فراہمی اور شہر کی صفائی کیلئے شیڈول مرتب کیا ہے اس میں پہلی بار رات کے وقت صفائی کی خصوصی شفٹ شروع کرائی جا رہی ہے ڈبلیو ایس ایس پی کا شیڈول قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس کے مثبت نتائج اس صورت محسوس ہونگے جب اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اسکے ساتھ ہی بجلی اورگیس جیسی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ناگزیر ہے متعلقہ خدمات کی ذمہ دار کمپنیوں کو بجلی گیس کی فراہمی اور ترسیلی نظام کو اپ ڈیٹ رکھنے کے انتظام کیساتھ مرمت کا کام فی الفور یقینی بنانا ہوگا پیسکو نے اس ضمن میں کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی کثیر تعداد تمام سرکلز کو فراہم بھی کردی ہے تاہم ضرورت معمولی نوعیت کی مرمت کیلئے دفاتر شکایات کو مزید وسائل اورافرادی قوت فراہم کرنے کی بھی ہے کیا ہی بہتر ہو کہ روزے کی حالت میں شہریوں کو غلط بجلی اور گیس بلوں کی تصحیح کیلئے دفاتر کے چکر کاٹنے سے بھی بچایا جائے اسی طرح بینک بل جمع کرانے والوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا ہونے سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائیں۔