163

امریکی صدر کا ٹوئیٹر پیغام

بے بنیاد الزامات، دھمکی آمیز بیانات اور ڈومور کے مطالبوں کے جاری سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور ٹوئیٹر پیغام آیا ہے، امریکی صدر کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ دھوکہ دیاہے ، ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ 15 سال میں امریکہ نے پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد دی،ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا اب کوئی امداد نہیں ملے گی، خبررساں ایجنسی امریکی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتاتی ہے کہ وائٹ ہاؤس نے کلیئرکیا ہے کہ امریکہ کا پاکستان کو 25 کروڑ50 لاکھ ڈالر امداد دینے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں، وزیرخارجہ خواجہ آصف نے 33 ارب ڈالر دئیے جانے کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکہ کی طرف سے دی گئی ایک ایک پائی کا حساب سرعام دینے کیلئے تیار ہیں۔

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کو بھی دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا جاچکا ہے، امریکی سفیر پر واضح کیاگیا ہے کہ پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتا ہے، انہیں اس بیان کے اثرات سے بھی آگاہ کر دیاگیا ہے، امریکی صدر کے بیان کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس فوری طلب کیاگیا تاہم بعد میں نیا شیڈول دیتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ وفاقی کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی کے الگ الگ اجلاس آج ہوں گے، دریں اثناء حکومت نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ہونیوالے فیصلوں کی روشنی میں مریدکے مرکز بھی پنجاب حکومت کے کنٹرول میں دیا جائیگا، جماعت الدعوۃ نے عدالت جانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی پر سخت مایوسی کا شکار ہے وہ افغانستان میں بندگلی کی طرح پھنس چکا ہے اپنی اس ناکامی پر منہ چھپاتے ہوئے امریکی صدر پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ایسے میں ضرورت ایک جانب ان الزامات کا منہ توڑ جواب دینے کی ہے تو دوسری طرف ایسی موثر خارجہ حکمت عملی کی ہے کہ جس میں عالمی برادری پر ساری صورتحال سیاق و سباق کیساتھ آشکارا کی جائے، ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ سیاسی تناؤ اور اختلافات اپنی جگہ رکھتے ہوئے قومی قیادت بھی مشترکہ موقف مزید مضبوط بنائے، اس کیساتھ اپنی معیشت کو اس مقام پر لانے کی سعی کی جائے کہ وطن عزیز نہ تو بیرونی قرضوں کا ضرورت مند رہے اورنہ معیشت کے حوالے سے کوئی کسی قسم دھمکی دے سکے۔

سڑکوں کی صرف تعمیر کافی نہیں

پشاور اَپ لفٹ پروگرام کے تحت شہر میں 22 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر قابل اطمینان ہے لیکن اسے فل سٹاپ قرار نہیں دیاجاسکتا صوبائی دارلحکومت کا انفراسٹرکچر جہاں ایک طرف مزید تعمیراتی منصوبوں کا متقاضی ہے تو دوسری جانب مکمل شدہ پراجیکٹس کی دیکھ بھال اور انہیں سہولت کا ذریعہ بنانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، کسی بھی شہر میں سڑک کی تعمیر اس وقت ریلیف کا ذریعہ بنتی ہے جب اس کی معیاری کنسٹرکشن کے بعد صفائی سیوریج سسٹم کی روانی، تجاوزات اور تہہ بازاری سے حفاظت یقینی ہو، یہ بات بھی یقینی بنانا ہوگی کہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کیلئے قواعد وضع ہوں۔ سپیڈ بریکر قاعدے کے مطابق ہوں اور پارکنگ کیلئے مقامات کا تعین ہو اگر ایسانہ ہو تو سڑکوں کی تعمیر ومرمت محض پیسوں کا ضیاع ہی رہ جاتا ہے اور لوگوں کو بھاری فنڈز کے استعمال کے باوجود کوئی سہولت نہیں مل پاتی۔