102

جمہوریت کا تسلسل‘اہم مراحل

وطن عزیز کی سیاسی وپارلیمانی تاریخ میں اپنی آئینی مدت مکمل کرنے والی مسلسل تیسری قومی اسمبلی رات12بجے تحلیل ہوگئی ہے 1970ء کے بعد سے آنے والی سیاسی اسمبلیوں میں سے 2مارشل لاء جبکہ 3صدارتی اختیارات کے تحت ختم ہوئیں 1993ء کی اسمبلی اپنی مدت میں 2مرتبہ ٹوٹی ‘جمہوری نظام کا تسلسل قابل اطمینان ہے تاہم اس مرتبہ سیاسی تناؤ اور ایک دوسرے کی مخالفت کا گراف مسلسل بڑھتا رہا احتجاج اور دھرنوں کیساتھ عدالتوں میں اہم ہائی پروفائل کیسز کی سماعت اور بڑے فیصلے ریکارڈ پرآئے قومی احتساب بیورو نے اہم انکوائریاں کیں اور کیس تیار ہوئے سیاسی قیادت اس سارے منظر نامے میں بہت سارے حل طلب معاملات سیاسی انداز میں بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہی بہت سارے کیسز پر مل بیٹھنے کے لئے سنجیدہ سعی نہیں کی گئی عرصہ اقتدار کے خاتمے سے چند روز قبل فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا انضمام کا کیس یکسو کیا گیا جبکہ آبی ذخائر میں اضافے اور اس ضمن میں سیاسی قیادت کے تحفظات وخدشات دور کرنے کے لئے اقدامات سے گریز کیاگیاجبکہ پانی کی قلت کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی ادارے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں توانائی بحران اذیت ناک صورت اختیار کررہا ہے تودوسری جانب لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر پڑی ہے وطن عزیز کی معیشت اپنے استحکام کیلئے ایک واضح حکمت عملی کی متقاضی ہے اسوقت بھی اتفاق رائے کے ساتھ اہم معاملات کو سدھارنے کے لئے سیاسی قیادت کے اوپر بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں ۔

نگران وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی کا اہم مرحلہ ہے جبکہ اس کیساتھ انتخابات کے حوالے سے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہے الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں سے متعلق فیصلے کے باوجود انتخابات کے بروقت ہونے کا عندیہ دے رہا ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی الیکشن ایک ماہ لیٹ کرنے کی قرار داد منظور کررہی ہے اس ساری صورتحال میں ضروری ہے کہ سینئر سیاسی قیادت جمہوری نظام کے تسلسل عام انتخابات کے بروقت اور پر امن انعقاد کے ساتھ اہم قومی امور سے متعلق اتفاق رائے یقینی بنائے اس سے ہٹ کر کہ اگلی حکومت کون بنائے گابعض معاملات صرف حکمرانوں کی نہیں بلکہ مجموعی قومی قیادت کی ذمہ داری ہیں جس کا بروقت احساس ناگزیر ہے۔

ہسپتالوں سے متعلق ہائیکورٹ کے ریمارکس
خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور دوسرے شفاخانوں سے متعلق پشاور ہائیکوریٹ کے ریمارکس حکومتی اعلانات اور ان پر عمل درآمد کے درمیان فاصلوں کی عکاسی کرتے ہیں جسٹس اکرام اللہ خان کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال کا نظام امریکہ سے نیٹ پر چلایا جارہا ہے جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کی نرسریز میں ایک ایک انکیوبیٹر پر دس دس بچوں کو ڈالا جاتا ہے بات صرف ہیلتھ سیکٹر یا صرف اقتدار چھوڑ کر جانے والی ایک حکومت تک محدود نہیں دیگر شعبوں میں بھی حکومتی اعلانات اور اقدامات پر عملدرآمد کا فقدان اکثر انہیں بے ثمر کرکے رکھ دیتا ہے ہیلتھ سیکٹر میں چونکہ براہ راست شہریوں کو خدمات مہیا کرنا ہوتی ہیں اس لئے یہاں عملی نتائج بھی یقینی بنانے کے لئے نگرانی کا انتظام دوسرے شعبوں کی نسبت زیادہ ضروری ہوتا ہے ہمارے ہاں تمام تر اعلانات اور اقدامات کے باوجودہسپتالوں کی ایمرجنسی میں وہیل چیئر اور ٹرالی کا حصول اسی طرح مشکل ہے جبکہ دیگر شعبوں کے لئے مختص بھاری فنڈز کا ضیاع روکنے اور تکلیف سے کراہتے مریضوں کے لئے ریلیف یقینی بنانے کا تقاضا چیک اینڈ بیلنس کے لئے فول پروف سسٹم ہی کا ہے بصورت دیگر رش بڑھنے کے ساتھ مشکلات بھی بڑھتی ہی چلی جائیں گی۔