123

انتخابات کا بروقت انعقاد

سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواستوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کاغذات نامزدگی تیار ہو چکے ہیں انہیں ہی جاری کیا جائے‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونے دینگے ‘چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ایک بار پھر بتارہے ہیں کہ الیکشن25جولائی کو ہی ہونگے الیکشن کمیشن نے بھی کلیئر کہا ہے کہ عام انتخابات 25جولائی کو ہی ہونگے اور یہ کہ الیکشن شیڈول میں دو تین دن کی گنجائش موجود ہے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ایک منٹ کی تاخیر بھی برداشت نہیں کی جائے گی دوسری جانب تمام سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم اوررابطہ عوام مہم کے حوالے سے سرگرمیاں جاری ہیں ۔

اس بات کا امکان ہو بھی سکتا ہے کہ بعض عناصر جمہوری عمل کے تسلسل کو متاثر کرنا چاہیں تاہم دوسری جانب اگر عدالت عظمیٰ بھرپور یقین دہانی کراتی ہے کہ الیکشن مقررہ تاریخ کوہی ہونگے تو اس سے یہ امید زیادہ قوی ہو جاتی ہے کہ الیکشن میں تاخیر کے خواہشمندوں کی خواہش پوری نہیں ہوگی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ انتخابات کا بروقت اور شفاف انعقاد جمہوری عمل کے تسلسل میں معاون ہوگا اس ضمن میں سیاسی قیادت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر جانب سے الیکشن کے بروقت اور شفاف انعقاد سے متعلق یقین دہانی پر انتخابی مہم سے لیکر نتائج تک کے مراحل میں اپنے حامیوں کو قاعدے قانون کا پابند رکھے الیکشن کمیشن کو بھی پیش آنے والی تاخیر کے باوجود سارا کام بروقت نمٹانے کیلئے انتظامات رکھنے چاہئیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ الیکشن میں تاخیر سے متعلق خدشات کا ازالہ ہونے کے ساتھ ہی عوامی سطح پر انتخابی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ شہری پورے اعتماد کیساتھ اپنے ووٹ کا حق ادا کریں اور ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہو۔

پینے کا صاف پانی؟

پینے کا صاف پانی کسی بھی ریاست میں شہریوں کو فراہم کرنا حکومت کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے وطن عزیز میں اس حوالے سے اعدادوشمار ابھی بہت کچھ کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں شہری علاقوں میں ٹیوب ویلوں سے فراہم ہونیوالا پانی بوسیدہ اور زنگ آلود پائپوں میں سیوریج لائنوں کے اندر سے آتے ہوئے بیماریوں کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے کچن کے بجٹ سے معقول رقم خرچ کرکے بازار سے خریدے جانیوالے منرل واٹر کے متعدد برانڈز مضر صحت قرار دیئے جارہے ہیں آبی وسائل کی تحقیقاتی کونسل نے8 مزیدبرانڈز کو مضر قرار دیا ہے منرل واٹر کے نمونوں میں آرسینک کی مقدار پائی گئی ہے جو ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہے اس منظر نامے میں حکومتی ذمہ داریوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ جن علاقوں میں صاف پانی نہیں مل رہا وہاں فراہمی یقینی بنائی جائے دوسرا یہ کہ جن علاقوں میں پانی ٹیوب ویلوں یا اوورہیڈ ٹینکس کے ذریعے جاتا ہے وہاں سپلائی لائنیں محفوظ اور ٹینک صاف ہوں تیسرا یہ کہ منرل واٹرکا معیار‘ پیکنگ‘ ترسیل اور سٹوریج کو محفوظ بنایا جائے اس مقصد کیلئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ضروری ہے۔