119

پانی کی قلت

چیف جسٹس آف پاکستان نے وطن عزیز میں پانی کی قلت کے حوالے سے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی رپورٹس کا نوٹس لیا ہے‘ قابل تشویش باتیں جو رپورٹس میں سامنے آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ 2025ء میں ملک میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے‘ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ملک میں دستیاب 142 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے صرف 42ایکڑفٹ استعمال جبکہ 100 ایکڑ فٹ مختلف طریقوں سے ضائع ہورہا ہے‘ ماہرین ملک میں واٹر ایمرجنسی کے نفاذ کا تقاضا بھی کررہے ہیں‘قلت آب سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت دوران چیف جسٹس آف پاکستان کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اس ضمن میں اپنے ادوار حکومت میں کچھ نہیں کیا‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پانی کے مسئلے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا‘چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اربوں روپے کا پانی منرلز کیساتھ سمندر میں ضائع کررہے ہیں ڈیمز بنانے کے بجائے ہم تو گڑھے ہی نہیں بنا سکے‘۔

وطن عزیز کو پانی کی قلت کے حوالے سے درپیش چیلنج آبی ذخائر کی فوری تعمیر کی متقاضی ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ سیاسی قیادت نے یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتوں میں اس مقصد کے لئے درکار کوششیں نہیں کیں‘ اگر سیاسی قیادت یکجا ہوکر صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتی حقائق کو مدنظر رکھ کر پلاننگ کی جاتی صوبوں کے تحفظات و خدشات پر بات ہوتی خود سیاسی جماعتوں کے اعتراضات پر کھل کر ڈائیلاگ ہوتا تو آج پانی کی قلت سے متعلق خطرات کا گراف نیچے آچکا ہوتا‘ چیف جسٹس آف پاکستان بھی اپنے ریمارکس میں یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں صوبوں کو لڑانا نہیں‘جذبات اور تدبر سے کام کیا جائے یہ اسی صورت ممکن ہے جب یکجا ہوکر بات کی جائے ایک دوسرے کے موقف کو سنا جائے اور اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں‘سیاسی اختلافات اور انتخابی مہم اپنی جگہ تیز و تند بیانات اور اتحاد و مخالفت جمہوری عمل کیساتھ چلتے رہتے ہیں سیاسی معاملات کا سیاسی انداز میں حل ضروری ہے‘ہماری سیاسی قیادت نگران حکومتوں کے معاملے میں بھی عدم اتفاق پر الیکشن کمیشن گئی اور پنجاب میں تو الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی مسترد ہونے کی اطلاعات ہیں‘ قومی قیادت کو اہم قومی معاملات مل بیٹھ کر نمٹانے کی روایت مضبوط بنانا ہوگی۔

معاشی حکمت عملی؟

نگران وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے وطن عزیز کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لئے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی ہے‘ دریں اثناء نگران حکومت نے اپنے دور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘31 مئی کو تحلیل ہونے والی وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 7 جولائی تک کے لئے بڑھائی تھیں اس وقت ملک کی معیشت کو سنگین چیلنج درپیش ہیں کھربوں روپے کے قرضے درآمدات پر انحصار بڑا تجارتی خسارہ توانائی بحران سب اپنی جگہ ٹھوس حکمت عملی کے متقاضی ہیں تاہم جہاں تک تعلق عام شہری کا ہے تو اس کی کمر مہنگائی نے توڑ کر رکھ دی ہے‘ اقتصادی اعشاریے درست ہو بھی جائیں تو بھی اس شہری کو ریلیف صرف کنٹرولڈ مارکیٹ ہی سے مل سکتی ہے جس پر توجہ دینا ناگزیر ہے صرف اعداد و شمار سے کسی کو کوئی تسلی نہیں ہوسکتی۔