47

ہوں گے قفس میں کل جو ہیںآج آشیانے میں

یہ کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے جب میرے ایک دوست امریکہ سے اپنا کاروبار سمیٹ کے پاکستان چلے گئے تھے اور اپناکاروبار شروع کردیاتھا مگر اب واپس آگئے ہیں‘کہتے ہیں گرمی سردی توخیر کوئی بات نہیں مگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے رمضان کے بابرکت مہینے میں ادھ مواسا کردیا ہے‘ اپنے دوست کایہ قصّہ فون پر سنانے کے بعد دوست عزیزارشاد صدیقی نے کہا کہ تم بھی چلے آؤنا ‘میں نے کہا گرمی اور لوڈشیڈنگ اب ہمارے گھر کے افراد کی طرح ہیں فراز نے تو پہلے ہی کہہ دیا ہے
فراز سنگِ ملامت سے زخم زخم سہی
ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا ہے
سو ہماری وفاداری بشرط استواری ہی قائم ہے اور گزشتہ کل کے سفاک موسموں میں جب یار لوگ پشاور چھوڑ کر نئے ٹھکانوں کی طرف جا رہے تھے تو میں نے اس موسم میں بھی کہہ دیا تھا کہ
راستے رزق کشادہ کے بہت ہیں ناصر
کوئی اس شہرِ پشاور سے جداکیسے ہو

اور یہ جو ہم احباب کی محبت بھری دعوت پر تھوڑے تھوڑے وقفے سے پشاور سے باہر چلے جاتے ہیں تویقین جانئے یہ عارضی جدائی بھی پشاور سے محبت میں اور شدت کا باعث بن جاتی ہے کہیں سکول کے زمانے میں جو کچے پکے یا کھٹے میٹھے شعر اوڑھنا بچھونا بنے تھے وہ اب تنہائیوں کو گرماتے اور مہکاتے ہیں ان میں سے نہ جانے کس کا کہا ہوا یہ شعر اب بھی اس زمانے کی سی معنویت کیساتھ پشاور سے دوری کے سفر میں ہم سفر ہوتا ہے
جدائی میں محبت او ر بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے مجھے تسکین ہوتی ہے

ارشاد صدیقی سے میں نے یہ بھی کہا کہ آپ تو البقرقی میں رہتے ہیں جو نیویار ک سے اتنا دور ہے جتنا پاکستان سے نیویارک کا فاصلہ ہے جسے امریکی بھی دنیا کا پچھواڑا کہتے ہیں ان کا شہر نیو میکسیکو میں ہے جب بھی کوئی دوست انہیں کہتا ہے کہ آپ تو میکسیکو میں رہتے ہیں تو فوراََ ٹوک دیتے ہیں کہ میکسیکو نہیں ’ نیو میکسیکو‘میں جان بوجھ کر میکسیکو کہتا ہوں اور ان کی فوراََ کی ہوئی وضاحت کو میں ہی نہیں دوست مہربان عتیق صدیقی بھی خوب انجوائے کرتے ہیں‘ہم تینوں نے ان گنت شب و روز گھنٹوں شعروادب پر بات چیت اور بحث مباحثہ میں گزارے ہیں مگر ہمارا یہ اکٹھ زیادہ تر اپ سٹیٹ نیو یارک کے پر سکون شہر بنگ ہیمٹن میں عتیق صدیقی کی خوبصورت کوٹھی کے ڈرائنگ یا سن روم میں ہوتا ہے یا ان کے ہوٹل میں ہوتا ہے یا پھر نیو یارک میں ہونیوالی ادبی تقریبات میں شریک ہونے جب ہم ساڑھے چار پانچ گھنٹے کی لانگ ڈرائیوپر جاتے ہیں توسارے راستہ میں خوب خوب موج میلہ ہوتا ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ سارا راستہ بلا کا خوبصورت ہے جو چپ کرا دیتا ہے‘عتیق صدیقی کی محتاط ڈرائیونگ بھی متقاضی ہوتی ہے کہ آپ بے فکر ہو جاتے ہیں اور وہ تواتنی بار ان راستوں پر آ جا چکے ہیں کہ بند آنکھوں بھی ڈرائیو کر سکتے ہیں(ایک سچ یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی ہلکی پھلکی جھپکی لے بھی لیتے ہیں)اور اکثر ایسے میں جاں نثار اختر کا یہ شعر ہونٹوں پر مچل جاتا ہے
میں سو بھی جاؤں تو کیا میری بند آنکھوں میں
تمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے

لیکن اس جھپکی کے باوجود وہ گاڑی میں ہونیوالی بحث سے ایک پل بھی اسی طرح غافل نہیں ہوتے‘ جس طرح وہ احباب کی خیر خبر اور دکھ سکھ سے کبھی غافل نہیں ہوتے‘راستے میں جہاں کافی کیلئے رکنا ہو وہاں ارشاد صدیقی خشک میوہ کے پیکٹس (نٹس ) اٹھا لاتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو امریکہ میں پشاوری چار نقل کا ذائقہ بھی میسر ہے‘جس سے نیویارک تک ہم تینوں تازہ دم رہتے ہیں‘ البتہ ایک بار ہمیں بنگ ہیمٹن سے ٹولیڈو تک کا ہوائی سفر عتیق صدیقی کے بغیر کرنا پڑااور کئی حوالوں سے اردو کا یہ سفر ’انگریزی کے سفر‘ کے مشابہ بن گیا تھا‘پہلے تو جس جہاز میں گئے وہ بمشکل دس بارہ لوگوں کے لئے تھا جھک کر سیٹ تک جانا پڑا اور سیٹ بھی ایسی کہ کم از کم انگڑائی لینے کی تو قطعاََ گنجائش نہیں تھی چھت میرے سر سے توچند انچ اوپر تھی مگر دراز قد ارشاد صدیقی کو سر جھکاکر بیٹھنا پڑا‘میرااتنے چھوٹے جہاز میں سفر کا پہلا موقع تھا۔جسے اب بھی یاد کرتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر مہم جو اور سیلانی ارشاد صدیقی کیلئے یہ معمول کی سرگرمی تھی‘ وہاں پہنچ کر آغا جی ڈاکٹر امجد حسین کے ہاں پورا ہفتہ کیسا گزرا یہ کہانی پھر سہی مگر یہ ضرور ہوا کہ اسی دن ستیہ پال آنند بھی وہیں آ گئے اور ہمدم دیرینہ میرے بچپن کے دوست خالد رؤف کا فون آیا کہ حیران کن کہانی کار مظہر الاسلام کیساتھ ٹورنٹو میں ایک نشست ہو رہی تھی جس میں مجھے بھی مدعو کیا جارہا تھا‘میرے پاسپورٹ پر کینیڈا کا ویزہ نہیں لگا تھا تو خالد رؤف تمام کاغذات کیساتھ مجھے لینے آ رہے تھے میں نے کہا کہ میں اس وقت نیویارک کی بجائے ٹولیڈو میں ہوں تو اس نے کہا کوئی بات نہیں میں وہاں آ جاتا ہوں‘سو وہ بھی دوسرے ہی دن ڈرائیو کر کے پہنچ گئے کہ یہ فاصلہ بھی لگ بھگ پانچ گھنٹے کا تھاسو بہت اچھی گپ شپ رہی مگر میں کینیڈا نہ جا سکا کہ جس دن کینیڈا میں تقریب تھی اسکے اگلے ہی دن نیو یارک کے حلقہ ارباب ذوق میں میری کتاب ’ ادب کے اطراف میں ‘کی تقریب رونمائی اور پذیرائی تھی‘اور یہ محض ٹورنٹو کو پشاوری محاورے کے مطابق ’ہاتھ لگا کرواپس آنا‘کے مترادف تھا‘خالد رؤف اور ارشاد صدیقی کا خیال یہ تھا کہ تقریب کے دوسرے دن رونمائی کی تقریب کیلئے بر وقت پہنچنا مشکل نہیں تھا مگر میرے ذہن میں سجاد بابر کا شعر گونج رہا تھا

اس کنارے ، دیا جل رہا ہے کوئی
ایک پل بھی ہے اور ایک کشتی بھی ہے
متفق پھر بھی ہیں ساری دانائیاں
واپسی کا سفر اتنا آساں نہیں
اس لئے میں نے سجاد بابر کے شعر کی مان کر کینیڈا جانا ملتوی کر دیا‘یوں بھی مجھے میری کتاب کی تقریب کے لئے ہی امریکہ بلوایا گیا تھا اور گزشتہ کل فون پر ارشاد صدیقی مجھے پھر ترغیب دیتے ہوئے کہہ رہے تھے آپکو یہاں دنیا کے پچھواڑے(نیو میکسیکو) آنا نہیں پڑے گابلکہ میں بھی عتیق صدیقی کے پاس جا رہا ہوں تم بھی وہی آجانااور پھر کچھ دن وہیں گزار کرعید کے بعد ستیہ پال آنند کے پاس واشنگٹن چلے جائیں گے۔ظاہر ہے یہ پروگرام للچانے والا ہے مگر مجھے رمضان میں کہیں نہیں جانا‘گرمی سہی‘لوڈ شیڈنگ سہی مگر یہ احساس کافی ہے کہ یہ عبادت یہاں اجتماعی ہے تو زیادہ بارونق اور پر سکون ہے‘ باہر کی دنیا میں صورت حال بہت مختلف ہے‘ایک آدھ بار رمضان کے کچھ روزے گزارے ہیں اسلئے مجھے علم ہے کل ہی افراز علی سید سے بات ہو رہی تھی تو بتا رہا تھا کہ ان کے جاب پر ان دنوں کسی نئے پراجیکٹ کی لانچنگ کے حوالے سے خوب پارٹیاں چل رہی ہیں اور ہال میں ناشتے اور ظہرانے کے وقت اشتہا انگیز خوشبوئیں( اروما)پھیلی رہتی ہیں‘لیکن الحمد للہ ذرا بھی ذہن نہیں بھٹکنے نہیں پاتا‘میں نے کہا بیٹے اللہ ہمت و توفیق دے روزہ تو ہے ہی نفس کیخلاف جہاد مگرمجھے لگتا ہے آپ بیک وقت روزہ اور جہاد دونوں کے ثواب لے رہے ہیں اللہ قبول کرے کہنے لگا پاپا!ان دنوں تراویح اور سحری کے بعد صبح سویرے جاب پر جانے کی وجہ سے نیند بہت کم رہ جاتی ہے مگر سکون بہت ملتا ہے‘اسلئے میں نے ارشاد صدیقی سے کہہ دیا کہ سر دست میں پشاور ہی میں رہنا پسند کروں گا۔عتیق صدیقی اور ستیہ پال آنند کو میرا سلام دیدیجئے گااور میرا پوچھیں تو مرزا یاس یگانہ کا شعر سنا دیجئے
رہ رہ کے جیسے کان میں کہتا ہے یہ کوئی
ہوں گے قفس میں کل‘ جو ہیں آج آشیانے میں