319

سپریم کورٹ نے شیخ رشید کواہل قراردے دیا

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو اہل قرار دے دیا۔

 جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے ایک کے مقابلے میں دو کے تناسب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو اہل قراردے دیا۔ فیصلے کی روسے شیخ رشید 2018 کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ اس معاملے پرفل کورٹ بنایا جائے۔

شیخ رشید کا اعلان

عدالتی فیصلہ سنائے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ  اللہ نے آج مجھے پھر عزت دی ہے، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اوراپنی زندگی میں کوئی چیز نہیں چھپائی، میری ساری دولت راولپنڈی کی ہے اور میں راولپنڈی کا ہی ہوں۔

شیخ رشید نے شریف برادران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف سن لیں میں آرہا ہوں اور عمران خان کے ساتھ مل کر حکومت بناؤں گا۔ بدمعاشوں، چورلٹیروں، منی لانڈرزکے لیے شیخ رشید سیاسی موت ثابت ہوگا، مخالفین نے جس فیصلے کو میرے لیے سیاسی موت بنانا چاہا وہ خود ان کے لیے سیاسی موت بن گیا ہے، اگر میرے خلاف بھی فیصلہ آتا تو بھی میں اسے قبول کرتا کیونکہ میں نواز شریف کی طرح نا تو جی ایچ کیو کے گیٹ 4 کی پیداوار ہوں اور نا ہی میں فوجی نرسری سے پیدا ہوا ہوں۔

2013 کے انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان نے الیکشن ٹریبونل میں شیخ رشید پر کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا تھا۔ الیکشن ٹریبونل نے شکیل اعوان کی درخواست مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد بھی شکیل اعوان نے شیخ رشید کے خلاف عدالتی جنگ جاری رکھی اورمعاملہ سپریم کورٹ تک جاپہنچا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی تھی اور20 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ شکیل اعوان کا مؤقف تھا کہ شیخ رشید نے 2013 کے عام انتخابات کے دوران کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپائے۔ شیخ رشید نے گھر کی قیمت ایک کروڑ 2 لاکھ ظاہر کی جب کہ اس گھر کی بکنگ ہی 4 کروڑ80 لاکھ سے شروع ہوئی تھی۔ عدالت کے روبرو شیخ رشید نے اسے اپنی غلطی تسلیم کیا تھا۔