91

اِنتخابی نشانات: دلرباانداز!

پاکستان کی ایک اور امتیازی شان یہ بھی ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور اور نظریات سے زیادہ انتخابی نشانات سے پہچانی اور اِن نشانات پر فخر کرتی ہیں!ہم سوچتے ہیں کہ کسی جماعت نے کوئی خاص شے ہی بطور انتخابی نشان کیوں منتخب کی یا اسے کوئی مخصوص نشان ہی کیوں دیا گیا؟ پھر اِس نشان کی توجیح کیا ہے اور اس سے بھی پہلے خود نشان کی صحیح شناخت کا تعین بہت ضروری ہے؟ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرینز (پی پی پی پی) کا انتخابی نشان ’’تیر‘‘ بغیر کمان ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تیر بناء کمان کس کام کا ہو سکتا ہے؟ یہ تنہا تیر تو راستے بتانے کی علامت کے طور پر ہی کام آسکتا ہے مگر آصف زرداری کا کمال یہ ہے کہ وہ کمان میسر نہ بھی ہو تو غلیل میں رکھ کر تیر چلاسکتے ہیں بلکہ تیر کو نیزے کی طرح پھینک کر نشانہ لگانے کے ماہر ہیں۔ سینیٹ انتخابات کے موقع پر انہوں نے اِسی مہارت کا مظاہرہ کیا تھا۔پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا انتخابی نشان شیر ہے جس کے بارے میں ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہ جنگل کا شیر ہے یا کسی سرکس کا یا پھر اِس کی ساری عمر کسی چڑیا گھر کے پنجرے میں گزری ہے۔ پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ زندہ شیر بھی ہے یا اب تک شکار ہوچکا ہے؟ ویسے نواز لیگ کی قیادت اور شیر (کے مزاج) میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شیر‘ دہشت اور درندگی کی علامت ہے اور نواز لیگ کی قیادت ’شریف‘ ٹھہری۔ شیر جنگل کے ’عوام‘ کو دیکھتے ہی جھپٹتا ہے اور نواز لیگ نے عوام سے چاہے جتنا بھی کھایا ہو مگر کبھی عوام کو نہیں کھایا‘ اب کہیں جا کے دونوں میں یہ مماثلت ہوئی ہے کہ دونوں کو معدومیت کا خطرہ درپیش ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے حصے میں (کرکٹ کے) بلے کا نشان آیا ہے اور یہاں بھی واضح نہیں کہ یہ بلا رنز کے انبار لگانے والے یونس خان کا ہے یا ’’ٹک ٹک‘‘ کرنے والے مصباح الحق کا۔ کیا یہ بلا شاہد آفریدی کی طرح تیزرفتار رنز بنائے گا یا اِس کے ذریعے ’صفر‘ جیسی غیر یقینی صورت حال ہاتھ آئے گی؟ کھیل (عام انتخابات) کے جملہ تماشائیوں کی نظریں اس مرتبہ بلے کے نشان پر جمی ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے دور میں شاندار فاسٹ باؤلر اور آل روانڈر کھلاڑی تھے‘ اس اعتبار سے ان کی جماعت کا نشان گیند ہونی چاہئے تھی‘ اِدھر سے اُدھر لڑھکتی گیند ہی ان کے لئے موزوں نشان تھی۔ خیر بلا بھی ناموزوں نہیں‘ گیند تو مستقل گراؤنڈ میں رہتی ہے مگر بلا امپائر کی انگلی کے اشارے پر آتا ہے اور چلا جاتا ہے تو معنوی لحاظ سے بلے کا نشان یہاں زیادہ موزوں اور حسب حال دکھائی دیتا ہے۔ دینی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ کا انتخابی نشان ’کتاب‘ کے حوالے سے بھی یہی سوال ہے کہ آخر یہ کون سی کتاب ہے؟ مجلس عمل والے کتنے بھولے بھالے ہیں‘ جانتے ہی نہیں کہ پاکستان میں کتابیں پڑھنے سے دلچسپی نہیں رہی۔ اچھا ہوتا کہ وہ صرف کتاب (book) کی بجائے فیس بک (facebook) کے انتخابی نشان کا انتخاب کرتے جو زیادہ پرکشش اور مقبول ثابت ہوتا۔ ایم ایم اے کے رہنما ویسے بھی خود کو زیادہ محفوظ ’فیس بک‘ پر ہی سمجھتے ہیں!متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا انتخابی نشان ’’پتنگ‘‘ خود بھی یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ ’میری ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔‘ وہ بے چاری فضاؤں میں ڈولتی اور گاتی پھر رہی ہے ’میری زندگی ہے کیا ۔۔۔ اک کٹی پتنگ ہے۔‘

پچھلے سال تک متحدہ کی گڈی چڑھی ہوئی تھی‘ اِس گڈی کی ڈور لندن میں بیٹھے گڈو (بابو جی) کے ہاتھ میں اسی طرح تھی‘ جس طرح متحدہ کے سارے چابی کے گڈے اس کی انگلیوں کے اشاروں پر چلتے تھے لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے کہ متحدہ کے رہنما پتنگ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں‘ پتا نہیں وہ بہادر آباد میں گرتی ہے یا پی آئی بی میں لینڈ کرتی ہے۔ پتنگ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اسے ایک وقت میں ایک ہی شخص (پتنگ باز سجنا) اُڑا سکتا ہے اور فی الوقت متحدہ میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی ایک سجنا سامنے آئے۔ بھائی لوگوں کو چاہئے تھا کہ پتنگ کی جگہ پلنگ‘ صوفے‘ فرش‘ چادر یا چٹائی کو انتخابی نشان چنتے تاکہ ایک جگہ مل بیٹھ کر اُس اتحاد کا مظاہرہ ہو سکتا جس کی کمی لفظ متحدہ میں محسوس ہو رہی ہے!شکوہ جواب شکوہ ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کا انتخابی نشان ’’ڈولفن‘‘ ہے لیکن زیادہ مناسب ’مچھلی پکڑنے والا جال‘‘ ہوسکتا تھا۔ ایک حد تک ڈولفن مچھلی کا نشان بھی نامناسب نہیں کیونکہ ڈولفن تماشا گر مچھلی ہے اور یہ اشاروں پر کرتب دکھاتی ہے۔ پاک سرزمین پارٹی نے یہ محاورہ غلط ثابت کر دیا ہے کہ ۔۔۔ ’’ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کردیتی ہے۔‘‘ اس نومولود سیاسی جماعت نے تو یہ اصول دیا ہے کہ اگر تالاب اچھا ہو تو اس میں آکر گندی سے گندی مچھلی بھی صاف ستھری اور اچھی ہوجاتی ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کی قیادت پرویز مشرف کر رہے ہیں جنہوں نے ’’عقاب‘‘ کا نشان بہت سوچ سمجھ چنا ہے۔ یہ جماعت اپنے بانی رہنما کو علامہ اقبال کا شاہین سمجھتی ہے افسوس کہ جنہیں قصرِ سلطانی چھوڑ کر پہاڑوں کی چٹانوں پر آباد ہونا چاہئے تھا وہ لندن کے مکانوں پر جا اُترے ہیں! جو ایک کھلا تضاد ہے!