229

قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس

قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کو مسترد کردیا ہے، کمیٹی کے گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس کی کاروائی سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیاگیا ہے، اجلاس کے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ الزام تراشی سے امن قائم نہیں ہوگا، افغانستان بین الاقوامی دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے، دریں اثناء آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت ہونیوالی کورکمانڈرز کانفرنس میں صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان اور سرحدی معاملات پر غور ہوا ہے، اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے نکات کو حتمی شکل دی گئی، دوسری جانب امریکہ نے پاکستان کی 255 ملین ڈالر فوجی امداد بحال کرنے کا امکان مسترد کردیاہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس امداد کو پاکستان میں گرفتارشکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کا ایک مطالبہ بھی امریکی سینیٹر کی جانب سے ریکارڈ پر آرہا ہے، وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اب تک دی جانیوالی امداد کا آڈٹ کرالیں، چین کی جانب سے امریکی صدر کے بیان پر کہاگیا ہے کہ پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیاجانا چاہئے، ۔

ضرورت ایک ایسے مشترکہ اور مضبوط موقف کی ہے کہ جس پر یک آواز ہوکر دنیا کو بتایاجائے کہ امداد اور ڈالروں کا حساب کتاب اپنی جگہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے نقصانات کا تخمینہ ایک کھرب ڈالر سے بھی زائد لگایاگیا ہے، ساری زمینی صورتحال سے چشم پوشی کرنیوالے ڈومور کے جاری مطالبے کا نومور کی صورت جواب ملنے پر سخت جھنجلاہٹ کا شکار ہیں، وہ اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کی قیمتی جانی قربانیوں کی قیمت کسی صورت چکائی ہی نہیں جاسکتی، وہ اس سے بھی چشم پوشی کررہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت امن وامان کی صورتحال میں بری طرح متاثر ہو چکی ہے، اس بات سے بھی نظریں چرائی جارہی ہیں کہ پاکستان اس وقت بھی لاکھوں افغان مہاجرین کا میزبان ہے، یہ سارے حقائق اسی صورت مضبوط طریقے سے اٹھائے جاسکتے ہیں جب سیاسی تناؤ اور گرما گرمی کو ایک طرف کرتے ہوئے اس اہم معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے، اس مقصد کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا اچھی تجویز ہی ثابت ہوگا۔

ملاوٹ سے متعلق انکشافات

22کروڑ سے زائد خریداروں کیساتھ پاکستان کو دنیا کی ساتویں بڑی صارف مارکیٹ قرار دیاجارہا ہے جس میں ملنے والے دودھ میں کینسر کی وجہ بننے والے کیمیکلز ڈالے جارہے ہیں‘اسی مارکیٹ میں کھانے پینے کی دیگر اشیاء میں ملاوٹ کا دھندہ زور وشور سے جاری ہے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے انکشافات ہر سطح پر ایڈمنسٹریشن کیلئے سوالیہ نشان ہیں، کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آنیوالے شواہد کے مطابق دودھ کی پیداوار بڑھانے کیلئے بھینسوں کو انجکشن لگائے جاتے ہیں‘کانگو وائرس والے ممالک سے گوشت درآمد ہورہا ہے، دودھ میں فارملین موجود ہے‘ کمیٹی کو دی جانیوالی بریفنگ میں جو صورتحال بتائی گئی ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ مرکز اور صوبے صرف ایک پوائنٹ پر اعلیٰ سطحی رابطے ٹھوس حکمت عملی اور اس پر عمل درآمد یقینی بنائیں، اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ گرانی کے مارے غریب اور متوسط شہری کم ازکم صاف پانی اور ملاوٹ سے پاک خوراک تو حاصل کرپائیں۔