89

ایمنسٹی سکیم اور معیشت کو درپیش چیلنج

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایمنسٹی سکیم میں مداخلت نہ کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ مذکورہ سکیم حکومت کی وجہ سے فیل ہوئی جو نہیں ہونی چاہئے تھی چیف جسٹس آف پاکستان کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ قرضوں پے قرضے لئے جارہے ہیں وہ نسل جو ابھی نہیں آئی اس پر بھی قرضے لاد دیئے گئے ہیں سمگلنگ کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے صنعتوں کو اٹھنے ہی نہیں دیا گیا وہ معیشت کی بحالی کیلئے تھنک ٹینک بنانے کا کہنے کیساتھ یہ استفسار بھی کرتے ہیں کہ ملکی وسائل اور ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے عین اسی روز جب عدالت عظمیٰ ایمنسٹی سکیم میں مداخلت نہ کرنے کیساتھ معیشت کے حوالے سے اہم امور کی نشاندہی کررہی تھی وطن عزیز کی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر122روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکاتھا تجارتی خسارے سے متعلق مہیا اعدادوشمار میں یہ بھی بتایا جا رہا تھا کہ اس کا حجم34ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر ہے نگران وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کا اسی روز پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ نگران حکومت آئی ایم ایف کے پاس نہیں جارہی وزارت خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق بجٹ خسارہ4.1 سے بڑھ کر6.1 فیصدہو رہا ہے قرضوں میں اضافہ غیر معمولی ہے۔

2013 میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرضہ64 فیصد تھا جو اس وقت71فیصد سے تجاوز کرگیا ہے سرکاری کارپوریشنوں کے خسارے بھی بڑھ گئے ہیں اس پورے منظر نامے میں ڈالر کی قدر بڑھنے پر بیرونی ادائیگیوں کا سلسلہ متاثر ہورہا ہے تو پٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے نرخوں نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے اس ساری صورتحال میں مارکیٹ بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور گرانی کا طوفان مزید شدت اختیار کررہا ہے اس وقت حکومت کو ایک جانب معیشت کی بحالی اور استحکام کیلئے اقدامات اٹھانا ہونگے تو دوسری صرف مارکیٹ کنٹرول کیلئے فول پروف نظام دینا ہوگا معیشت کی بحالی و استحکام اسی صورت ممکن ہے جب ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے مستقبل کیلئے ٹھوس اور موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے اس بات کا خصوصی اہتمام بھی ناگزیر ہے کہ ہماری کوئی بھی حکمت عملی تکنیکی مہارت سے عاری نہ ہو۔

جنرل باجوہ کا دورہ کابل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ون آن ون جبکہ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل نکلسن سے وفود کے ہمراہ تبادلہ خیال میں دوطرفہ تعلقات اور مصالحت کی کوششوں پر بات ہوئی آرمی چیف کی کابل روانگی سے قبل پاک فوج کے ترجمان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی اتحادی حکومت امریکہ اور نیٹو فورسز کی طرف سے ملک میں قیام امن کی کوششوں کی کامیابی کا خواہاں ہے پاکستان افغانستان میں قومی اتفاق سے بننے والی حکومت کا خواہشمند ہے یہ حقیقت ہے کہ پاکستان افغانستان کے حالات سے متاثر چلاآرہاہے اس میں قیمتی جانوں کی قربانی کیساتھ پاکستان کی معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے ایسے میں افغانستان میں امن کی خواہش پوری کرنے کیلئے پاکستان کی کاوشیں سب کے سامنے ہیں اس صورتحال میں ضرورت پاکستان کے موقف کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کی ہے اور یہ کام افغانستان کیساتھ اسکے دیگر اتحادیوں کا بھی ہے اس میں امریکہ کو بھی اب ڈومور کی گردان چھوڑنا ہوگی اورپاکستان کے مثبت طرز عمل کا مثبت جواب دینا ہوگا۔