87

ڈسپلن:کائنات کاراز

میں ساری عمر پانی سے ڈرتارہا اور اسی لئے کبھی تیرنا نہیں سیکھ سکا‘ پوری دنیا گھوما اور ہر جگہ ساحل سمندر پر حسرت سے اپنے دوستوں اور یاروں کو پانی سے آنکھ مچولی کرتے دیکھا۔ ویسے میں اپنی عام زندگی میں کافی چست رہا ہوں‘ تیز چہل قدمی‘ تھوڑی بہت جم اور خوراک پر قابو رکھتا رہا ہوں‘ تاہم چند ماہ قبل چند دوستوں اور بیٹے کے کہنے پر باقاعدہ جم جوائن کی۔ گرمی کے شروع ہوتے ہی سوئمنگ پول کھلا تو مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ ساری عمر کے اس پانی کے ڈر کو ختم کیا جائے۔ پول میں ایک انسٹرکٹر سے رابطہ کیا اور اللہ کا نام لے کر پانی میں چھلانگ لگادی۔ رمضان سے چند دن قبل میں نے تین فٹ پانی میں پہلا غوطہ لگایا اور بیس پچیس دن کے اندر میں بارہ فٹ گہرائی میں تیر رہا تھا‘اس عمر میں تیرنا سیکھنا میرے اپنے توقعات کے خلاف تھا لیکن پانی کے ڈر سے میں یہ جنگ جیت گیا اور اب پشاور سے کہیں دور جانا پڑتا ہے تو سب سے پہلے معلوم کرتا ہوں کہ نزدیک ترین سوئمنگ پول کہاں پر ہے۔ کوپ کوپمئر ایک عظیم مصنف ہیں‘انہوں نے کامیابی کے گُروں پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے کامیابی کے ہزار سے زائد اصول لکھے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ کامیابی کا سب سے بڑا اصول ہے کہ ’جو کام کرنا ہے ‘ وہ کرو اور جس وقت کرنا ہو ‘ کرلیا کرو‘ خواہ تمہارا دل کرنا چاہے یا نہ چاہے‘ اسے دوسرے الفاظ میں ڈسپلن کہا جاتا ہے۔

یہی وہ تنظیم ہے جس کی قائد اعظم نے بار بار تلقین فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری کائنات میں اسی اصول کو مد نظر رکھا ہے۔ ذرا سورج ‘چاند ستاروں‘ ایٹم ‘ الیکٹران‘ پروٹان اور نیوٹران کی نقل و حرکت پر ہی نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ڈسپلن ہی اس ساری کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر پر جو پیغام اور دین اُتارا‘ وہ چیخ چیخ کر ڈسپلن کا تقاضا کررہا ہے‘ نماز کی صف کی تلقین تو ثابت ہی ہے اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں کہ بیت اللہ میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ہی تیس لاکھ کا مجمع صفوں میں سیدھا کھڑا ہوجاتاہے‘اس سارے عمل میں ایک منٹ بھی نہیں لگتا‘ دنیا کی بڑی سے بڑی اور تربیت یافتہ فوج بھی ایک منٹ میں اتنے غیر تربیت یافتہ افراد کوسیدھی صفوں میں نہیں کھڑا کرسکتی‘ لیکن بس ہماری ساری تنظیم اسی صف تک رہ جاتی ہے۔ مسجد سے نکلنا ہو یا وضوخانے کی افراتفری‘ ہمیں وہ سارا ڈسپلن بھول جاتا ہے‘ محض ایک نظر مسجد کی سیڑھیوں پر رکھے جوتوں کی ترتیب پر ڈالنا ہی طبیعت مکدّر کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ اب تو ماشاء اللہ امیر لوگوں میں بھی مذہبی خشوع ووضوع بہت سرائیت کرگیا ہے۔ تاہم مسجد کے باہر گاڑیوں کی پارکنگ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کے ڈسپلن نے ہماری روزمرہ زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالاہے‘جمعہ کے دن ہر مسجد کے باہر سڑک آمد ورفت کیلئے بند ہوتی ہے ‘حالانکہ آمدورفت کے راستے پر نماز ہوتی ہی نہیں۔تمام مسلمان ممالک کم و بیش ڈسپلن کے اسی فقدان کا شکار ہیں‘ ہمارے ملک میں بھی بالعموم تمام ادارے اس صالحیت سے محروم ہیں خواہ وہ تعلیمی ادارے ہوں‘ بزنس سنٹر ہوں‘ سیاسی جماعتیں ہوں‘ این جی اوز ہوں یا سرکاری محکمے۔ لے دے کے ایک ہی ادارہ اس وقت باقی رہ گیا ہے جو ڈسپلن کی نہ صرف پاسداری کررہا ہے بلکہ ایک چین آف کمانڈ کو جیسے تیسے مان رہا ہے‘ اس کا یہی ڈسپلن ہے جو ستر سال سے اسکی کامیابی کا راز ہے‘ اب بھی نوجوانوں کو اس ادارے میں منتخب ہونے پر فخر ہوتا ہے۔

حالانکہ اس ادارے کی سخت تربیت بہت سے نوجوانوں کی چیخیں نکال دیتی ہے۔ اس کا یہی ڈسپلن ہے کہ اس کے ریٹائر ملازمین کو محض ڈسپلن قائم کرنے کیلئے بڑی آسانی سے جاب مل جاتی ہے‘ کرپشن ہمارے ملک میں عام ہے اور انفرادی سطح پر کم ہی ایسے لوگ ہوں گے جو ہر طرح سے کرپشن سے پاک ہوں۔ اس لئے یہ توقع کرنا کہ کرپشن کے اس سمندر میں سے ہمیں دودھوں دُھلا کوئی ملے گا‘ عبث ہے۔ جس کا جتنا بس چلتا ہے اتنا ہی لوٹتا ہے۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں‘ اگر ریڑھی والاآپ کی نظر چوکتے ہی گلے سڑے پھل آپ کے تھیلے میں ڈالتا ہے تو آپ کا افسر‘ آپ کا وزیر اور آپ کا مولانا بھی یہی کام کررہا ہے۔ لیکن اس کرپشن کے سمندر میں بھی اگر کوئی ڈسپلن کے نام سے نظام چل رہا ہے تو وہ اسی ایک محکمے کا ہے۔ گویا مقابلہ کرپشن یا شفافیت کا نہیں صرف ڈسپلن کا ہے۔ کرپشن ایک عام بیماری ہے جس کیلئے پورے جسم کو ریڈیائی شعاعوں کی ضرورت ہے لیکن ڈسپلن سیکھنا سکھانا پڑتا ہے۔ بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ صبح اس ٹھنڈ میں اٹھنا پڑتا ہے جس میں کوئی دوسرا لحاف سے نکلنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سر ہتھیلی پر رکھنا پڑتا ہے۔ اپنوں پرایوں کے طعنے جھیلنے پڑتے ہیں۔ زندگی اور موت کے فیصلے کرنے پڑتے ہیں‘ اس لئے وہ تمام ادارے جو اس وقت اختیار حاصل کرنے کے مقابلے میں ہیں‘ ان کو سب سے پہلے اپنے آپ پر کوئی نظم طاری کرنا ہوگا۔ کسی نہ کسی کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ کسی نہ کسی اصول کو اپنانا پڑے گا تب کہیں جاکر مد مقابل آیا جاسکتا ہے‘ ہماری بقاء کیلئے ڈسپلن بہت ضروری ہے اور اگر کہیں کوئی ادارہ اس قابل ہے کہ وہ اس نظم کو برقرار رکھ سکے تو بقیہ سٹیک ہولڈرز کو چاہئے کہ اپنی ہی بقا کیلئے اسی ایک ادارے کے درپے نہ ہوں۔ اس وقت اس ادارے کے خلاف جو بھی مہم چلتی ہے‘ فوراً ہی ملک دشمن کیمپوں اور ممالک سے اس کی حمایت شروع ہوجاتی ہے۔ جب کسی ادارے میں ڈسپلن ہو تو اسکے ارکان بیس تیس سالہ معمول کے بعد بھی کسی نہ کسی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں اور اسی لئے ہر جگہ کامیاب ہوتے ہیں۔ تو کیا ہوا اگر اسی ادارے کے تحت ہاؤسنگ سکیمیں کامیاب ہیں ‘کیا ہوا کہ اس کے ہسپتال لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تو کیا ہوا اگر اس کی کنسٹرکشن کمپنی دوسروں سے بہتر کام کررہی ہے۔ تو کیا ہوا اگر اس کے ٹرانسپورٹ ادارے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ وہ بھی تو سب اسی قوم کے اندر رہ کر کام کررہے ہیں۔ کسی ملک کی ترقی میں تمام ادارے اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن اگر صرف ایک ہی ادارہ ڈسپلن رکھتا ہوا ور دوسرے تمام ادارے جم غفیر بنے ہوئے ہوں تو مجبوراً اسی ادارے پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔