102

انتخابی امیدوار

جونہی انتخابات کی ہوا چلتی ہے سیاسی پارٹیاں اور آزاد امیدوار بھانت بھانت کی بولیاں لئے میدان میں نکل کھڑے ہوتے ہیں‘یہ سیاسی میدان کے پھیلاؤ تک ہے کہ کس قسم کے امیدوار میدان عمل میں سینہ ٹھونک کر نکلتے ہیں اگرمیدان لوکل گورنمنٹ کا ہو تو اس کے امیدواران کی قسم الگ ہوتی ہے‘ یہ ہمارے محلوں اور گاؤں کے کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں جن کا اور کچھ کام نہیں ہوتا تو وہ اپنی مصروفیت انتخابات میں حاصل کر لیتے ہیں‘ لوکل گورنمنٹ کے لوگوں کی قسم کچھ ایسی ہوتی ہے کہ جنہوں نے گاؤں کی سطح پر شادی بیاہ اور دعا جنازے میں کھل کر شرکت کی ہوتی ہے‘ ویسے گاؤں میں تو دعا جنازے میں ہر کوئی شامل ہوتا ہی ہے مگر اس میں ایک خاص قسم کے شمولیت داروں کی ہوتی ہے کہ جو جنازے کے بعد پورے زور سے کہتے ہیں ’دعا کرو جی‘یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی حاضری ضرو ر لگواتے ہیں اور جب انتخابات کا زمانہ آتا ہے تو ہرچھوٹا بڑا جانتا ہے کہ یہ آدمی ہر کسی کے جنازے میں شریک ہوتا رہا ہے اور یہ شرکت اسکو کافی فائدہ دے جاتی ہے‘ ایسے بھی لوگ دیکھے گئے ہیں کہ جو لوگوں کی مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں‘ کسی کے کھیت سے کٹائی ہو رہی ہو تو یہ شریک دکھائی دیں گے ‘کسی کے گھاس کی کٹائی ہو تو ان کی حاضری نظر آتی ہے ‘ کسی کے ہاں کوئی بیماری کا حملہ ہوا ہو تویہ بیمار پرسی کو ضرور حاضر ہوں گے‘ کوئی ہسپتال میں داخل ہے تو ان کی وہاں حاضری ضرور ہو گی‘ایسے حضرات کیلئے اہل علاقہ میں ایک ہمدردی اور چاہت کا جذبہ پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے‘ چنانچہ جب ایسے لوگ لوکل گورنمنٹ میں کسی سیٹ کے لئے امیدوارہوں تو ان کا جیتنا لازم ہو جاتا ہے بلکہ ایسے لوگوں کو اہل علاقہ خو دامیدوار کے طور پر لے آتے ہیں ان میں کچھ فصلی بٹیرے بھی ہوتے ہیں کہ جب ایک حکومت کا خاتمہ ہو رہاہوتا ہے تو یہ لوگ ان دنوں کافی متحرک دکھائی دیتے ہیں اور حلقے میں کہیں بھی کوئی فوتگی ہو تو یہ اس جنازے اوردعامیں ضرور اپنی شمولیت ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے لوگ حلقے کے کسی بھی گاؤں یا محلے کی کسی بھی ضرورت کے وقت آگے آگے ہوتے ہیں اور جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو ایسے لوگ عوام کی آنکھوں میں ہوتے ہیں اور وہ ان کو اس دعا جنازے کی شرکت کے سبب ضرور ووٹ دیتے ہیں۔

گو ان کا یہ عمل صرف ووٹوں کے ہی قریب کے دنوں میں ظاہر ہوتا ہے مگر یہ بھی کافی کام کر جاتا ہے‘ ہمارے ہاں تو رواج ہے کہ اگر آپ گاؤں کے کسی بھی دعا جنازے میں شریک نہیں ہوتے تو کل کلاں کو آپ یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ آپ کے کسی غم میں کوئی گاؤں کا بندہ شریک ہو گا‘ اس کی کئی مثالیں ہم نے دیکھی ہیں کہ کچھ لوگوں نے اپنی پوزیشن کی وجہ سے گاؤں یا اپنے محلے کو نظر انداز کیا تو جب ان پر وقت بنا تو کوئی بھی ان کے ہاں نہیں گیا نا چار ان کو اپنی میت کیلئے باہر سے بندوبست کروانا پڑا‘ اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جو سیاسی شخصیت اپنے شہر یا گاؤں کے جنازوں میں شریک نہیں ہوئی اس کو اہل علاقہ نے کبھی ووٹ نہیں دیا اور وہ ایک ہار کے بعد جب اپنا جائزہ لیتے ہیں تو پھر وہ خود کو سوشل ثابت کرتے ہیں اورپھرہردعااورجنازے میں ضرورشریک ہوتے ہیں‘یہ ہماری نفسیات میں شامل ہے کہ ہم اس شخص کو کبھی گھاس نہیں ڈالتے جو گاؤں یا شہر کے دکھ سکھ میں شریک نہیں ہوتا۔

جب انتخابات کا زمانہ آتاہے تو یہ سیاسی لوگ کھمبیوں کی طرح گاؤں اور شہر کے ہر جنازے میں شریک نظر آتے ہیں اور ہر چھوٹے بڑے کو سلام کرتے نظر آتے ہیں اور جب انتخابات ختم ہو جاتے ہیں تو یہی لوگ جو ہروقت آپکے دروازے پر نظر آتے تھے آپ کو دور سے دیکھ کر راہ بدل لیں گے‘یہ ہمارے سیاستدانوں کی عادت ہے کہ یہ جیتنے کے بعد یاٹی وی پر نظر آتے ہیں یا کسی جلسے میں ۔ یہ ان عوام کو مُڑ کر بھی نہیں دیکھتے جنہوں نے ان کو اسمبلی تک پہنچایا ہوتا ہے‘ مگر اس دفعہ توکچھ علاقوں میں لوگوں نے اپنے نمائندوں کا خوب استقبال بھی کیا ہے جو ووٹ لینے کے پانچ سال بعد ان کے پُرسے کے لئے آئے تھے‘ ان کا اتنا عمدہ استقبال کیا گیا کہ اب وہ ووٹ مانگنے کی بھی جرات نہیں کریں گے‘ اگر ہم اپنے نمائندوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں تو پھر شاید کچھ تبدیلی آجائے اور امیدوار کو جیتنے کے بعد بھی اپنے ووٹر یاد رہیں۔