165

ڈکٹیشن نہیں چلے گی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کوئی رقم شہداء کی قربانیوں کی قیمت نہیں چکا سکتی۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی فوج کا چیف ہوں جس کے جوان اس ملک پر ہر وقت اپنی جان نچھاور کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ دریں اثناء پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے امریکی صدر کے ٹوئٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا کہ ہمیں کیسے چلنا ہے‘ پاک فوج کے ترجمان یہ بھی کلیئر کرتے ہیں کہ بھارت سے درپیش مسائل حل کئے بغیر خطے میں امن مشکل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے پیسوں کے لئے جنگ نہیں لڑی امریکہ اب بھی دوست ہے چاہتے ہیں کہ افغانستان میں کامیاب ہوجائے، ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں کہ فوج کسی سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنے گی، وزیرخارجہ خواجہ آصف33 ارب ڈالر کی امداد کے امریکی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، وزیردفاع خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ ماضی ہمیں سبق سکھاتا ہے کہ امریکہ پر اعتماد میں احتیاط کریں، میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جانب سے مطالبات پر مشتمل نئی فہرست جلد آنے والی ہے تاہم تادم تحریر اس طرح کی فہرست موصول نہیں ہوئی، قومی سلامتی کیلئے امریکی مشیر کا ایک بار پھر یہی کہنا ہے کہ پاکستان نے ہم سے ڈبل گیم کھیلی ہے۔

دنیا اس بات سے چاہتے ہوئے بھی چشم پوشی نہیں کرسکتی کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ دوسرے کسی نے نہیں دیں اور اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ انسانی جان کی قیمت نہیں چکائی جاسکتی اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ امریکہ افغانستان میں ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کرپایا اگر ہم تمام باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج بھی ایک پیج پر رہیں تو صورتحال کا مقابلہ آسانی سے کرنے کیساتھ اپنے اصولی اور جائز موقف کو ہر سطح پر تسلیم کراسکتے ہیں‘اس وقت بھی پاکستان سے جانیوالا جواب موثرہے گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی اسکے ساتھ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کیلئے اجازت دی گئی ہے‘ افغانستان بھارت اور امریکہ کی جانب سے الزام تراشیوں کے نہ رکنے والے سلسلے کو حقائق کی کسوٹی پر دیکھا جائے تو پاکستان کا موقف اور کردار شفاف ہے، عالمی برادری کو اس ضمن میں غیر جانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کے موقف کو ہی سپورٹ کرنا چاہیے۔

بزرگ شہریوں کیلئے رعایت؟

خیبر پختونخوا حکومت نے 60 سال اور اس سے زائد عمر کے شہریوں کو ہسپتالوں میں معائنہ اور داخلہ فیس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے تاہم یہ سہولت صوبائی دارلحکومت کے بڑے ہسپتالوں میں نہیں ہوگی۔ بزرگ شہریوں کے لئے سہولت قابل اطمینان سہی لیکن اس کا دائرہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں تک وسیع کرکے ہی اسے زیادہ ثمر آور بنایاجاسکتا ہے وفاق اور صوبوں کی جانب سے بزرگ شہریوں کیلئے متعدد اعلانات ریکارڈ پر موجود ہیں تاہم ان کے عملی نفاذ پر توجہ کم ہی مرکوز کی گئی ہے‘ بسوں کا کرایہ ہو یا پھر بینکوں میں براہ راست سروسز کا انتظام عملی طورپر بزرگ مشکلات کا شکار ہی نظر آتے ہیں، کوئی بھی پالیسی اسی صورت ثمرآور قرار دی جا سکتی ہے جب اس پر عملدرآمد کیلئے موثر مکینزم موجود ہو۔