124

بڑے کیس کا بڑا فیصلہ

احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ‘ ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کو سزا سنادی ہے‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق نواز شریف کو 10‘ مریم نواز کو 7جبکہ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ‘عدالت نے ایون فیلڈاپارٹمنٹس کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دینے کیساتھ نواز شریف کو 80لاکھ جبکہ مریم نواز کو20لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی سنایا‘ جمعہ کے روز آنیوالے بڑے عدالتی فیصلے کا بے چینی سے انتظار کیاگیا اور عدالت کی جانب سے بار بار فیصلہ سنائے جانے کا وقت تبدیل ہوتا رہا‘ اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کئے گئے‘ مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے احتساب عدالت کے فیصلے کو ناانصافی پر مبنی قرار دیا‘ فیصلہ آنے کے فوراً بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو سیاہ حروف سے لکھاجائے گا‘ اس سب کیساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ضمن میں آئینی اور قانونی راستے اختیار کئے جائیں گے‘۔

انہوں نے اپنی جماعت کے امیدواروں کو انتخابی مہم جاری رکھنے کا بھی کہا‘شہباز شریف نے کہا کہ 25جولائی کو عوامی عدالت نوازشریف اور ان کی جماعت کے حق میں فیصلہ دے گی‘ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ آج ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے‘عمران خان کا جلسہ عام سے خطاب میں کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر شکر ادا کرتے ہیں‘ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے سے قبل عدالت نے فیصلہ مؤخر کرنے سے متعلق نوازشریف کی درخواست مسترد کردی ‘درخواست میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم 6جولائی کو پاکستان نہیں آسکتے‘ لہٰذا کچھ روز کیلئے فیصلے کو مؤخر کیا جائے‘ احتساب عدالت کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں انتخابی مہم جاری ہے اور بڑے پاورشوز کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے‘ ملک میں سیاسی درجہ حرارت تو انتخابی مہم سے قبل بھی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتا رہا ہے‘ اسوقت سیاسی قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فضاء ساز گاررکھیں‘ اس مقصد کیلئے جماعتی نظم ونسق پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا نوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے حکومت سے جواز بھی دینے کو کہا ہے‘ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس میں سیل اورلینڈ پرائس میں فرق پر ماہرین کی رائے کو بھی ناگزیر قرار دیاگیا ہے‘ پاکستان سٹیٹ آئل کا کہنا ہے کہ پٹرولیم منصوعات کے نرخوں میں اضافے پرصرف رواں مہینے میں شہریوں کو 70ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ برداشت کرنا ہوگا‘ وطن عزیز کا یہ شہری بجلی کے بلوں میں بھی اربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہے‘ اعداد وشمار یہ بات بھی بتاتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 4سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے‘ بنیادی سہولتوں کا فقدان اور بیروزگاری جیسی مشکلات علیحدہ ہیں‘درپیش حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی سطح پرمعیشت کے استحکام اور عوام کی ریلیف کیلئے مطلوبہ اقدامات اٹھانے میں مجموعی طورپر ناکامی ہی رہی ہے‘ دوسری جانب مارکیٹ کنٹرول کا کوئی انتظام موثرا ور ثمر آور دکھائی نہیں دیتا‘ اسکے باوجود مشرف دور میں سمیٹا جانیوالا مجسٹریسی نظام بحال کرنے پر بھی مطلوبہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی جو اس بات کی عکاسی ہے کہ عوامی ریلیف کیلئے اقدامات ترجیحات کی فہرست میں بہت پیچھے ہیں۔