73

انتخابات: عدم مساوات

عوامی نیشنل پارٹی عام انتخابات میں حصہ بھی لے رہی ہے اور اسکے صاحب بصیرت اسفند یار ولی خان سربراہ نے اس خدشے کا ظاہر بھی کیا ہے کہ ’آئندہ انتخابات صاف و شفاف نہیں ہوں گے۔‘ یہ دونوں متضاد باتیں‘ جن میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہی ہوگا۔ بدھ کے روز پشاور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسفند یار ولی خان نے یہ الزام تو لگایا کہ ’انکی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے‘لیکن انہوں نے اس قوت کا نام نہیں لیا جو مبینہ طور پر اے این پی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے اے این پی کے سربراہ نے واضح کیا کہ ’ہر داڑھی والا طالبان نہیں لیکن میں طالبان سے کہتا ہوں کہ اگر وہ پختون ہیں تو چھپ کر اور پیچھے سے وار نہ کریں‘ کھل کر سامنے آئیں اور مقابلہ کریں ہم تیار ہیں۔‘ کون تیار ہے اور کس نے قربانی کیلئے عوام کو ڈھال کر رکھا ہے‘ یہ الگ الگ موضوعات ہیں! لیکن سیاسی شعور میں عام آدمی کو اپنے سودوزیاں کا اسی طرح سوچنا پڑیگا‘ جس طرح سیاسی قائدین جمع منفی تفریق کرتے ہیں! اس سے زیادہ حسن ظن ممکن ہی نہیں کہ حالات کی تبدیلی کیلئے سیاسی و انتخابی عمل میں ہر اس شخص سے پیچھے چل پڑتے ہیں جو انہیں منزل تک پہنچانے کی یقین دہانی کرتا ہے۔

’’چہ دا یار نوم اَے سوک اَخلی ورپسے وی ۔۔۔ پہ اجملؔ کہ دا مرض دا لیونو دے!‘‘ بانی پاکستان نے ستر برس قبل دستور ساز اسمبلی کے پہلے منتخب صدر کی حیثیت سے تقریر کرتے ہوئے اسمبلی فلور پر کہا تھا کہ ’آپ آزاد ہیں‘ اپنے مندروں میں جانے کیلئے‘آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں یا پاکستان کی اس ریاست میں واقع کسی بھی دوسری عبادت گاہ جانے کے لئے۔ آپکا تعلق بھلے ہی کسی بھی مذہب‘ ذات یا عقیدے سے ہو‘ ریاست کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ایسے دور کی ابتدا کر رہے ہیں جہاں کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا‘ جہاں برادریوں کے درمیان فرق نہیں ہوگا‘ جہاں ذات اور عقیدے کے درمیان امتیاز نہیں ہوگا‘جہاں ہمارا بنیادی اصول ہوگا کہ سب شہری ہیں اور ریاست کے برابر شہری ہیں‘لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کا یہ بنیادی تصور پورا اور یہ بنیادی مقصد حاصل نہیں ہوسکا‘ پاکستان کی تخلیق کا عمل آسان نہیں تھا‘بہت سے سیاسی اور غیرسیاسی فیصلے کرنے پڑے لیکن ان میں کہیں بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور یہی وہ فرق ہے جو قائد اعظم اور ہماری آج کی سیاسی قیادت میں ہے‘ جنہیں میثاق جمہوریت کی ضرورت پڑتی ہے‘جنہیں قومی مفاہمت کی ضرورت پڑتی ہے اور تو اور جنہیں ہر چند برس بعد ٹیکس ایمنسٹی کی ضرورت پڑتی ہے۔

بڑی سیاسی جماعتیں قائد اعظم کا وژن اور متعین کردہ سمت حقیقت کا روپ نہیں لے سکی۔ بلاشبہ‘ یہ کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ یہ قوم ان کے اس نظریئے سے کہیں زیادہ دور بھٹک چکی ہے۔ بابائے قوم نے خبردار کیا تھا کہ ’حکومت کی پہلی ذمہ داری امن و امان قائم کرنا ہے‘ تاکہ ریاست کی جانب سے عوام کی زندگیوں‘ ملکیت اور مذہبی عقائد کو مکمل تحفظ حاصل ہو‘لیکن سماج نے خود کو انتہاء پسندی اور نفرتوں کے جال میں پھنسا دیا۔ سب سے غلط بات یہ ہوئی کہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھنے والی سیکولر‘ آئینی جمہوری ریاست کا قائد اعظم کا تصور بھی نفرت اور بگاڑ کا شکار بنا‘یقیناًجس طرح قائد اعظم نے اپنی گیارہ اگست کی تقریر میں زور دیا تھا کہ ملک کے اپنے بنیادی نظریات سے ہٹ جانے اور ہنگامہ خیزی کی ذمہ داری سیاسی طبقے پر بھی عائد ہوتی ہے‘ رشوت خوری اور بدعنوانی‘ کالا دھندہ‘ اقرباء پروری اور بے ایمانی‘ وہ تمام برائیاں ہیں جنہیں قائد اعظم نے سویلین اختیار کے زیر انتظام جمہوری‘مساوی اور منصفانہ معاشرے کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں قرار دیا تھا۔ بنیادی سماجی عدم مساوات کو ختم نہ کرنے میں ناکامی جمہوریت کیخلاف جرائم کے برابر ہے! جسکا سامنا آج پاکستان کر رکھا ہے اور رواں ماہ عام انتخابات کیلئے اگر کوئی ایک نعرہ اور صرف ایک ہی کام کرنے کو کامیابی کا پیمانہ تصور کیا جائے تو وہ سماجی عدم مساوات کو ختم کرنا ہوگا‘ افسوسناک ہے کہ پاکستان کو قائد اعظم کی خواہشات کے مطابق قائم ہونے میں ابھی مزید کئی دہائیاں لگیں گی‘ ابھی عام آدمی کو بہت سے عام انتخابات کی ضرورت پڑیگی۔