115

افغانستان ٗطالبان اور داعش کا مشترکہ حملہ،بھاری جانی نقصان

قندوز۔افغانستان کے علاقے میں طالبان اور داعش کے عسکریت پسندوں نے مشترکہ حملے میں افغان سکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 85فوجی اہلکار جاں بحق جب کہ60سے زائد زخمی ہو گئے، دوسری جانب 22طالبان اور داعش عسکریت پسند ہلاک اور 30سے زائد زخمی زخمی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپوٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے علاقے میں طالبان اور داعش کے عسکریت پسندوں نے مشترکہ حملے میں افغان سیکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 85فوجی اہلکار جاں بحق جب کہ 60سے زائد زخمی ہو گئے، دوسری جانب 22طالبان اور داعش عسکریت پسند ہلاک اور 30سے زائد زخمی زخمی ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق طالبان اور داعش عسکریت پسندوں نے افغان سیکیورٹ فورسز کو ایک منظم حملے میں بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے افغان صوبہ قندھار میں اس منظم حملے میں کم از کم 85اہلکار جاں بحق اور 60سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ جوابی کارروائی میں 22طالبان اور داعش عسکریت پسند ہلاک جب کہ 30سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں عسکریت پسند گروپس نے مشترکہ حکمت ؑ ملی کے تحت افغان فورسز کے گرد گھیرا ڈال کر دو بدو لڑائی شروع کر دی ۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ60سے زائد فوجی اہلکار زخمی اور 85 سیجاں بحق ہوئے ہیں۔ تاہم اس غیر متوقع حملے میں زخمیوں کی صحیح تعداد بارے ابہام پایا جاتا ہے کسی سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں قندوز نسبتا مستحکم صوبوں میں سے ایک ہے لیکن حالیہ برسوں کے دوران عسکریت پسندوں کی جانب سے جاری کوششوں نے حالات کو تیزی سے خراب کیا ہے ۔

صوبائی کونسل کے سربراہ محمد یوسف ایوب نے کہا ہے کہ 40اہلکار جاں بحق جب کہ 30زخمی ہوئے ہیں اور جھڑپ تا حال جاری ہے۔ جب کہ ایک قبائلی بزرگ اختر محمد نے بتایا کہ اب تک تقریبا 55 افغان ملی فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں۔افغان فورسز کے کئی بڑے ہتھیاروں پر بھی طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔