153

ایک انمول کھلاڑی

1976ء میں پاکستان نے کراچی میں اپنا پہلا بین الاقوامی معیار کا سکواش کمپلیکس تعمیر کیا اور اس میں پاکستان ماسٹر ز سکواش ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا جا رہا تھا جس میں دنیا بھر کے ٹاپ رینکنگ کھلاڑی حصہ لے رہے تھے بشمول آسٹریلیا کے جیوف ہنٹ کے جو ان دنوں ورلڈ سکواش چیمپئن تھا میچ ہونے والا تھا دو پاکستانیوں کے درمیان جو اس ٹورنامنٹ کا کوارٹر فائنل مقابلہ تھا قمر زمان جو1975ء میں برٹش اوپن چیمپئن رہا تھا اور اس وقت دنیائے سکواش میں اس کی دوسری رینکنگ تھی اور اسکے مقابلے میں ایک غیر معروف سکواش کا کھلاڑی تھا جس کا داخلہ پاکستان میں کئی سال کیلئے بند تھا اور اب وہ اس پابندی کی میعاد ختم ہونے کے بعد ا س ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہا تھا پندرہ منٹ کے اندر اندر اس غیر معروف کھلاڑی نے یہ میچ جیت لیا یہ بدقسمت اور راندہ درگاہ کھلاڑی ہدایت جہان تھا کہ جو دنیائے سکواش میں ہڈی جہاںHiddy jehan کے نام سے پکارا جاتاتھااسکا والد بھی نواں کلی کا پیدائشی تھاجو کوئٹہ کے ایک کلب میں بطور پروفیشنل کھیلا کرتا‘ اسکا نام ممتاز خان تھا اس کلب کے ایک دو کمروں پر مشتمل کوارٹر میں ہدایت جہان نے آنکھ کھولی اور اسی کی سیمنٹ کی پرانی سکواش کورٹ پر کھیل کھیل کر ہدایت جہان نے سکواش کھیلنا سیکھا تھا ۔

اگر سالوں کا حساب کیا جائے تو ہدایت جہاں نے انٹرنیشنل پروفیشنل سرکٹ پرجتنے عرصے کھیلا شاید ہی کسی اور پلیئر نے اتنا کھیلا ہو پورے19 برس تک یعنی1971ء سے 1989 تک ہدایت جہان کھیلتا رہا جن میں 16 برس وہ دنیا کے ٹاپ کے 6 کھلاڑیوں میں شامل رہا کتنے افسوس کا مقام ہے کہ وہ اپنے ملک میں گمنام رہا پاکستان میں سکواش کے متعلقہ ادارے نے کبھی اسکو اپنا تصور ہی نہ کیا اس نے سکول میں اپنے جوہر کو 1968 میں منو الیا تھاجب اسکی عمر صرف 17 برس تھی اس کو آسٹریلیا میں ہونیوالے پہلے ورلڈ چیمپئن شپ کیلئے چنا گیا لیکن شومئی قسمت کہ ریل کے ایک حادثے میں و ہ زخمی ہو گیا اور اس چیمپئن شپ میں شرکت سے رہ گیا اسکی خیریت تک پاکستا ن سکواش فیڈریشن نے کبھی نہ پوچھی پی آئی اے نے بھی اس کی قدر نہ کی دل برداشتہ ہو کر اس نے جنوبی افریقہ کا رخ کیا محض مالی حالات کی وجہ سے‘ اس کااوڑھنا بچھونا اور رزق کمانے کا ذریعہ ہی سکواش کھیلنا تھا ان دنوں نسلی تعصب برتنے کی وجہ سے جنوبی افریقہ جانا کفر سمجھا جاتا تھا۔

چنانچہ حکومت نے اس کا پاسپورٹ بھی ضبط کر لیا اور اس کی پاکستان واپسی پر بھی 3 سال کی پابندی لگا دی گئی دریں اثناء ہدایت جہان جنوبی افریقہ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھتا گیا پاکستان سکواش فیڈریشن نے ہدایت جہان سے ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا صرف ائیر مارشل نور خان ایک ایسا فرد تھا کہ جس نے ہدایت جہان کو پاکستان کی طرف سے کھلا نے کی حمایت کی ہدایت جہان نے اگر برطانیہ کی شہرت 1978ء میں اختیار کی تومحض اس وجہ سے کہ پاکستان سکواش فیڈریشن نے اسے نظر انداز کیا اگر اسکو3 سال کی سزا نہ دی جاتی اور چلو جب اس سزا کی مدت پوری ہو گئی تب بھی اسکو پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے بین الاقوامی سکواش چیمپئن شپ میں بھجوایا جاتا تو وہ اس قابل ضرور تھا کہ کئی اعزازات جیت کر لاتا‘ کیا ہم حکومت سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس نے ٹینس کے کھلاڑی اعصام الحق پر اس قسم کی پابندی کیوں نہیں لگائی کہ جو ایک اسرائیلی پلیئر کیساتھ مل کر ڈبلز کھیل رہا ہے ؟ ۔