74

معاشرتی رویئے کی تبدیلی

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا پرامید ہیں کہ دوہزار اٹھارہ ان کے لئے گذشتہ سال کے مقابلے زیادہ محفوظ ثابت ہوگا اور انہیں ماضی کے مقابلے نئے سال کے دوران ملکی و بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے علمبرداروں اور بالخصوص ذرائع ابلاغ کی حمایت و توجہ حاصل رہے گی‘ خواجہ سراؤں کی نمائندہ تنظیم کی جانب سے نئے سال کے آغاز پر مبارک باد اور نیک خواہشات کے اظہار پر مبنی ای میل میں ان چند مسائل کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے جن سے یہ کمیونٹی نبردآزما ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ‘ ہر طبقے اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی توجہ و تعاون کی متمنی ہے‘ جائز و منطقی مطالبہ ہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی ہم زمین اور انسان سمجھا جائے‘ انکی جملہ ضروریات‘ مسائل‘ درپیش مشکلات کے حل اور اِن سے متعلق عمومی رائے کو تبدیل کرنے کیلئے متعلقہ حکومتی ادارے اپنا اپنا کردار ادا کریں اور معاشرہ انہیں حقیر سمجھنے کی بجائے خصوصی سمجھ کر حساسیت سے معاملہ کرے کہ جس طرح آمدن کے پائیدار اور باعزت ذرائع کی ضرورت دیگر طبقات کو ہے اسی طرح خواجہ سراؤں کیلئے بھی تعلیم‘ ہنرمندی‘ روزگار کے مواقع‘ سہولیات اور رہنمائی کا بندوبست ہونا چاہئے۔‘سالانہ جرائم سے متعلق پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار گواہ ہیں کہ ’’سال دوہزار سترہ کے دوران خیبرپختونخوا کے طول و عرض (زیادہ تر پشاور) میں خواجہ سراؤں پر حملوں کے 208 مقدمات درج ہوئے جبکہ اس عرصے میں پانچ خواجہ سراؤں کو قتل بھی کیا گیا۔

‘ جن دوسو سے زائد حملوں کی رپورٹس تھانہ جات میں درج کرائی گئیں وہ چند ایک ہیں اور بیشتر واقعات پولیس کو رپورٹ ہی نہیں ہوتے‘خواجہ سراؤں کیلئے باعزت روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس کمیونٹی کے لوگ جس قسم کی اجتماعی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اس میں بھیک مانگ کر گزر بسر کرنا ہی زیادہ سہل ہے۔ رقص‘ گلوکاری اور موسیقی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنیوالے خواجہ سراؤں کو جرائم پیشہ عناصر سے مستقل واسطہ رہتا ہے اور یہی ان کیلئے سب سے زیادہ پریشانی کا باعث ہے‘سال دوہزار پندرہ سے دوہزار سترہ تک خیبرپختونخوا میں 54 خواجہ سراء قتل کئے جا چکے ہیں‘ ان اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ دوہزار سترہ نسبتاً کم خونی سال تھا اور اسکی وجہ بڑے پیمانے پر معاشرتی شعور میں اضافہ اور ذرائع ابلاغ کی گہری نظر ہے جس کی موجودگی میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے خواجہ سراؤں پرحملہ آوروں کو معاف نہیں کرتے اور اب خواجہ سراؤں پر جسمانی حملوں یا انکی تضحیک کو ہنسی مذاق بھی نہیں سمجھا جاتا‘المیہ ہے کہ خواجہ سراؤں کی آبروریزی‘ حبس بیجا‘ تشدد اور اغواء برائے تاوان جیسی وارداتیں اب بھی ایک تواتر سے رونما ہو رہی ہیں لیکن خوش آئند ہے کہ آج خواجہ سراء تنہا نہیں اور کئی این جی اوز انکے حقوق کے تحفظ کیلئے فعال ہیں‘ خیبرپختونخوا کے پچیس میں سے پانچ اضلاع خواجہ سراؤں کے لئے انتہائی حساس قرار دیئے جا سکتے ہیں کیونکہ رپورٹ ہونے والے دوسوآٹھ واقعات اور قتل کی وارداتیں اِنہی پانچ اضلاع (پشاور‘ بنوں‘ سوات‘ مردان اور نوشہرہ) میں پیش آئی ہیں‘تجویز ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں خواجہ سراؤں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے جی پی ایس الیکٹرانک آلات کا استعمال کرسکتی ہیں‘ جن سے چوبیس گھنٹے نگرانی اور جیوفینسنگ بھی ممکن ہے۔

موبائل فون ایپ بھی جاری کی جا چکی ہے‘ تاکہ اِس موبائل فون سافٹ وئر کے ذریعے خواجہ سراء اپنے خلاف ہونیوالے کسی چھوٹے بڑے واقعے کی مقامی این جی او کو رپورٹ کر سکیں خواجہ سراؤں کو صرف انکے مداح یا جرائم پیشہ عناصر یا پیشہ ورانہ مخالفین ہی سے خطرات لاحق نہیں بلکہ انکے اہل خانہ غیرت کے نام پر بھی نشانہ بنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے سال دوہزار سترہ میں قتل ہونیوالے پانچ خواجہ سراؤں میں سے دو کو ان کے اہل خانہ ہی نے قتل کیا کیونکہ وہ ناچ گانے سے اپنا گزر اوقات کرتے تھے‘ پولیس ریکارڈ کے مطابق دوسو آٹھ رجسٹرڈ کیسزمیں 46 آبروریزی اور اجتماعی آبرو ریزی کے ہیں‘ پاکستان میں 39 ہزار خواجہ سراء ایچ آئی وی (جرثومے) سے متاثر ہیں‘ جو اِس مرض کے مجموعی متاثرین کی تعداد کا قریب آٹھ فیصد بتائے جاتے ہیںیہ صورتحال کافی سنگین ہے‘ مثال کے طور پر حال ہی میں پشاور (دَلہ زاک روڈ‘ ملک پلازہ) اور اس کے اَطراف میں رہائش پذیر 38 خواجہ سراؤں کے خون کی جانچ کی گئی‘ جن میں سے 21 ’ایچ آئی وی‘ سے متاثر پائے گئے اور یہ جرثومہ انتقال خون یا پھر متاثرہ شخص کے زیراستعمال رہنے والی ٹوتھ برش‘ تولیے‘ بلیڈ‘ ریزر وغیرہ کے استعمال سے بھی پھیل سکتا ہے‘ خواجہ سراؤں کے بارے میں معاشرتی رویئے تبدیلی چاہتے ہیں‘ اِنتہائی کم تعداد میں اِن مظلوموں کے لئے تعلیم و ہنرمندی کے ذریعے روزگار کے پائیدار مواقع اور سماجی قبولیت و سرپرستی ہو تو اِنہیں معاشرے کا فعال و کارآمد جز بنایا جاسکتا ہے۔