155

مہلک تعلقات!

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ادوار 70 سال پر محیط ہیں دونوں ممالک کے درمیان قربت اور تعلقات عدم توازن کا شکار رہے اور اگرچہ یہ تعلقات ’ایک دوسرے پر انحصار جیسی دوطرفہ ضرورت کے تحت استوار ہیں لیکن ان میں باہمی اعتماد کا فقدان رہا ہے۔ امریکہ کے نکتہ نظر سے پاکستان کی اہمیت اسکے خطے میں اپنی حاکمیت اور وجود برقرار رکھنے کیلئے ایک ضرورت ہے جبکہ پاکستان کیلئے امریکہ مالی و اقتصادی معاون سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے لیکن اِنہیں منقطع کرنیکا بھی کبھی مرحلہ نہیں آیا امریکہ کی جانب سے دوہزار دو سے دوہزار اٹھارہ کے عرصے میں 33 ارب ڈالر بطور دفاعی اخراجات ادائیگیاں کی گئیں قابل ذکر ہے کہ بطور اتحادی پاکستان کو دی جانے والی ادائیگیاں ان اخراجات کی مد میں ہوتی ہیں جو پاکستان اتحادی افواج کو سہولیات بہم پہنچانے یا انکے مقرر کردہ اہداف کے مطابق عسکری مہمات پر اپنے وسائل سے کرتا ہے اور بعدازاں یہ رقم ادا کی جاتی ہے‘ درحقیقت بطور اتحادی ملنے والی 75فیصد امداد اتحادی سپورٹ فنڈ کا حصہ ہوتی ہے جبکہ پچیس فیصد باقی ماندہ امداد اقتصادی امور کیلئے دی جاتی ہے‘امریکہ اب تک افغانستان میں 714ارب ڈالر خرچ کر چکاہے‘ افغانستان میں امریکہ کی جنگ اسکی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین مہم ہے لانگ وار جرنل نامی ایک تحقیقاتی اشاعتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ’طالبان افغانستان کے 45فیصد اضلاع پر یا تو قابض یا وہاں قابض ہونے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔‘پاکستان میں راہ نجات نامی فوجی کاروائی کے ذریعے جنوبی وزیرستان کے6ہزار 619 مربع کلومیٹر حصے پر حکومتی عمل داری قائم کی گئی۔ ضرب عضب کے نام سے شمالی وزیرستان کا 4 ہزار 707 مربع کلومیٹر حصہ جبکہ بونیر‘ لوئر دیر‘ سوات اور شانگلہ میں فوجی کاروائیوں سے بھی ان علاقوں کو عسکریت پسندوں کی دسترس سے آزاد کرایا گیا جو پھیل چکے تھے۔ پاکستان کا بیانیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کا کوئی ایک بھی ایسا حصہ نہیں جہاں حکومت کی عمل داری قائم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان میں ایسا کوئی بھی منظم عسکری گروہ ہے جو کسی ایک جگہ اپنا مرکز رکھتا ہو لیکن بدقسمتی سے پاکستان اپنے اِس بیانئے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا‘ جسکی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں یہ گمراہ کن شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ یہ دہشت گردوں کا مرکز ہے۔

خطرے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے ایک عالمی سازش پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کا ادارہ منظم و فعال ہے لیکن پاکستان کی اقتصادی صورتحال دگرگوں ہے‘آئندہ بارہ ماہ کے دوران پاکستان کو کم سے کم چھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہیں یہ وہ ادائیگیاں ہیں جو بیرون ملک قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے دینی ہیں۔ توقع ہے کہ رواں برس ماہ جنوری سے جون کے عرصے میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ قریب 8 ارب ڈالر ہو جائے گا‘ بائیس دسمبر دوہزار سترہ کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 14.1 ارب ڈالر کے ذخائر تھے اور آئندہ چھ ماہ کے بعد سٹیٹ بینک کے پاس اس رقم کا بھی نہایت ہی معمولی سا حصہ باقی رہ جائے گا‘ جو خطرناک اقتصادی صورتحال کی جانب بطور اشارہ عرض ہے۔تصور کیجئے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر ہو جائے گا۔

تصور کیجئے کہ پاکستان کے بجٹ کا خسارہ 2.2 کھرب روپے ہو جائے گا اور یہ حقائق امریکہ کے صدر ٹرمپ کے سامنے یقیناًہوں گے۔ مجھے کئی تجزیہ کاروں کو یہ کہتے ہوئے سننے کا اتفاق ہوا کہ پاکستان روس اور چین کے درمیان اقتصادی ودفاعی شعبوں میں اتحاد ہونا چاہئے لیکن کیا ایسا کوئی ممکنہ اتحاد پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کر پائے گا؟کیا ماضی میں اس قسم کے سہ ملکی اتحاد کی کوششیں نہیں کی گئیں اور ان کا کیا نتیجہ برآمد ہوا۔تصور کیجئے کہ امریکہ عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی بینک برائے تعمیرو ترقی کی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتا ہے اور اِن مالیاتی اداروں میں امریکہ نے بڑی سرمایہ کاری کے عوض کنٹرول حاصل کر رکھا ہے‘پاکستان چین کیساتھ اپنی تجارت ڈالر کی بجائے یوآن میں کرنے کا خواہاں ہے لیکن کیا ایسا کرنے سے پاکستان کو قومی سطح پر درپیش آمدن و اخراجات میں خسارے پر قابو پالیا جائے گا؟18 دسمبر 2017ء کے روز ٹرمپ نے بطور صدرِ امریکہ اپنی پہلی قومی سلامتی حکمت عملی پیش کی‘ جس میں اس نے چین کی اقتصادی و تجارتی ترقی کو بھی نشانہ بنایا۔ میرے خیال میں صدر ٹرمپ پاکستان و افغانستان کی بجائے پاکستان اور چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں‘ یہ صورتحال محتاط ردعمل اور حالات پر نگاہ رکھنے کا ہے کیونکہ جب ہاتھیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو اس میں گھاس کچلی جاتی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)