119

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری مستعفی

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے اور انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر محمد خان اچکزئی کو پیش کردیا۔

اس سے قبل سابق وزیرِ داخلہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ نواب ثناء اللہ زہری نے صوبے کے وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں سامنے آئیں تھیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مشورے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا ’الحمداللہ! وزیراعلیٰ بلوچستان مستعفی ہوگئے۔‘واضح رہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز کوئٹہ کا دورہ کیا تھا اور ناراض ارکان کو منانے میں ناکامی کے بعد وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے نواب ثناءاللہ زہری نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے بھی ملاقات کی تھی جنہوں نے وزیر اعلیٰ کو مستعفیٰ ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

خیال رہے کہ ثناء اللہ زہری کے خلاف 9 جنوری کو بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی ہے، جسے ناکام بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ نے مختلف ارکان سے رابطہ کیا تھا لیکن وہ صرف 20 ارکان کو حمایت کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کےخلاف تحریک عدم اعتماد روکنے میں حکومت ناکام

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والے مسلم لیگ (ن) کے ناراض قانون سازوں کو منانے کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دورہ کوئٹنہ کانامی سے دوچار ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کی قیادت میں درجن بھر سے زائد مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی نے وزاعلیٰ بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی۔

دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا واسع نے کہا تھا ’وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مایوس آئے تھے اور مایوس ہی لوٹ گئے‘۔

انہوں نے عزم کا اظہار کیا تھا کہ بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنائیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ کے ہنگامی دورے پر گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری ، پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے قانون سازوں سے ملاقات کی تاہم اتحادی جماعتوں کے بھرپور اصرار کے باوجود ناراض صوبائی اسمبلی کے اراکین نے گورنر ہاؤس کے عشائیے میں شرکت نہیں کی۔

پی کے میپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زہری نے ڈان کو بتایا کہ 21 سے میں 8 مسلم لیگ (ن) کے حمایتی اراکین گورنر ہاؤس میں منعقد عشایئے میں شریک ہوئے تھے تاہم انہوں نے کہا ایوان زریں میں نواز ثناء اللہ زہری اکثریت رکھتے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا تھا ‘ہمیں 40 سے زائد قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے ’۔

خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں وزیرِاعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جاری کی جانی تھی جبکہ اس ضمن میں بلوچستان اسمبلی کی اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے میڈیا کو اجلاس کی کارروائی کی کوریج سے روکنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف بلوچستان کی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کراتھی۔

تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ (ق) کے رکن بلوچستان اسمبلی اور سابق ڈپٹی اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے جمع کروائی تھی۔

اس تحریک کو جمع کرانے کی وجوہات پر اظہار خیال کرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ملازمتوں میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں میں بھی ان 14 ارکان کو نظر انداز کیا گیا۔