66

ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی، یوسف پٹھان پر 5 ماہ کی پابندی

نئی دلی: بھارتی کرکٹ بورڈ نے آل راﺅنڈر یوسف پٹھان پر ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کے باعث 5 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے۔

 سزا کا اطلاق 15 اگست 2017 سے کیا گیا ہے اور 14 جنوری 2018 کو پابندی ختم ہو جائے گی، تاہم بی سی سی آئی نے بڑودا کرکٹ ایسوسی ایشن کو ہدایت کی ہے کہ آل راﺅنڈر کو رانچی ٹرافی کے لیے اسکواڈ میں منتخب نہ کیا جائے۔

16 مارچ 2017 کو نئی دلی میں ہونے والے ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کے دوران یوسف پٹھان نے اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹنگ پروگرام کے تحت ٹیسٹ دیا، نمونے کی جانچ سے پتہ چلا کہ انہوں نے ممنوعہ مادہ کا استعمال کیا ہے، 27 اکتوبر کو ان پر الزام عائد کیا گیا جس کے بعد انہیں عبوری طور پر معطل کر دیا گیا تھا، آل راﺅنڈر نے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلے میں انفیکشن کے دوران غلطی سے وہ دوا دے دی گئی جس میں ممنوعہ مادہ موجود تھا، ایسا جسمانی طاقت بڑھانے کیلیے نہیں کیا گیا، سب انجانے میں ہوا۔

بی سی سی آئی کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے بعد آل راﺅنڈر کے موقف کو درست تسلیم کر لیا گیا ہے، انہوں نے ممنوعہ مادہ کا غیرارادی طور پر استعمال کیا تھا جو کھانسی کے شربت میں عمومی طور پر پایا جاتا ہے، چونکہ کرکٹر نے فوری طور پر اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی اور نمونوں کے نتائج آنے میں بھی تاخیر ہوئی اس لیے ان پر سزا کا اطلاق 15 اگست 2017 سے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یوسف پٹھان 2008 سے 2012 کے دوران 57 ون ڈے، 22 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں بھارت کی نمائندگی کر چکے ہیں جب کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف پہلا ون ڈے میچ 2008 میں ڈھاکا میں کھیلا تھا۔