170

ٹرمپ کی دھمکی اور حساب کتاب

یکم جنوری کو سال کے پہلے ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے پندرہ برس میں تینتیس ارب ڈالر لیکر ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا صدر امریکہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کرتے ہیں اسکے بعد چار جنوری کو امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسلام آباد کو ہر سال ملنے والی1.3 ارب ڈالر کی مالی اور فوجی امداد منسوخ کر دی گئی ہے ان اقدامات کے جواب میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ کیساتھ تعلقات پر نظر ثانی کا وقت آگیا ہے وال سٹریٹ جنرل کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایک دوست اور اتحادی کی طرح ایکٹ نہیں کر رہافوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ سکیورٹی امداد کی معطلی دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے عزائم پر اثرانداز نہیں ہو سکتی‘ انہوں نے یہ بھی کہا پاکستان کبھی پیسے کیلئے نہیں بلکہ ہمیشہ امن کیلئے لڑا‘میجر جنرل صاحب نے امداد پر پابندی کوخطے میں امن کیلئے کی جانیوالی کوششوں کیلئے نقصان دہ بھی قرار دیااس رد عمل کے علاوہ گذشتہ سات دن میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اس میٹنگ میں ہونیوالی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان نہایت صبرو تحمل سے اس بدلتی ہوئی صورتحا ل کا سامنا کریگا اسلام آباد میڈیا نے بھی سرحدوں کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظرحکومت کو تدبر ‘ برد باری اور معاملہ فہمی کا مشورہ دیا ہے بڑی سیاسی جماعتوں نے البتہ عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکہ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی اور امداد کی معطلی ایسے اقدامات ہیں جو غیر متوقع بھی نہیں اور انھیں کسی بھی اعتبار سے حیران کن بھی نہیں کہا جا سکتا صدر امریکہ پاکستان کیخلاف اس سے کہیں زیادہ سخت باتیں اکیس اگست کو ورجینیا کی آرلنگٹن ملٹری بیس میں افغان جنگ کے بارے میں اپنی حکومت کی جنگی منصوبہ بندی پرپہلی پالیسی سٹیٹمنٹ میں خاصی تفصیل کیساتھ کر چکے تھے اسوقت افغانستان کے بارے میں انکی حکومت کی حکمت عملی کے اعلان کا دنیا بھر میں سات ماہ سے انتظار کیا جا رہاتھا اس تاخیر کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس حساس معاملے میں انکی کابینہ کوگہری سوچ بچار کی ضرورت تھی جس جنگی حکمت عملی کو امریکی فوج کے سینئرترین جرنیلوں نے طویل مشاورت کے بعد طے کیا ہو اور جسے صدر امریکہ نے اپنی کابینہ اور فوجی قیادت کی موجودگی میں پرائم ٹائم ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں بیان کیا ہو وہ نہایت سنجیدہ رد عمل کا تقاضا کرتی ہے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ چار ماہ پہلے کی اس تقریر پر پاکستانی قیادت کا رد عمل اضطراری اوروقتی تھامگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اسوقت بھی پاکستان کیخلاف صدر ٹرمپ کے انتہائی تذلیل آمیز رویئے کا جواب ویسا ہی تھا کہ جیسا یکم جنوری کی ٹویٹ کا ہے اسوقت بھی صدر ٹرمپ نے وہی کچھ کہا تھا جو انہوں نے یکم جنوری کو کہا ہے اکیس اگست کو امریکی صدر نے فورٹ مائر ملٹری بیس میں کہا تھا " We have been paying Pakistan billions and billions of dollars at the same tiime they are housing the very terrorists that we are fighting. But that will have to change. And that will change immediately. It is time for Pakistan to demonstrate its committment to civilization,
order and peace." ترجمہ: ہم پاکستان کو اربوں ڈالردے رہے ہیں اور وہ ان دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے جن سے ہم لڑ رہے ہیں لیکن اب اس صورتحال کو بدلنا ہو گا اور یہ صورتحال اب بہت جلدی بدلے گی وقت آ گیا ہے کہ پاکستان تہذیب‘ نظم و ضبط اور امن کیساتھ اپنی کمٹمنٹ کا مظاہرہ کرے‘

جب صدر امریکہ نے یہ کہہ دیا کہ پاکستان کی تہذیب‘ نظم و ضبط اور امن کیساتھ کوئی کمٹمنٹ نہیں تو اسکا سادے لفظوں میں یہی مطلب ہے کہ پاکستان ایک بد تہذیب اور امن دشمن ملک ہے اس دیدہ درہنی پر جو رد عمل بھی ہوا اسکی جھاگ دو چار دن میں بیٹھ گئی دنیا کے کسی بھی کمزور یا طاقتور ملک کے سربراہ کا کسی دوسرے ملک کو بد تہذیب کہہ دینا ہر اعتبار سے سخت ترین ردعمل کا تقاضا کرتا ہے لیکن پاکستانی قیادت اور میڈیا دونوں نے اس تذلیل کو ایسے نظر انداز کیا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیںیہ تحقیر ان عملی کاروائیوں کا عشر عشیر بھی نہیں جو امریکہ نے 2011 میں کی تھیں اس ایک سال میں پہلے ریمنڈ ڈیوس نے بائیس جنوری کو لاہور کے مزنگ چوک میں دو پاکستانی شہریوں کو دن دیہاڑے بڑے آرام ‘ سکون اور سہولت کیساتھ ہلاک کیا اور پھر اسکی حکومت نے اس بد معاش کو یوں بچا لیا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اسکے بعد اسی سال دو مئی کو ایبٹ آ باد میں امریکی ہیلی کاپٹروں نے حملہ کر کے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا اس دیدہ دلیری کے بعد ہم امریکہ کو جواب دینے کی بجائے بغلیں جھانکنے لگے ہمیشہ کی طرح اسوقت بھی سیاسی اورعسکری قیادتیں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنے لگیں اسکے پانچ ماہ بعد اکتوبر میں امریکہ نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے بائیس پاکستانی سپاہی شہید کر دےئے یہ حملہ ہم سے برداشت نہ ہو سکا اور ہم نے طورخم اور چمن کی سرحدیں بند کر دیں آج امریکی دانشور اور دفاعی ماہرین اسی ایک جوابی کاروائی پر غورو فکر کر رہے ہیں۔

حساب کتاب لگایا جا رہا ہے کہ اب کی بار یہ سرحدیں بند ہوئیں تو کتنا نقصان ہو گا اس حساب کتاب کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ قوموں کے درمیان تعلقات کی اصل نوعیت Transactional یعنی کہ کاروباری ہوتی ہے اسکے علاوہ دوستی یاری کی سب باتیں ایک دوسرے کوجل دینے کیلئے ہوتی ہیں ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ ہمیں سائنس کے علاوہ حساب کتاب سے بھی سخت الجھن ہوتی ہے یہ کام ہندو بنیا اور یہودی سودخور اتنی مہارت اور چابکدستی سے کرتے ہیں وہ امریکہ کوعراق اور افغانستان کی جنگوں میں الجھا کر مال بھی بناتے ہیں اور تہذیب اور انسانیت کی خلعت فاخرہ بھی سینے پر سجائے رکھتے ہیں ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ پاتے کہ حضور تینتیس ارب ڈالر میں آدھے سے زیادہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے تھے ہم یہ بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ جنگ دہشت گردی میں ہمارے ساٹھ ہزارلوگ ہلاک ہوئے ہیں اور ہماری معیشت کو سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے کیا دنیا بھر میں کسی ایک ملک نے بھی ہماری اس فریاد پر کان دھرا ہے اگر نہیں تو کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا ہمیں پرکاہ بھر اہمیت بھی کیوں نہیں دیتی ہماری اس بے توقیری کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم اپنا مال خریدار کے حوالے کرتے وقت اسے یہ کہتے ہیں کہ رہنے دیجئے مل جائیگا۔

آپ کوئی بیگانے تو نہیں حساب کتاب ہوتا رہیگا جو امریکی سازو سامان ہم اونے پونے افغانستان پہنچاتے رہے کرغیزستان نے اسکی اتنی قیمت مانگی کہ امریکہ کے ہوش ٹھکانے آگئے وسطی ایشیا کے اس اسلامی ملک نے طورخم اور چمن کی سرحدیں بند ہوتے ہی اپنے ملک میں امریکی اڈے کا کرایہ سترہ ملین ڈالرسے بڑھا کر ساٹھ ملین کر دیا اور بعد میں جب مزید اضافے کا مطالبہ کیا تو امریکہ بہادر کو وہاں سے بسترہ بوریا لپیٹنے ہی میں عافیت نظر آئی ہمارے صدرجنرل پرویز مشرف بیس ستمبر2011 کی رات کولن پاول کی ایک ٹیلیفون کال کے جواب میں کھیت ہونے کی بجائے اگر یہ کہتے کہ میں اس جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب کتاب کرنے کے بعد جواب دوں گا تو آج ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں بد تہذیب کہنے کی بجائے ہمارا ممنون احسان اور مقروض ہوتا ہم نے جارج بش‘ باراک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ سے حساب کتاب کیوں نہ کیا اسکے جواب میں رؤف کلاسرا نے پانچ جنوری کے کالم میں لکھا ہے ’’پاکستان میں باپ نے اپنے بچوں کو سمجھا دیا ہے کہ بیٹا میں نے پاکستان میں رہنا ہے اور یہیں حکمرانی کرنی ہے کیونکہ ایسے عوام اور لوگ آپ کو اور کہیں نہیں ملیں گے جنہیں اتنی آسانی سے بیوقوف بنایا جا سکے بچے امریکہ اور یورپ میں رہتے ہیں اور انکے والدین ہمارے ہاں حکمران بن کر مال بناتے ہیں ۔‘‘