85

افغانستان اور لوکل گورنمنٹ

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بے پناہ اختیارات کے مالک ہیں اس کی تازہ ترین مثال ان کے ہاتھوں افغانستان کے صوبے بلخ کے گورنر عطا محمد نور کی برطرفی ہے جن کو افغان صدر نے بیک جنبش قلم ان کے منصب سے فارغ کر دیایہ الگ بات ہے کہ بلخ کے گورنر نے حکم عدولی کا مظاہرہ کیا کئی سیاسی مبصرین کے نزدیک اشرف غنی کا یہ اقدام غیر ضروری تھا جس نے افغانستان میں ایک آئینی بحران پیدا کیا 2004ء میں افغانستان میں جو آئین پاس کیا گیا اسکے تحت افغان صدر کے پاس جو اختیارات ہیں وہ ان اختیارات سے بہت زیادہ ہیں کہ جو ماضی میں افغانستان کے بادشاہوں کے پاس ہوا کرتے تھے افغانستان کے صدر کے پاس اختیار ہے کہ وہ سرکاری اہلکاروں کو بھرتی کریں۔

‘ یاد رہے کہ افغانستان ایک ایسی ٹرائبل سوسائٹی ہے کہ جو تسلی اور گروہی طور پر منقسم ہے اس قسم کی سوسائٹی میں اگر صدر مملکت ہی کے پاس سرکاری اہلکاروں کی بھرتی کا اختیار ہو گا تو لا محالا اس پر انگلیاں اٹھیں گی کہ اس نے ان بھرتیوں میں جانبداری سے کام لیا ہے ہم زیادہ دور نہیں جاتے 1880ء سے لیکر اب تک کے حالات پر نظر ڈال لیتے ہیں عبدالرحمان خان (1880-1901) نے برطانیہ کی معاونت سے افغانستان کے تخت پر قبضہ کیا اور انہیں اچھی خاصی رقم بھی دی گئی اور اسلحہ بھی‘ انکے پوتے شاہ امان اللہ نے 1919-1929ء کے دوران ملک میں مرکزیت کو ملک کو پہلے آئین کامحور بنایا 1930ء میں ظاہرشاہ افغانستان کا بادشاہ بنا اور اپنے چاچوں کی مدد سے اس نے تقریباً3دہائیوں تک افغانستان پر حکومت کی 1964ء میں ظاہر شاہ نے افغانستان کیلئے ایک نیا آئین مرتب کیا اس آئین کا ایک خاصا یہ تھا کہ شاہی خاندان کے افراد کی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی ۔

لیکن ظاہر شاہ کو 1973ء میں ایک ملٹری انقلاب کے ذریعے تخت سے ہٹا دیا گیا اور ان کے جانے کیساتھ ہی ان کا 1964ء کا آئین بھی دفن ہو گیا ظاہر شاہ کو بادشاہت سے ہٹانے والا شخص ان کا برادر نسبتی داؤد تھا جس نے اقتدار میں آنے کے بعد کافی اختیارات اپنے ہاتھوں میں سنبھال لئے داؤد کا تختہ 1978ء میں افغانستان کے اندر کمیونسٹ عناصر نے الٹ دیا جن کو اس وقت کے سوویت یونین کی آشیرباد حاصل تھی کمیونسٹ عناصر نے افغانستان میں مرکریت پر مبنی انتظامی نظام چلانے کی کوشش کی انکی مخالفت میں امریکہ کی معاونت سے مجاہدین میدان میں اتر آئے ‘ اس دوران کابل کے کنٹرول کیلئے تو جنگ جاری رہی لیکن دیہی علاقوں میں کئی ریجنل سطح کے لیڈر بھی سامنے آئے اس عرصے میں صوبے بلخ میں عطا محمد نور نے بحیثیت تاجک لیڈر اپنی شناخت منوائی پچھلے آئینوں کی طرح 2004ء کا آئین بھی عوام کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے گورنر ‘ میئر یا ضلعی حکام منتخب کریں لوکل گورنمنٹ کا تصور سرے سے افغانستان میں موجود ہے ہی نہیں لوکل یا دیہی علاقوں میں کابل سے براہ راست بھرتی کئے گئے اجنبی سرکاری اہلکار حکومت چلاتے ہیں۔