84

بلوچستان کا سیاسی مستقبل

عام انتخابات جوں جوں قریب آ رہے ہیں سیاسی اتحاد اور مخالفت انجام پا رہے ہیں۔ بلوچستان کا سیاسی منظرنامہ عیاں ہے جہاں صوبائی حکومت میں تبدیلی لانے کیلئے بھرپور کوششیں جاری ہیں‘ اور چار سال سے اقتدار کی شراکت کا سیاسی انتظام خطرے میں ہے‘دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے بعد نواز شریف کی مسلم لیگ نواز اور میر حاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی نے اقتدار کی شراکت کا سمجھوتہ کیا‘ جس میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا‘پہلے حصے میں نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک وزیر اعلیٰ بنے جبکہ دوسرے اور آخری حصے میں نواب ثناء اللہ زہری نے صوبے کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالا‘دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ جونیئر شراکت دار یعنی محمود اچکزئی کی قیادت میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی بھی شامل ہوئی جبکہ گورنر کا عہدہ اچکزئی کے بڑے بھائی کو دیا گیا ایک قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دفتر میں ہونے سے بلوچستان میں امن کی امید جاگی تھی‘ اپنے پورے دور میں ڈاکٹر مالک اشارہ دیتے رہے کہ بیرون ملک مقیم ناراض بلوچ قیادت کے ساتھ کچھ رابطہ قائم ہوا تھا اور مذاکرات کے بعد سمجھوتے کا امکان موجود تھا یہ امید اس وقت بے بنیاد ثابت ہوئی جب برہمداغ بگٹی کو چھوڑ کر باقی کی سخت گیر بلوچ قیادت اس طرح کے سمجھوتے کیلئے گرم جوش نظر نہیں آئی‘انہوں نے کسی بھی مذاکرات سے پہلے سخت شرائط رکھیں جن میں صوبے سے فوج اور نیم عسکری فورسز ہٹانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں سے قربت رکھنے والے ذرائع نے عندیہ دیا کہ جب ان میں سے کچھ رہنما قابل عزت سمجھوتے کے لئے تیار تھے‘ ۔

کیونکہ وہ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ ایک مسلح جدوجہد عوام کیلئے مشکلات پیدا کر رہی تھی‘ وہاں میدان میں اپنی کامیابی کیلئے پراعتماد فوج نے اس مرحلے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا‘ پردے کے پیچھے ہونے والے واقعات کے بارے میں مکمل سچ شاید کبھی سامنے نہ آئے مگر اس پورے معاملے میں براہمداغ بگٹی کے مؤقف میں تبدیلی اس بات کا ثبوت ہو سکتی ہے‘ برطانوی خبررساں ادارے ’بی بی سی‘ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے مذاکرات کیلئے اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا حقیقت میں وہ جب پاک فوج واپس بلانے کی شرط پر لچکدار دکھائی دیئے تو دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں نے ان کی سخت مخالفت کی‘ بھلے ہی علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ ایک ساتھ یا ہم آہنگی سے کام نہیں کرتے لیکن پھر مرکزی علیحدگی پسند رہنماؤں کے درمیان اس دراڑ کا فائدہ اٹھانے کے بجائے پاکستانی حکام نے بظاہر حقارت بھرا رویہ اختیار کیا اور برہمداغ اور حکومت کے ایک دو وزراء کے درمیان ہونے والی ابتدائی ملاقاتوں کے بعد معاملہ آگے نہیں بڑھایا گیا اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ دوہزارسولہ کے اختتام میں برہمداغ نے بلوچستان کا مسئلہ اٹھانے کیلئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا اور یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اور انکے کچھ ساتھی بھارت میں سیاسی پناہ کیلئے درخواست دیں گے‘ اس سب سے یہ اشارہ ملا کہ کوئٹہ اور اسلام آباد کی سویلین حکومتیں بلوچستان میں اہم پالیسی مسائل پر کافی بے اختیار ہیں‘۔

تو پھر الیکشن سے صرف چھ ماہ قبل منتخب وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کیوں؟ فی الوقت کوئٹہ میں دو اہم توجیہات پیش کی جا رہی ہیں‘ پہلی تو ان کے بارے میں ہے جو نواز شریف کو ہر جگہ سے بے دخل کرنے پر تلے ہوئے ہیں تاکہ نااہل کئے گئے وزیر اعظم کو اگلے چند ہفتوں میں ہونے والے سینٹ انتخابات میں اکثریت نہ مل سکے۔ مارچ میں آدھے سینیٹر اپنا چھ سالہ دور مکمل کر کے ریٹائر ہو جائیں گے اور ان کے الیکٹورل کالج ان کی نشستیں پر کریں گے۔ فی الوقت بلوچستان کی جو گیارہ نشستیں خالی ہوں گی‘ ان میں سے توقع ہے کہ مسلم لیگ نواز اور اتحادی کم از کم سات نشستیں جیت لیں گے۔ اس عدد کو اگر مسلم لیگ نواز کی پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے متوقع نشستوں کے ساتھ ملایا جائے تو اس جماعت کو سینٹ میں سادہ اکثریت مل جائے گی‘یہ وہ پرآسائش تصور ہے جو مسلم لیگ نواز کو اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں اب تک نہیں مل پایااگر نواز لیگ کے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ہٹا دیا جاتا ہے اور ان کے جانشین گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور نواز لیگ مخالف حکومتیں سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی یہی کرتی ہیں‘ تو اس صورتحال میں سینٹ انتخابات بہت مشکل ہوجائیں گے‘۔ بلوچستان میں سیاسی قوت اور سیاسی طاقت کا یہ کھیل ایک ایسے وقت میں کھیلا جا رہا ہے جب کہ ملک کے اندر داخلی استحکام کی ضرورت ہے کیونکہ امریکی صدر پاکستان کے لئے خیر خواہ دکھائی نہیں دے رہے جبکہ پاکستان کی مشرقی و مغربی سرحدوں پر تناؤ کی صورتحال بھی برقرار ہے اور یہ نازک وقت سوچ بچار کا متقاضی ہے۔
(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ڈاکٹر عمر فاروق۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)