77

صرف سیاست کیلئے

جب کسی کا عزیز کسی بھی طرح سے مارا جاتا ہے تو پورا گھرانہ بلکہ انکے جاننے والے بھی تھانے کچہریوں سے انصاف کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں‘ اسلئے کہ مرنے والا ان کاخون ہوتا ہے اور اسکے انصاف کی تلاش میں انکی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں واقعہ ہونے کے ہزار بہانے ہوتے ہیں مگر انصاف کیلئے صرف عدالتیں ہی ہوتی ہیں ہمارا عدالتی نظام جیسا بھی ہے آخر کار انصاف مل ہی جاتا ہے‘اگر ہماری حکومتیں اور ہماری اسمبلیاں صرف پیسہ بٹورنے کی فیکٹریاں نہ ہوں تو انکا کام ہے کہ انصاف کی راہ میں جتنے بھی روڑے حائل ہیں انکے دور کرنے کے لئے قانون بنائیں اور انصاف کو آسان بنانے کی کوشش کریں یہ صرف قانون کو موجودہ صورتحال پر منطبق کرنیکی بات ہے جو قوانین انگریز نے بنائے تھے ان میں ایک دھیلے کی بھی کمی بیشی ہم ابھی تک نہیں کر سکے اسی لئے ہمارے انصاف کی تلاش میں نکلے لوگ سالوں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں مگر انصاف کا کہیں بھی نام و نشان نہیں ملتاحکومتیں بھی اپنے دن پورے کرنے پر لگی ہوتی ہیں اسلئے کہ جیسے ہی کوئی حکومت اقتدار میں آ تی ہے اپوزیشن اسکی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہو جاتی ہے اور حکومت اپنی جان بچاتے ہوئے اپنی مدت‘ اگر کہیں قسمت ہو تو پوری کرنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے اسلئے کسی کو بھی اس طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ انکا صل کام کیا ہے اگر کہیں جمہوریت پر حملہ ہوتا ہے تو ڈکٹیٹر سالوں تک صرف خود کو مضبوط کرنے میں مصروف رہتا ہے‘ ۔

ابھی تک اس ملک کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ جمہوریت ہو یا آمریت حکمران اپنے اقتدار کو ہی بچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ادھر اپوزیشن اس کوشش میں رہتی ہے کہ کسی طرح حزب اقتدار کو گرا دے حالانکہ اقتدار کیلئے مدت معین ہے مگر ہماری بد قسمتی کہ ہم ہمیشہ شارٹ کٹ کے پیچھے دوڑتے ہیں‘کچھ معاملے ہم صرف حزب اقتدار کو نیچا دکھانے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں جیسے ماڈل ٹاؤن کا واقعہ ہوا ہے واقعہ جیسا بھی ہوا ہے دن کی روشنی میں ہوا ہے‘جس طرح ایک دوسرے پر پتھروں اور گولیوں کی بارش ہو رہی تھی وہ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا‘ کون غلط تھا یا کون صحیح اسکا فیصلہ تو عدالتوں نے کرنا تھا مگر جب نیت حکومت کو گرانیکی ہو تو بات کا بتنگڑ بن ہی جاتا ہے واقعے کی ایف آئی آر تھانوں میں کٹی مگر پیروی اس لئے نہ ہوئی کہ مرنے والوں کا کسی سے خون کا رشتہ نہیں تھا اسی لئے حقائق کو سامنے لانے اور انصاف کے حصول کی کوشش کو چھوڑ کر اس کو انسانی کی بجائے سیاسی کیس بنا دیا گیا اور جب کیسز سیاسی ہو جاتے ہیں تو انصاف کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں ‘اتنی آزاد کہ لوگوں کے چنے ہوئے وزرائے اعظموں کو بھی گھر بھیج دیتی ہیں جیسا کہ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف صاحب کی صورت میں ہوا تو یہ کہنا کہ کسی وزیر اعلیٰ یا وزیر قانون کی موجودگی میں کسی کو عدالتیں انصاف نہیں دیں گی یہ سوائے ایک مفروضے کے کچھ اور نہیں ہے‘ ۔

یہ صرف اپنے مقدے میں نہ پیش ہو کر جو کچھ کھویا گیا ہے اس سے اپنی جان بچانے کی اک بھونڈی کوشش ہے‘مقصد ان لوگوں کی جو اس حادثے میں جان سے گئے انکے لئے انصاف کا حصول نہیں ہے بلکہ کچھ اور ہے اگر انصاف ہی مقصود ہوتا تو اس کیس کی پیروی کی جاتی‘عدالت کے سامنے ثبوت پیش کئے جاتے تو بات بن جاتی مگر جو ہو رہا ہے وہ مفروضوں پر مبنی ہے‘ کہ اگر یہ ہو ا ہے تو اس میں فلاں ملوث ہے اسلئے فلاں کو مستعفی ہو جانا چاہئے ‘ کیسز عدالتوں میں مفروضوں کی بنا پر نہیں جیتے جاتے اس کیلئے پیروی کی ضرورت ہوتی ہے ‘یہ اے پی سی سے مسئلے حل کرنیکی بات نہیں ہوتی ‘ جس طرح ہر سال دو سال کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان کے دورے پر آ کر دھرنے دے کر پھر واپس اپنے دیس سدھار جاتے ہیں اس طرح عدالتوں سے انصاف حاصل نہیں ہوتا۔