119

سپریم کورٹ کے ساتھ کوئی جھگڑا یا تصادم نہیں ، نواز شریف 

اسلام آباد۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر و سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ آج بھی سپریم کورٹ کے ساتھ کوئی جھگڑا یا تصادم نہیں صرف چند ججز کے ساتھ اختلاف ضرور ہے جنہوں نے کیس میں غلط فیصلہ کیا،فیصلے پر عملدرآمد کیا لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا، آئین سے غداری کرنے والوں کا آج تک کوئی احتساب نہ کر سکا، آج تک کسی نے جسٹس حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر توجہ نہیں دی، پاکستان کے دولخت ہونے کے محرکات کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔

،ٹرمپ کے بیان سے ہماری تضحیک ہوئی، ان کا بیان ناقابل برداشت ہے، ٹرمپ کے بیان سے ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ایسا وقت کیوں آیا؟، پانچ ماہ پہلے ملک کس طرح تھا اور آج کس سطح پر ہے، اللہ تعالیٰ نے میری غیبی امداد کی، راجہ ظفر الحق نے سینیٹ میں میرے حق میں قرار داد تو پاس کروا دی لیکن انہیں خود سمجھ نہیں آئی کہ یہ قراردادکیسے پاس ہو گئی، پارلیمنٹ نے قرارداد کو پاس کیا اور ڈکٹیٹر کے بنائے گئے قانون کو ختم کیا۔

منگل کو وکلاء برادری سے ملاقات کے بعد خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میرا آج بھی سپریم کورٹ سے جھگڑا نہیں، فیصلے پر عملدرآمد کیا لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا، مجھے فرضی اور خیالی تنخواہ پر نکالا گیا، کچھ لوگوں کی خواہش تھی کہ نواز شریف پارٹی کا صدر نہ ہو، وہ میری صدارت کے پیچھے پڑے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان برداشت نہیں کر سکتے، میں گھبرانے والا نہیں ہوں۔

میں اس سے زیادہ کٹھن مراحل دیکھ چکا ہوں، جنرل مشرف کی خواہش تھی کہ میری 27سال کی سزا سزائے موت میں تبدیل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں اصول اور نصب العین کیلئے کھڑا ہوں، آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتا ہوں، آپ کو پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے میرا ساتھ دینا ہو گا، میں آج ملک و قوم کی محبت میں کھڑا ہوں، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ایسا کیا ہوا تھا کہ 1971ء کا سانحہ پیش آیا، بنگالیوں نے پاکستان کیلئے بہت کوشش کی تھی، پاکستان کے دولخت ہونے کے محرکات کا مطالعہ بہت ضروری ہے، حمود الرحمان کمیشن نے اس معاملے پر سچی اور کھری رپورٹ سنائی، آج بھی اس طرح کے کھیل کھیلے جا رہے ہیں۔

آج تک کسی نے جسٹس حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر توجہ نہیں دی، کالے کوٹ والے معزز وکیل حق کی اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں، پاکستان کو ایک بہترین فلاحی ریاست بنائیں۔ نواز شریف نے کہا کہ پانچ ماہ پہلے ملک کس طرح پر تھا اور آج کس سطح پر ہے، فیصلہ آپ خود ہی کرلیں، قصور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نہیں بلکہ اس فیصلے کا ہے جس سے مجھے نااہل کیا گیا، ملک کے آئین سے غداری کرنے والوں کا آج تک کوئی احتساب نہ کر سکا۔

ماضی میں جب کبھی مارشل لاء لگتا تو کسی کو خبر نہ ہوتی تھی جبکہ آج حالات مختلف ہیں، ٹرمپ کے بیان سے ہماری تضحیک ہوئی، ان کا بیان ناقابل برداشت ہے، ٹرمپ کے بیان سے ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ایسا وقت کیوں آیا؟اگر میں نے 100روپے کی کرپشن بھی کی ہوتی تو نظر اٹھانے کے قابل نہ ہوتا، میری کالج کی زندگی سے حساب لیا گیا مگر ایک روپے کی کرپشن بھی سامنے نہیں آئی، عمران خان نے آف شور کمپنی کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے۔ 

مخالفین مائنس نواز شریف چاہتے تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ مخالفین مائنس نواز شریف چاہتے تھے، مگر ان کے خواب چکنا چور ہوئے، انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ راجہ ظفر الحق نے سینیٹ میں میے حق میں قرار داد پاس کرا دی جس کی راجہ ظفر الحق کو بھی سمجھ نہیں آرہی کہ قرار داد کیسے پاس ہو گئی ہے، جس پر حاضرین نے قہقہے بلند کئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی امداد سمجھتا ہوں، قرار داد کے پاس ہونے سے پہلے ہی عجیب فضاء پیدا ہو چکی تھی، ہمارے بھی کچھ لوگوں نے اس قرار داد پر ووٹ نہیں دیا، پارلیمنٹ نے قرار داد کو پاس کیا اور ڈکٹیٹر کے بنائے گئے قانون کو ختم کیا، پارلیمنٹ نے مجھے عزت دی۔