171

چوہدری محمود بشیر، زاہد حامد کی جگہ نئے وزیر قانون مقرر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکنِ قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک کو نیا وفاقی وزیرِ قانون مقرر کردیا۔

صدر ممنون حسین نے ایوانِ صدر میں ایک خاص تقریب میں مسلم لیگ (ن) کے لیڈر چوہدری محمود بشیر ورک سے وفاقی وزارت کا حلف لیا۔

حلف برداری کی اس تقریب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وفاقی وزار اور ارکانِ پارلیمنٹ سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔

صدر ممنون حسین نے چوہدری محمود بشیر ورک کو وزارت قانون کا قلمدان سمبھالنے پر انہیں مبارک باد دی اور امید کا اظہار کیا کہ وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں بنائیں گے۔

گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمود بشیر ورک حکمراں جماعت کے ساتھ کافی عرصے سے منسلک ہیں۔

خیال رہے کہ وزارتِ قانون کا عہدہ نومبر میں سابق وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد سے خالی ہے جو انہیں مذہبی جماعت کی جانب سے فیض آباد دھرنے اور بعدِ ازاں ملک بھر میں ہونے والے پُر تشدد مظاہروں اور دھرنوں کے بعد دینا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زاہد حامد پہلے مستعفی ہوجاتے تو کشیدگی نہ ہوتی،عارف علوی

مذہبی جماعت کے مظاہرین نے الزام عائد کیا تھا کہ زاہد حامد نے مبینہ طور پر انتخابی حلف نامے میں ختمِ نبوت سے متعلق شق میں جان بوجھ کر تبدیلی کی۔

اپنے استعفے کے بعد زاہد حامد نے کہا تھا کہ انہوں نے ملک میں جاری مظاہروں کو ختم کرنے اور امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے خاطر استعفیٰ دیا ہے۔

یاد رہے کہ حلف نامے میں ہونے والی اس تبدیلی کو اُس کی اصل شکل میں بحال کر دیا گیا تھا تاہم اس حوالے سے زاہد حامد کا کہنا تھا کہ وہ اس تبدیلی میں براہِ راست ملوث نہیں تھا اور یہ تبدیلی غیرارادی طور پر رونما ہوئی تھی۔