179

سیاسی درجہ حرارت‘ وزیراعلیٰ بلوچستان کا استعفیٰ

امریکی دھمکیوں اور امداد کی بندش کے اعلانات کیساتھ پیدا ہونے والی صورتحال کیساتھ سیاسی میدان میں حدت کا گراف بلوچستان کی صورتحال‘ وزیراعلیٰ کے استعفے اورڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے تحریک کے اعلان سے مزید بڑھ گیا ہے ‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستا ن نواب ثناء اللہ زہری اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے ہیں وزیراعلیٰ کے استعفے کے بعد بلوچستان کی سیاسی صورتحال کیارخ اختیار کرتی ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ‘ دریں اثناء عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 17 جنوری سے حکومت کیخلاف تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔

‘ آل پارٹیز کانفرنس کی سٹیڈنگ کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے طاہر القادری کا کہنا ہے کہ اب کی بار بات صرف استعفوں تک محدود نہیں رہی (ن) لیگ کی حکومت کا خاتمہ کریں گے شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو زبردستی گھر بھجوائیں گے ‘ ان کا کہنا ہے کہ ملک گیر احتجاج کیلئے ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے پنجاب حکومت نے بھی حکمت عملی تیار کی ہے،سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی نا اہلی سے متعلق فیصلے سے انتشار پھیلا ہے لہٰذا عوام کو سامنے آنا ہوگا دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ردی کی ٹوکری میں جائیں گے مریم نواز کا ٹوئیٹر پیغام میں کہنا ہے کہ جمہوریت کے نام لیوا جمہوریت کے گورکن سے جا ملے ہیں یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خود وزیر خارجہ خواجہ آصف یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں ۔

‘ امریکی ادارے سی آئی اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آخری موقع دیا ہے ‘ امریکی اقدامات بھارتی رویہ اور افغانستان سے آنے والے بے بنیاد الزامات پر مبنی بیانات سے پیدا صورتحال وطن عزیز میں سیاسی استحکام اور سیاسی معاملا ت کے باہمی ڈائیلاگ کے ذریعے طے کرنے کی متقاضی ہے اس سب کیساتھ خود انحصاری کی منزل تک پہنچنے کیلئے معیشت کو مستحکم بنانے کی ضرورت بھی ہے تاکہ اکانومی کو کھربوں روپے کے قرضوں سے نجات مل سکے ۔

خیبر پختونخوا کابینہ کے فیصلے

خیبر پختونحوا کابینہ کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا اہم نکات پر مشتمل تھا کابینہ نے دیگر فیصلوں کیساتھ صوبے میں عطائیت کی حوصلہ شکنی کیلئے ڈپٹی کمشنرز کیساتھ اسسٹنٹ اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو بحیثیت انسپکٹرز مقرر کرنیکی منظوری بھی دی وطن عزیز میں پریونشن آف مس یوز آرڈیننس 1962ء میں اس حوالے سے قواعد موجود ہیں صوبائی کابینہ کا فیصلہ عطائیت کے حوالے سے حکومت کے احساس کا عکاس ضرور ہے تاہم صوبے کے وسیع و عریض جغرافیے میں انسپکٹرز کواپنے کام کیلئے وسائل اور افرادی قوت فراہم کرنابھی ضروری ہے اگر اس سلسلے میں گراس روٹ لیول پر چیک نہ کیا گیا اور بات صرف چند چھاپوں تک محدود رہی تو کابینہ کا فیصلہ بے ثمر ہی رہے گا اس کے ساتھ دستور میں ترمیم کے نتیجے میں این جی اوز کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے بھی موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ صرف صحیح معنوں میں خدمات فراہم کرنیوالی تنظیمیں ہی رہ سکیں عطائیت کے خاتمے اور این جی اوز کو ریگولیٹ کرنے کیلئے بہتر ہے کہ بلدیاتی اداروں کے منتخب اراکین سے معاونت حاصل کی جائے ۔