98

کون پوچھے گا؟

امریکہ کی طرف سے پاکستا ن کو دھمکی آمیز بیانات کی گونج ابھی باقی ہے حیر ت ہے کہ کس قدر آسانی کے ساتھ امریکہ نے ہمارے حکمرانوں کی محنت کو نظر انداز کردیاہے حالانکہ انہوں نے تو خدمت میں کوئی کسراٹھانہ رکھی تھی مگر آج انہی عاقبت نااندیشوں کی وجہ سے امریکہ ہمیں چندارب ڈالر کیلئے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ساتھ ہی ڈومور کی رٹ بھی لگائے ہوئے ہے اور اس کی طرف سے دھمکیاں بھی عروج پرہیں اگر دیکھاجائے تو افغانستان میں پاکستان کو ود مختلف حالات سے گزرناپڑاہے گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بالواسطہ طورپر دو جنگیں لڑی ہیں ایک تو افغانستان پر روسی یلغار کے بعدشروع ہوئی تھی اس وقت ایک ڈکٹیٹر قوم پر مسلط تھا جس نے جمہوری حکومت کاتختہ الٹ کراقتدا رپر قبضہ کیاتھا تاہم افغان جنگ کے معاملہ میں اس نے سپر پاور کو ناکوں چنے چبوادئیے تھے اس جنگ کے سب سے بڑے وکیل میجر عامر آج بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں ہم نے افغانوں کی نہیں بلکہ اپنی جنگ لڑی اوراسی جنگ کے نتیجہ میں نہ صرف پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل ہوا ،وہ عالمی گھیراؤ سے نکل آیا۔

ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی کمر توڑ دی گئی بلکہ افغانستان میں بھارتی اثرورسوخ ختم کرا دیا گیا، افغان سرزمین پرپنپنے والی پاکستان سے علیحدگی کی تحریکیں بھی دم توڑ گئیں روسی خطرے کا ہمیشہ کیلئے سدباب کردیاگیا اورسب سے بڑھ کر ملک کو بہترین اور مؤثرترین اینٹیلی جنس نیٹ ورک آئی ایس آئی کی صورت میں ملاان کے بقول اس جنگ کے دس سال بعدبھی ہمارے قبائلی علاقہ جات اور پور ا صوبہ امن و امان کے لحاظ سے پورے ملک میں مثالی تھے لیکن 2001میں ایک اور ڈکٹیٹر نے جس جنگ میں حصہ دار بننے کا فیصلہ کیا اس کی بدولت اب تک60ہزار شہری اور دس ہزار فورسز کے جوان جام ہائے شہادت نوش کرچکے ہیں خودکش حملوں کی صورت میں خوفناک تباہی کا آج بھی سامناہے جبکہ ساتھ ہی پرانے دوستوں کو دشمن بھی بنابیٹھے ہیں میجر عامر کے دلائل کامقابلہ کرناہمیشہ سے بڑا مشکل رہاہے اسی لیے بہتر یہ ہوگاکہ حکومت موجود ہ حالات میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرکے اس حقیقت کاسراغ لگانے کی کوشش کرے کہ دونوں میں سے کونسی جنگ ہماری تھی او ر کونسی پرائی تھی اس مطالبہ کی حمایت میجر عامر خود بھی کررہے ہیں۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو جوبات ایک عرصہ سے وہ تنہا کہتے چلے آرہے تھے کہ یہ موجودہ جنگ ہماری نہیں ہے اس پر آج پوری قوم کااتفاق نظر آتاہے حتی کہ اب تو دفترخارجہ کی طرف سے موجودہ جنگ کو پرائی جنگ کہاجانے لگاہے ایسے میں اگر غیر جانبدارانہ انداز میں تحقیق کے بعدپرائی جنگ کاسراغ لگا کر اس میں حصہ لینے کافیصلہ کرنے والوں کی نشاندہی بھی کردی جائے تو قوم کو ان لوگوں کو پہچاننے میںآسانی ہوگی جن وجہ سے آج وطن عزیز کو کٹہر ے میں کھڑا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں حیرت ہے کہ کس قدر آسانی کے ساتھ ہمارے حکمرانوں نے پرائی جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیااور آج ہمیں امریکہ کے فاتر العقل صدر کے طعنے سننے کو مل رہے ہیں قومو ں کی زندگی میں سب سے اہم موڑ اس وقت آتاہے جب وہ طرز کہن پر اڑتے ہوئے آئین نو سے راہ فرار اختیار کرتی ہے باالفاظ دیگر تبدیلی کی لہر کو روکنے کی مصنوعی کوششیں کی جاتی ہیں جس کے بعد پھر معاشرے ٹوٹ پھوٹ کاشکارہونے لگتے ہیں آج ہم بھی اسی دوراہے پر کھڑے ہیں الزام تراشی سے بہتر ہے کہ دونوں افغان جنگوں کے حوالے سے اصل حقائق اور ان کے ہم پراثرات کے سلسلہ میں قومی تحقیقاتی کمیشن قائم کیاجائے اور پھر اس کی رپورٹ کو سرد خانے کی نذرکرنے کے بجائے اس کو نیشنل ایکشن پلان کاحصہ بناکر آئندہ کیلئے دوسروں کی خاطر اپنا کندھا استعمال ہونے سے بچانے کی حکمت عملی وضع کی جائے اسی کو نئے بیانیے کی بنیاد بھی بنایاجاسکتاہے کمیشن کی رپورٹ کی بنیادپر مستقبل کی خارجہ پالیسی بھی وضع کی جانی چاہئے ویسے بھی خارجی سطح پر دوست دشمن تبدیل ہوتے رہتے ہیں مگر یہ تبدیلی قومی مفادات اور ملی وقار کوملحوظ خاطر رکھ کرکی جائے تو بہتر رہتی ہے اقبال نے بجا کہاتھاکہ صدہزارانجم کے خون سے نئی سحر پید اہوتی ہے اس نئے سویرے کیلئے ہم نے جو قربانیاں دی ہیں ان کو اب رائیگاں جانے دینے سے بچانے کی ضرور ت ہے ۔