110

زینب واقعے کیخلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے شدید فائرنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے فوٹو: فائل

قصور: کم سن زینب سے زیادتی و قتل کے خلاف شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور احتجاج کرنے والے مشتعل مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ انتظامیہ نے حالات پر قابو پانے کے لیے رینجرز کو طلب کرلیا۔

 قصور میں کم سن زینب سے زیادتی و قتل کے واقعے کیخلاف خواتین سمیت بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس و انتظامیہ کی نااہلی کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ واقعے کے خلاف شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی اور کاروبار زندگی متاثر رہا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ زینب 5 روز سے اغوا تھی لیکن اس کے باوجود پولیس نے اس کی بازیابی کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

مظاہرین نے کمشنر آفس پر دھاوا بولتے ہوئے دفتر کا گیٹ توڑ دیا اور ڈنڈوں سے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے براہ راست سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت علی اور شعیب کے نام سے ہوئی ہے جن میں سے ایک طالب علم ہے۔ آئی جی پنجاب عارف نواز نے کہا ہے کہ تفتیش کریں گے کہ پولیس نے مظاہرین پر گولی کیوں چلائی۔

مظاہرین دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کرائے بغیر اسپتال سے باہر لے آئے اور میتیں ڈی ایچ کیو اسپتال کے سامنے رکھ کر دھرنا دے دیا۔ اسپتال میں آنے والے پولیس اہلکاروں پر مظاہرین نے حملہ کردیا تو پولیس اہلکار جان بچانے کے لیے اسپتال میں چھپ گئے۔ چاروں طرف مظاہرین کا راج ہے جو حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے ہیں اور بچی سے زیادتی کے ذمہ دار شخص اور دو مظاہرین کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پورے شہر میں ہنگامے ہورہے ہیں اور جگہ جگہ شہری احتجاج کررہے ہیں جب کہ واقعے پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے قصور میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو 5 روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جب کہ ملزمان نے بچی کی لاش کو کچرا کنڈی میں پھینک دیا۔