136

قصور میں حالات بدستور کشیدہ، احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری

قصور: کم سن زینب کے لرزہ خیز قتل پر قصور میں فضا آج بھی سوگوار ہے، شہر کے مختلف مقامات پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ قصور کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہے۔

قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ بچی زینب کا قاتل اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا جس پر آج دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور شہر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔

شہر کے تمام بازار اور اسکولز بند ہیں، فیروز پور روڈ ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند ہے اور مظاہرین کالی پل چوک پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

دوسری جانب مشتعل مظاہرین نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی نعیم صفدر کے ڈیرے پر دھاوا بول دیا، وہاں توڑ پھوڑ کی اور کرسیوں کو آگ لگادی۔

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا، جس پر پولیس نے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

اس سے قبل مشتعل مظاہرین نے ڈسٹرکٹ اسپتال کے سامنے ٹائر نذرآتش کر کے شدید احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ کے دوران اسپتال کا مرکزی دروازہ بھی توڑ دیا، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ زینب قتل کے ملزمان کو فوری گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال فوری طور پر خالی کروا کر اِن ڈور، آؤٹ ڈور، ایمرجنسی اور دیگر وارڈز کو تالے لگا دیے گئے جب کہ ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹرز اور دیگر عملہ بھی چلا گیا۔

دوسری جانب وکلاء کی جانب سے قصور میں بچی کے قتل کے خلاف ہڑتال اور یوم سیاہ منایا جارہا ہے، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ہڑتال کی جارہی ہے جب کہ لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چوہدری ذوالفقار کا کہنا ہے کہ وکلا عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے، بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور سیاہ پرچم لہرائیں گے۔

 پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔ 

ترجمان پنجاب حکومت محمد احمد خان کا جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنا اور ملزم کی گرفتاری دو صورتحال کا سامنا ہے، کچھ سیاسی قوتوں نے اس واقعے کو اس طرح اٹھایا کہ مظاہرین سے مذاکرات کی دو مرتبہ کوشش ناکام ہوئی۔

ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ مظاہرین کا غم و غصہ پولیس کے خلاف ہے، گزشتہ روز پولیس کی جانب سے فائرنگ نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس کا دفاع بھی نہیں کیا جاسکتا، مظاہرین پولیس کی گاڑی کو دیکھتے ہی اس پر حملے کر رہے ہیں۔

ترجمان محمد احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے اور پولیس کو مظاہرین کی مزاحمت پر ردعمل نہ دینے کا کہا ہے اور فی الوقت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا ہے تاکہ کسی عام شہری کو زندگی کو نقصان نہ ہو۔

ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج:

7 سالہ زینب کے قتل اور ملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف قصور سمیت ملک کے دیگر شہریوں میں بھی احتجاج جاری ہے۔

پشاور، گجرانوالہ، فیصل آباد اور راولپنڈی میں شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا جب کہ آزاد کشمیر میں بھی قصور واقعے کے خلاف لوگ بینرز اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے۔

 

جیونیوز

پولیس فائرنگ سے جاں بحق افراد کا نماز جنازہ ادا

زینب کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شعیب اور محمد علی کی نماز جنازہ کالج گراؤنڈ میں ادا کردی گئی۔

جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا جس کی رپورٹ آج  ہی آنے کا امکان ہے۔

مظاہرین پر فائرنگ کے الزا م میں 2 پولیس اور دو سول ڈیفنس اہلکار گرفتار ہیں جب کہ مقتولین کے بھائیوں کی مدعیت میں 2 مقدمات 16 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیے گئے جس میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

 

ادھر بچی سے زیادتی کے ملزم کا پولیس کی جانب سے جاری کیا گیا خاکہ بھی غلط نکلا کیوں کہ خاکہ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص سے مشابہت نہیں رکھتا۔ذرائع کے مطابق خاکہ جلد بازی میں اہل علاقہ کی معلومات کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔

زینب کا اغوا اور قتل

قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 7 سالہ زینب 4 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء ہوئی اور 4 دن بعد اس کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی۔

پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا، جس کی تصدیق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوئی۔

قصور میں درندگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں

قصور میں کمسن زینب کے ساتھ زیادتی اور بہیمانہ قتل اس علاقے میں کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی گزشتہ ایک سال کے دوران 11 بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا جبکہ درندہ صفت مجرمان کی ہوس کا شکار ہونے والی 5 سالہ کائنات آج بھی اسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 بچیوں کے ڈی این  اے ٹیسٹ میں ایک ہی ملزم کا ڈی این  اے تھا لیکن اس کے باوجود یہ درندہ اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ جرم بلا خوف کیا جارہا ہے۔