216

سیاسی استحکام کی ضرورت

بلوچستان کے سیاسی بحران میں شدت پر وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق استعفے کافیصلہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر کیاگیا‘ ثناء اللہ زہری کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے صوبے کے حالات خراب ہوں اور یہ کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے‘ وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے کے بعد اگر بلوچستان میں نئے قائد ایوان کا انتخاب دستور میں دیئے گئے قاعدے کے مطابق ہوجاتا ہے تو یہ سیاسی مسئلے کا سیاسی حل ہوگا وطن عزیز میں سیاسی مسائل کو بروقت باہمی رابطوں اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی روش اختیار کرلی جائے تو معاملات قابل تشویش حدتک پہنچنے ہی نہ پائیں نہ ہی ان حالات میں پیدا ہونے والا عدم استحکام مجموعی ملکی صورتحال اور خصوصاً معیشت کو متاثر کرنے پائے‘ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مستعفی ہونے کے روز ہی بلوچستان اسمبلی کے قریب دھماکے میں 4اہلکاروں سمیت 6افراد جاں بحق ہوئے‘ میڈیا رپورٹس میں بتایاگیا ہے کہ حملہ آور کا ٹارگٹ بلوچستان اسمبلی تھی‘ وطن عزیز میں ایک جانب سیاسی محاذ آرائی اور ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین لب ولہجے کے ساتھ بیانات کا تبادلہ جاری ہے‘ وہیں خارجہ محاذ پر امریکہ کے بیانات کا سلسلہ بھی چل رہا ہے‘ ۔

پینٹاگون ایک بار پھر اپنا مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کیخلاف کاروائی کرے جن کیخلاف ہم چاہتے ہیں‘ پینٹا گون یہ بھی کہہ رہا ہے کہ امداد کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے‘ دریں اثناء پاکستان نے فوجی امداد کی بندش پر اپنے جواب میں امریکہ سے فوجی اور انٹیلی جنس تعاون معطل کردیا ہے‘ وزیر دفاع خرم دستگیر اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان اہم خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی رک گیا ہے‘ اس کیساتھ ہی پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے حقائق نامہ امریکہ کے حوالے کردیا ہے‘ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان 74ہزار جانوں کے ساتھ ایک کھرب 23ارب ڈالرز کا معاشی نقصان بھی اٹھاچکا ہے‘پاکستان کا کیس ایک ایسی حقیقت ہے جس سے چشم پوشی ممکن نہیں تاہم بدلتی صورتحال کا تقاضا یہ بھی ہے کہ خود پاکستان کے اندر سیاسی استحکام ہو اور یہ استحکام کھلے دل اور لچکدار رویے کیساتھ ایک دوسرے کے موقف کو سننے کے بعد اہم فیصلوں تک پہنچنے سے ممکن ہوسکتا ہے‘ اس مقصد کیلئے سینئر سیاسی قیادت کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

یونیورسٹیوں کا مالی بحران

خیبرپختونخوا میں پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافے کے جاری سلسلے میں پاک آسٹریا یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے قیام کیلئے بھی پیش رفت ہو رہی ہے‘ اس حوالے سے تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ خیبرپختونخوا کی بعض پرانی جامعات کی اس وقت کی مالی مشکلات آگے چل کر بحران کی صورت اختیار کرسکتی ہیں‘بعض یونیورسٹیوں کے پاس ملازمین کو پنشن دینے کیلئے بھی پیسے نہیں‘ جب کسی یونیورسٹی کے پاس اپنے اہم امور نمٹانے کیلئے پیسے کم ہوں تو وہ سٹوڈنٹس کو سہولیات اور خصوصاً ریسرچ کیلئے کیا کام کرسکتی ہے‘ صوبے میں ڈسٹرکٹ کی سطح پر جامعات کا منصوبہ اپنی جگہ ضرورت پہلے سے موجودہ یونیورسٹیوں کی مالی مشکلات کے حل اور یہاں معیار تعلیم کیساتھ تحقیق کیلئے انتظامات کی کڑی نگرانی کی ہے جس کیلئے فوری پلاننگ کرنا ہوگی۔