363

ریپڈ بس منصوبہ ٗ خیبر پختونخوا حکومت کو پیچیدگیوں کا سامنا

پشاور۔صوبائی حکومت کی جانب سے پچاس ارب روپے کے لگ بھگ کے حامل بس منصوبہ بی آر ٹی پرکام کے آغاز کے بعد بعض تیکنیکی معاملات کے باعث کام کی سست روی کے بعد حکومتی کے دعوے کے مطابق چھ ماہ کے دوران اس کی تکمیل کے حوالہ سے سوالات اٹھنے لگے ہیں ارباب سکندر فلائی اوور کے ساتھ متوازی فلائی اوورکی تعمیر ،فردوس چوک کے قریب انڈرپاس کی تعمیر کے دوران شاہی کٹھے کی موجودگی اور ڈرائی پورٹ کے اوپر سے روٹ گذارنے کے لیے فلائی اوور کی تعمیر کے لیے ریلوے سے تاحال این او سی نہ ملنے کے بعدمنصوبہ کی تکمیل میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی طرف سے جلد بازی کی بدولت منصوبہ میں کئی قسم کی پیچیدگیاں سامنے آچکی ہیں پہلے مرحلہ میں ارباب سکندرفلائی اوور کے ساتھ ساتھ جی ٹی روڈ پر ہی روٹ گذرنی تھی اور ا س کے لیے اچھی خاصی سڑک کی اکھاڑ پچھاڑ بھی کی گئی مگر اب فیصلہ کیاگیاہے کہ جی ٹی روڈ کے بجائے ارباب سکندر فلائی اوور کے متوازی دوسری فلائی اوور تعمیر کرکے روٹ اس پر سے گذارا جائے گا جبکہ نئے فلائی اوور کی تعمیر کے لیے ابھی تک کام کا آغازنہیں ہوسکاہے اسی طرح فردوس سے آگے قلعہ بالاحصار کے سامنے سے روٹ کے لیے انڈرپاس بنایاجارہاتھا جس پر کافی کام بھی ہوا تھا مگر قلعہ کے سامنے شاہی کٹھہ کی برآمدگی کے بعداب یہاں بھی پیچیدگیوں کاسامنا کرناپڑ رہاہے اور متعلقہ حکام سرجوڑ کربیٹھ گئے ہیں ذرائع کے مطابق ایم ایم اے دور میں بھی اسی وجہ سے یہاں سے انڈرپاس نہیں گذارا جاسکاتھاکہ یہاں پر شاہی کٹھہ موجودتھا اور متعلقہ حکام ا س حقیقت سے آگاہ تھے مگرپھربھی یہاں انڈر پاس گذارنے کافیصلہ کرتے ہوئے وقت اور رقم کاضیاع کیاگیا دوسر ی طرف ڈرائی پورٹ کے اوپر سے بی آر ٹی کے لیے فلائی اوور کی تعمیر کے لیے ریلوے بات توہوچکی ہے ۔

اور ابتدائی طور پر ریلوے کو دس کروڑ روپے بھی دئیے جاچکے ہیں تاہم ابھی تک ریلوے کی طرف سے این او سی جاری نہیں ہوسکی ہے جس کے بعداب ان خدشات کااظہار کیاجانے لگاہے کہ چمکنی سے لے کر حیات آبادمین کوریڈور کی تعمیر چھ ماہ میں ہونی مشکل ہے اور اس میں دو سے تین ماہ تک تاخیرکاخدشہ ہے جس سے شہریوں کو موسم گرمامیں بھی ٹریفک کے بدترین مسائل کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے اس حوالہ سے بی آرٹی کے خلاف عدالتی جنگ لڑنے والے جے یو آئی کے رہنما مولانا امان اللہ حقانی کا کہناہے کہ صوبائی حکومت نے جلد بازی میں اور ایک بے مقصدمنصوبہ شروع کرکے صوبہ کواربوں روپے کامقروض بنادیاہے۔

اسی جلد بازی کی وجہ سے آئے روز مختلف قسم کی پیچیدگیاں سامنے آرہی ہیں جن کیوجہ سے منصوبہ کی بروقت تکمیل کاکوئی امکان نہیں تاہم سرکاری ذرائع کاکہناہے کہ منصوبہ کی تکمیل میں تاخیر کاکوئی امکان نہیں سرکاری ذرائع کے مطابق تاجروں کے احتجاج کے باعث ڈیزائن میں تبدیلی کی وجہ سے تیکنیکی مشکلات کاسامناہے مگر کام تیزی سے جاری ہے اور منصوبہ بروقت مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی سرکاری ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ تین شفٹوں میں کام جاری ہے اور مانیٹرنگ کے لیے قائم کمیٹی باقاعدگی سے حکام بالا کام کی رفتارکی رپورٹ دے رہی ہے اورامیدہے کہ اپریل میں افتتاح ہوجائے گا