195

فاٹا کیلئے عدالتی دائرہ کارکابل منظور

بہت تاخیر سے سہی قومی اسمبلی نے اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ کارکو قبائلی علاقہ جات تک وسعت دینے کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق قومی اسمبلی میں لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کے چےئرمین سید نوید قمر نے فاٹااصلاحات سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی‘ اس حوالے سے بتایاگیا ہے کہ پہلے مسودہ میں سپریم کورٹ کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ذکر تھا تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کیساتھ پشاور ہائی کورٹ کو شامل کرلیاگیا‘خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف کے ارکان نے اس موقع پر احتجاج بھی کیا ریاستوں اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے ایک بارپھر کہا ہے کہ قبائلی علاقہ جات کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو ہی قبائلی عوام کی خواہش کے مطابق یقینی بنایاجائیگا‘ ان کا کہنا ہے کہ ہر پاکستانی کو سپریم کورٹ اور عدالت عالیہ تک رسائی حاصل ہونی چاہئے‘۔

قبائلی علاقوں میں اصلاحات اور انہیں قومی دھارے میں لانے کیلئے حکومت کا اقدام یقیناًاس حوالے سے ریکارڈ کا حصہ رہے گا اس مقصد کیلئے مشاورت کا عمل بھی ہوا اور خصوصی کمیٹی نے مختلف علاقوں کے دورے کرنے کے بعد سفارشات تیار کیں‘ ان سفارشات پر عمل درآمد کیلئے دیا جانیوالا ٹائم شیڈول طویل المدتی تھا ہی اس پر کام کی رفتار اس سے بھی زیادہ سست روی کا شکار تھی‘ اس پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور بات دھرنے تک پہنچ گئی‘ بعد میں اس حوالے سے بل عین وقت پر ایوان کے ایجنڈے سے ہٹابھی لیاگیا جس پر اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا‘جہاں تک بل یا اصلاحات کے پورے عمل پر تحفظات اور خدشات کی بات ہے تو اس پر بات کرنے کا راستہ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے‘تاہم اصل ضرورت مخصوص جغرافیے اور تعمیر وترقی کی دوڑ میں نسبتاً پیچھے رہ جانیوالے فاٹا کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہے‘ اس عمل میں اگر کسی جانب سے کوئی بھی مثبت تجویز سامنے آتی ہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔

نئے منصوبوں کی منظوری کافی نہیں

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے کثیر لاگت کے 32منصوبوں کی منظوری دی ہے‘ مختلف شعبوں کے ان منصوبوں میں پشاور کا چڑیا گھر‘ ملازئی ہاؤسنگ سکیم‘ انسولین فارلائف کی توسیع کیساتھ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اضافی وارڈز کی تعمیر بھی شامل ہے‘ کسی بھی صوبے میں نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری قابل اطمینان ہی ہوتی ہے تاہم کسی پراجیکٹ کے ثمرات کاانحصار جن عوامل پر ہوتا ہے وہ اکثر ہمارے پالیسی سازوں کی نظروں سے اوجھل رہتے یا رکھے جاتے ہیں‘ منصوبے کی فیزیبلٹی میں ارضی حقائق اور ضروریات کا ادراک‘ منصوبوں کی بروقت تکمیل‘ تعمیراتی کام میں شفافیت اور پراجیکٹس کی آپریشنل ہونے کے بعد دیکھ بھال بھی ضروری ہے ضروری یہ بھی ہے کہ نئے منصوبے شروع کرنے کیساتھ پہلے سے موجود انفراسٹرکچر کو سیٹ رکھاجائے اور لوگوں کو خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے‘ ہسپتالوں میں نئے وارڈز کی ضرورت اپنی جگہ پہلے سے موجود وارڈوں میں کراہتے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنا دس دس منزلہ ایسی عمارتیں بنانے سے بہتر ہے کہ جن میں لوگ چیک اپ کے انتظار میں ہی انتقال کرجائیں‘ تبدیلی کے جاری عمل میں ترقیاتی حکمت عملی کے خدوخال میں بھی تبدیلی ضروری ہے جس کیلئے سوچ بدلنا ہوگی۔