87

میں پھربھٹک گیا

ایک زمانے میں بادشاہوں کے درباروں میں اگر وہ پڑھے لکھے ہوتے تھے اور اکثر نہیں ہوتے تھے اگر ذوق جمال رکھتے تھے کم از کم ہمارے ترک حکمران جنہیں جانے کیوں مغل کہا جاتا ہے اکثر وسیع حرم کے علا وہ ذوق جمال بھی رکھتے تھے‘ فارغ وقت میں اپنی تزک تحریر کرتے تھے یا ٹوپیاں سیتے تھے اور نمازوں کے علاوہ بھائیوں کو بھی نہیں چھوڑتے تھے یعنی بقول ابن انشا... تو یہ باذوق حکمران اپنے گرد دانشوروں اور شاعروں(شاعر دانشوروں میں شمار نہیں ہوتے) کا ہجوم رکھتے تھے جو انہیں فہم و دانش کے مسائل باقاعدہ حل کرکے دیتے تھے‘ انکے سوا بادشاہ سلامت جب ذرا تفریح کے موڈ میں ہوتے تھے تو درباری مسخرے کو طلب کرتے تھے اور وہ انہیں لطیفے سنا کر محظوظ کرتا تھا‘ ان دنوں ابھی مزاحیہ شاعروں کا ورودنہ ہوا تھا... اگر کہیں ہوتے تھے تو بھوکے مرتے تھے لیکن کرنا خدا کا کیا ہوا کہ زمانے یوں بدلے کے اہل دانش و بینش تو بھوکے مرنے لگے اور لطیفے سنانے والے اہل اقتدار کے چہیتے ہوگئے اور دیگر حضرات خودی کو بلند کرتے رہے اور انہوں نے جھک جھک کر رفعتیں پائیں... علاوہ ازیں مزاحیہ شاعروں کا اقبال علامہ اقبال سے بھی بلند ہوگیا... لطیفہ سنانا ایک نہایت تہذیب یافتہ آرٹ ہے...اور وہ ہرلطیفہ گو کا اپنا اپنا انداز ہے‘ یوسفی صاحب جب کوئی پرمزاح بات کرتے ہیں تو’’ پیڈے‘‘ منہ سے نہایت سنجیدہ شکل بناکر کرتے ہیں‘ ابھی کراچی کے ایک ادبی میلے میں وہ زہرہ نگاہ کے سیشن کی صدارت کر رہے تھے... ایک مدت سے نہ بولتے تھے اور نہ کسی کو پہچانتے تھے‘۔

اس روز وہ یکدم فارم میں آگئے... زہرہ نے کہا یوسفی صاحب اگر آپکی اجازت ہو تو میں اپنی فلاں نظم سنادوں... چپکے سے بولے‘ زہرہ تم ہر محفل میں یہی نظم سناتی ہو‘ میں اجازت نہ دوں تو بھی تم سناؤگی تو سنا دو... زہرہ نگاہ نے جانے کس حوالے سے ماں کی عظمت کے قصیدے بیان کئے تو یوسفی صاحب کہنے لگے اچھا تو اب ہم مردوں کو ماؤں کے ہم پلہ ہونے کیلئے زچگی کے عمل سے بھی گزرنا پڑیگا... کچھ لوگ لطیفہ سنانے کے دوران ذاتی طور پر ہنسنے لگتے ہیں اور آپ ایک احمقانہ شکل بنائے انہیں دیکھتے رہتے ہیں کہ دیکھئے یہ لطیفہ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور یہ لطیفہ آپ نے اس سے پیشتر انہی کی زبانی درجنوں بارسن رکھا ہوتا ہے... لطیفے کے اختتام پر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے وہ داد کیلئے اپنا ہاتھ بھی آگے کردیتے ہیں آپ اس صورتحال میں اپنا ہاتھ بڑھا کر ان کے ہاتھ پر مارنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں‘ ایک اور لطیفہ باز ادبی شخصیت ہیں جو لطیفہ شروع کرنے سے پیشتر ہی اپنا بھاڑ سا منہ کھول کرایک ڈکار لیتے ہیں اور پھر اپنے چہرے کے خدوخال کی لٹکاہٹ کو مزید لٹکا کر لطیفہ شروع کرتے ہیں... انکے لطیفوں پر نہیں ان پر ایک دنیا ہنستی ہے مزاحیہ شاعروں کے بارے میں کسی اور وقت میں ایک کالم باندھوں گا‘ میں فی الحال ان کا عتاب افورڈ نہیں کرسکتا کہ ابھی پچھلے دنوں ہی تو ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر آیا ہوں‘ انکے شعر سن کرمیرے زخموں کے ٹانکے ادھڑ جائینگے‘ ویسے مزاحیہ اداکار باب ہوپ نے اپنے ایک انٹرویو میں نہایت پتے کی بات کہی تھی... اس کا کہناتھاکہ ایک مزاحیہ فقرہ ادا کرنے کے بعد چند مردہ نوعیت کے سادہ فقرے کہو تاکہ عوام آپکے فقرے سے لطف اندوز ہونے کے بعدسانس درست کر سکیں... ویسے نثرنگاری کیلئے بھی یہ ایک سنہری اصول ہے کہ ایک طاقت ور بیانیے کے بعد اپنی نثر کو ہموار اور نارمل کردو...

ہمارے کچھ مزاح نگار ہر فقرے کو پرمزاح بنانے کے چکر میں آپکو چکرادیتے ہیں‘ یوسفی صاحب نے ایک ایسے ہی ہردل عزیز مزاح نگار کے بارے میں معصومیت سے کہا تھا کہ انکا کمال یہ ہے کہ انہیں پڑھنے کے بعد آپکو اردو کے کسی اور بڑے مزاح نگار کو پڑھنے کی حاجت نہیں رہتی‘ سب کچھ انکے ہاں مل جائیگا... میری اس تحریر سے شاید شائبہ ہوکہ میں مزاحیہ شاعروں اور مزاح نگاروں سے بھی بغض رکھتا ہوں... میری نیت پر شک نہ کیجئے... مجھے ذاتی طورپر ایک مزاح نگار ہونے کا کچھ دعویٰ نہیں اگرچہ کوئی بھی نثر نگار تب تک بڑا لکھنے والا نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تحریر میں کہیں کہیں بہت منفرد مزاح نگاری کے ٹکڑے نہ ٹانکے گئے ہوں... میں اس سلسلے میں کرنل محمد خان‘ شفیق الرحمن اور محمد خالد اختر کا پیرو کار ہوں اور اسکا واضح ثبوت میری کتاب’’ خطوط‘‘ ہے جو ان تینوں بے مثال مزاح نگاروں کے ان خطوط پر مشتمل ہے جو انہوں نے میرے نام لکھے... میں کرنل محمد خان کی’’ بجنگ آمد‘‘ کو اردو ادب کی سب سے بڑی نثری کتاب مانتا ہوں... علاوہ ازیں میں ضمیر جعفری اور بابا ابوذری کی مزاحیہ شاعری کا بے حد مداح ہوں... ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘ پرے سے پراں سے پراں اور بھی ہیں... مجھے یاد ہے کہ کوئٹہ کی ایک شب میں ابوذری نے اپنے حقے کے کش لگاتے ہوئے اپنی ایک طویل مزاحیہ نظم سنائی تھی کم از کم آدھ گھنٹہ طویل... اور ہر شعر کمال کا تھا... جعفری صاحب اوربابا ابوذری شعر سناتے ہوئے اپنے چہرے کو مہدی حسن کی مانند بگاڑتے نہ تھے‘زبردستی داد وصول نہ کرتے تھے ... میں قدرے بھٹک گیا ہوں... ایک اٹھتہر برس کا بابا بگلوس بھٹکے گا نہیں تو کیا صراط مستقیم پر ہی چلتا جائیگا جبکہ وہ پہلے بھی ایام جوانی کے دوران بھی سیدھے راستے پر نہ چلا بھٹکتا ہی رہا... درصل مجھے یہ عرض کرنا تھا کہ آپ کسی ایسے لطیفے کو جو نسل درنسل چلا آرہا ہو اسے محض ایک لطیفہ نہ سمجھیں کہ وہ دراصل تصوف کا ایک پرتو ہے...

جتنے بھی لطیفے ایک مدت سے اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں ان سب میں تصوف کا ایک گہرا سبق ہوتا ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ مولانا روم کی مثنوی لطیفوں اور پرمزاح حکایات سے لبریز ہے‘ میں اس نتیجے پر ذاتی کھوج کے سہارے نہیں پہنچا بلکہ افغان ادیب ادریس شاہ کی مشہور کتاب’’ دے صوفیز‘‘ کے مطالعہ کے بعد پہنچا... شاہ صاحب کا انتقال ہو چکا‘ وہ لندن میں مقیم تھے اور اہل مغرب کے مزاج کے مطابق افغانستان اور صوفیاکرام کے بارے میں نہایت آسان اور بیسٹ سیلر کتابیں تصنیف کرتے تھے... انہیں بے حد شکایت تھی کہ رباعیات عمر خیام کا ترجمہ کرنے والے انگریز فزجیر لڈنے اس عظیم شاعر کی شرابی شاعری کا بیڑہ غرق کردیا ہے‘ وہ واجبی سی فارسی جانتا تھا اور اس نے اکثر مقامات پر اپنی شاعری کے مصرعے عمر خیام کے حوالے سے درج کر دیئے ہیں‘ یوں دنیا تک عمر خیام کی اصل شاعری نہیں پہنچی... کچھ ملغوبہ ساہے جو عمر خیام کے نام کر دیا گیا ہے‘ زندگی کے آخری ایام میں شاہ صاحب کے بقول انکے ہاتھ عمرخیام کی شاعری کا ایک مصدقہ نسخہ آگیا اور انہوں نے انگریز شاعر...

غالباً غذرا پاؤنڈ کی مدد سے رباعیات عمر خیام کا جینوئن ترجمہ نہایت عرق ریزی سے کیا... یہ وہی غدرا پاؤنڈ ہیں جن کی وفات پر اختر حسین جعفری نے ایک بے مثال نوحہ کہا تھا جس کے آخری شعر کا میں اکثر موقع کی مناسبت سے حوالہ دیا کرتا ہوں... تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں‘ تو جدا ایسے موسموں میں ہوا‘ جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے‘ بہرحال ادریس شاہ اور غدرا پاؤنڈ کا رباعیات عمرخیام کا یہ ترجمہ شائع ہوگیا‘ یقیناًیہ ترجمہ خیام کی شاعری کی روح آپ تک منتقل کرتا ہے... میں نے یہ دونوں ترجمے پڑھے تھے‘ فزجیرلڈ کے ترجمے میں روزی بہت تھی‘ آسانی بہت تھی جبکہ یہ نیا ترجمہ قدرے بوجھل تھا... اس نئے ترجمے پر’’ ٹائم‘‘ میگزین کے ادبی حصے میں ایک ریویو شائع ہوا... بے شک یہ نیا ترجمہ ایک عظیم کاوش ہے‘ ادریس شاہ جن کی مادری زبان فارسی ہے اورپاؤنڈ جو کہ انگریز ہیں انہوں نے حق ادا کر دیا... لیکن یہ نیا ترجمہ کارنس پر سجا ایک حنوط شدہ عقاب ہے جبکہ فزجیرلڈ کا ناقص ترجمہ ایک چڑیا ہے جو فضائے بسیط میں پرواز کرتی چلی جاتی ہے... میں پھر بھٹک گیا... راہ راست پر آتا ہوں‘ ...