92

غیر یقینی مستقبل

اچھے برے انسان زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہوتے ہیں کوئی طبقہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ بس وہ ہی پاک وصاف ہے اور دوسرے طبقوں کے افراد اس سے کسی طورکمتر ہیں‘آپ نے یہ بات ضرورمحسوس کی ہوگی کہ اس ملک میں کچھ عرصے سے گالم گلوچ ‘ دشنام طرازی ‘ ہرزہ سرائی اور الزام تراشی کی ایک فضا قائم ہو گئی ہے کہ جس میں مختلف طبقوں کے لوگ ایک دوسرے کے لتے لے رہے ہیں ‘ ایک دوسرے کیخلاف پھبتیاں کس رہے ہیں ایک دوسرے پر کیچڑاچھال رہے ہیں کسی کی بھی پگڑی محفوظ نظر نہیں آ رہی عام حالات میں ان کے جو راز شاید ساری عمر راز ہی رہتے اب لوگوں کی زبان پر آ گئے ہیں واٹس ایپ اور فیس بک کی شکل میں سوشل میڈیا نے تو مزید تباہی مچا دی ہے عوام کی نظر میں ان لوگوں کی عزت دو ٹکے کی ہو چکی ہے یہ مکافات عمل نہیں تو پھر کیا ہے ؟ قدرت ان کو اس سے بڑی سزا اور کیا دیگی؟جو رہی سہی کسر رہ گئی تھی وہ الیکٹرانک میڈیا نے پوری کر دی ہے جو عوام کے ڈرائنگ رومز تک پہنچ چکا ہے اور ہر اچھی بری خبر اور واقعہ سے عوام کو باخبر رکھ رہا ہے جہاں تک ریاستی اداروں کاتعلق ہے کسی دور میں معدودے چند ادارے عوامی تنقید کا اکثر نشانہ بنتے تھے ۔

مثلاً پولیس ‘ پٹواریوں کا محکمہ یا ایکسائز اینڈ کسٹمز اہلکار ‘ آج کونسا ریاستی ادارہ بچا ہے کہ جس میں موجود کالی بھیڑوں کو آئے دن میڈیا اجاگر نہ کرتا ہو اور ان کے کالے کرتوتوں سے عوام کو آگاہ نہ کرتا ہو اب تو خود میڈیا والے بھی احتساب کے کڑے امتحان میں پھنس رہے ہیں ان میں موجود بعض لوگوں کی مبینہ بدعنوانیوں کو ان کے اپنے ہی پیٹی بند بھائی ایکسپوز کر رہے ہیں قصہ کوتاہ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ’گنجے فرشتوں‘ کو عوام کے سامنے اجاگر کیا جا رہا ہے اور ایک لحاظ سے یہ سلسلہ عوامی شعور بیدار کرنیکی راہ میں بہت بڑا اقدام ہے اس قدر بے پناہ انفارمیشن کی موجودگی میں بھی اگر الیکشن میں عوام گھوڑے اور گدھے میں تمیز نہ کر سکیں تو پھر ہم اسکے سوا اور کیا کر سکتے ہیں کہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے ’عوام کالانعام‘یعنی عام لوگوں کی مثال چوپایوں جیسی ہے اس وقت میدان میں جو سیاسی پارٹیاں اور سیاسی رہنماسر گرم عمل ہیں ان کا ٹریک ریکارڈعوام کے سامنے ہے۔

ان میں تقریباً ہر ایک پارٹی کسی نہ کسی شکل میں ایوان اقتدار میں رہی ہے زبانی باتوں میں ان کو یدطولیٰ حاصل ہے عوام کے مسائل حل کرنے میں یہ لوگ کس قدر سنجیدہ ہیں اسکا اندازہ آپ صرف ایک بات سے ہی لگا لیجئے الیکشن سر پر ہے اس ملک کے عوام لا تعداد مسائل سے دو چار ہیں کیا آپ نے کسی سیاسی پارٹی کو اپنا الیکشن کا منشور سردست عوام کے سامنے پیش کرتے دیکھا ہے ؟ حالانکہ یہ اہم کام الیکشن سے کم از کم ایک برس پہلے ہو جانا ضروری ہوتا ہے الیکشن منشور میں ہر سیاسی پارٹی زندگی کے ہر شعبے میں جو اصلاحات لانے کا ارادہ رکھتی ہے اسے تجاویز کی شکل میں بلیک اینڈ وائٹ یعنی تحریری شکل میں عوام میں پیش کرتی ہے جس پر خصوصی سیمینار ہوتے ہیں ان پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے اپنے ہاں تو الیکشن کے آخر ی دن تک کوئی بھی کھل کر بات نہیں کرتا ہاں البتہ مبہم زبان میں سیاسی لوگ ہمیشہ مستقبل کے صیغے میں اس طرح کے وعدے ضرور کرتے ہیں کہ ہم اقتدار میں آکر یہ کر دیں گے اور وہ کر دینگے ‘ ہم نے تو کم ازکم اس قسم کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ان کواب تک دیکھا ہے نظر نہیں آ رہا کہ یار لوگوں نے ابھی سے کوئی تیاری یا ہوم ورک کیا ہے ۔