138

آخری مقدمہ!

احتجاج اور مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے‘ اغواء اور قتل ہونیوالی سات سالہ زینب دفن ہو چکی ہے‘ جسکے آبائی شہر ’قصور‘ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی فضاء بدستورسوگوار ہے‘ معصوم بچی کیساتھ بربریت کے بعد حالات کے بے قابو ہونے کا خصوصی پس منظر بھی ہے‘ دو سال قبل اسی علاقے میں بچوں کے ساتھ زیادتیوں کا معاملہ سامنے آیا جب شیطان صفت انسانوں کے چہرے سے نقاب الٹا گیا کچھ انسانیت دشمن گروہ منظم طریقے سے گھناؤنا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے‘ بچوں کی سینکڑوں اخلاق باختہ ویڈیوز سامنے آئیں مگر متعلقہ اداروں کی کوتاہی غفلت اور ملزموں سے ملی بھگت کے باعث کسی ملزم کو بھی عبرت کا نشان نہ بنایا گیا جو جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا۔ بچوں کے اغواء کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دینا قصور ہی تک محدود نہیں‘ ایسے بہیمانہ واقعات ملک بھر میں ہوتے ہیں‘ دو روز قبل ڈیرہ غازی خان میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرکے پھینک دیا گیا‘شیخوپورہ میں بھی ایسے واقعہ کا اعادہ ہوا جہاں ملزم پکڑا گیا اور مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ قصور کے دو تھانوں کی حدود میں چند ماہ کے اندر ایسے گیارہ المناک واقعات ہوچکے ہیں۔ مظلوم کی بات نہ سننا ظلم ہے اور پھر جب مظلوموں کو موقع ملتا ہے تو اپنی دانست میں وہ جسے ظالم سمجھتے ہیں‘ اس کیخلاف ممکنہ طور پر آخر حد تک چلے جانے سے بھی گریز نہیں کرتے‘ قصور کے ایک محدود ایریا میں زینب جیسی گیارہ بیٹیوں کیساتھ بربریت ہوئی‘قصور سے ہٹائے جانیوالے ڈی پی او ایسی آٹھ بھیانک وارداتوں کا اعتراف کرتے ہیں‘ اب جب زینب کیساتھ ہونیوالی سفاکیت سامنے آئی تو علاقے کے لوگوں کا مشتعل ہونا فطری تھا‘ زینب کے والد نے پرامن احتجاج کی بات کی ہے مگر پرامن اجتماعات کو کچھ لوگ سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ شرپسند بھی ہجوم کا حصہ بن کر تشدد پر اتر آتے ہیں۔

عموماً ایسے ہجوم کو قابو کرنا مشکل ہو جاتا ہے اگر انتظامیہ عقل و خرد سے کام لے تو نقصان کو کم سے کم سطح پر رکھنے کے بھی جدید دور میں کئی طریقے ہیں‘ بڑے سے بڑا ہجوم بھی بپھر جائے تو لاٹھی چارج آخری آپشن ہوتا ہے‘ اپنے لوگوں پر فائرنگ سرے سے آپشن ہے ہی نہیں۔ انتہائی ناگزیرحالت میں بھی ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے اور امن قائم کرنے کے ذمہ دار ادارے سیدھی فائرنگ کو پہلے آپشن کے طور پر اختیار کرتے دیکھے گئے ہیں جس سے حالات سلجھنے کی بجائے مزید الجھتے چلے جاتے ہیں اور پھر رینجرز اور فوج کو طلب کرنا پڑتا ہے۔ مشتعل لوگ عموماً بات سننے پر آمادہ نہیں ہوتے‘ ان کو تشدد سے باز رکھنے کے لئے فائرنگ کی جائے گی تو اشتعال میں اضافہ فطری امر ہے۔قصور میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ بجا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے‘ قومی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کی کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی‘ ایسے اقدامات بھی نہیں کئے جانے چاہئیں جس میں اشتعال پھیلتا چلا جائے۔ ربڑ کی گولیاں‘ واٹر گنیں اور وقتی طور پر حواس سے بیگانہ کردینے والی گیسیں موجود ہیں۔ ان کو بروئے عمل لایا جاتا تو حالات میں اس قدر بگاڑ پیدا نہ ہوتا۔ لوگوں میں پولیس کی نااہلی‘ بے حسی اور اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے پر بھی اشتعال بڑھا ہے۔ ڈی پی او آٹھ بھیانک انسانیت سوز واقعات کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری محض ایسے اعداد و شمار پیش کرنا ہی ہے؟ ایسے واقعات کے سدباب کے لئے انہوں نے اور ان کی ٹیم نے کیا کیا؟کتنے کیسز ٹریس کئے اور انسانیت کے کتنے قاتلوں کو سزائیں دلائیں۔ ایسے افسروں کی معطلی بہت کم سزا ہے۔ کچھ لوگ نصیحت کررہے ہیں کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں؟کیا بچوں کو گھروں میں قید کردیا جائے؟ یہ پتھر کا دور نہیں ہے‘ جدید دور ہے۔

ایسا ظلم تو شاید پتھر کے دور میں بھی نہ ہوتا ہو۔ اگر بچے گھر سے باہر جائیں تو اس کا مطلب کہ جو بھی انہیں اٹھا کرلے جائے‘ ان کیساتھ جو بھی کرے اور قانون کی نظروں سے بچ جائے‘ یہ توجنگل کا قانون ہوگیا۔ ایسے رویئے‘ سوچ اور ذہنیت کو دفن کرنے کی ضرورت ہے۔ ایساقانون کی اسکی روح کے مطابق کارفرمائی ہی سے ممکن ہے‘ ہمیں بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا ہوگا۔ یہی نونہالان قوم معمارانِ مملکت ہیں۔ بچوں کیساتھ جرائم میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی ضرورت ہے‘ جس کیلئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں‘ ایسے جرائم دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں جسکی سزا پہلے ہی موت مقرر ہے جسکے تحت متاثرہ بچی یا بچے کے لواحقین بھی مجرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے بچوں کو جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ایسے قوانین کی اشد ضرورت ہے جنکا عنوان ہی یہ ہو کہ جو بچوں کو ہاتھ لگائے پھانسی کی سزا پائے۔ محل ہے کہ ریاست اپنا وجود ثابت کرے۔ قانون کی عمل داری ممکن بنائی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر شکور طاہر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)