110

دھمکیوں کیساتھ امریکہ کی ایران سے ایٹمی معاہدے کی توثیق

واشنگٹن/تہران۔امریکی صدر نے ایران سے ایٹمی معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو یہ توثیق آخری ہوگی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آخری بار ایرانی جوہری معاہدے کی توثیق کر رہے ہیں تاکہ یورپ اور امریکا اس معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں۔گزشتہ روز امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے کہا گیا ہے کہ یہ آخری موقع ہے، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا معاہدے میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے، وائٹ ہاس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے۔اس کے علاوہ امریکی حکومت نے ایران کے مزید چودہ اداروں اور شخصیات پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، پابندیوں کا شکار ہونے والوں میں ایرانی جوڈیشل کونسل کے چیئرمین ، مواصلاتی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی جوڈیشل کونسل کا سربراہ آیت اللہ صاد لاری جانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا قریبی ہے اور وہ ملک میں موجودہ مذہبی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے احکامات صادر کرتا رہاہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے بیان کو ایٹمی معاہدہ کمزور کرنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کردے گا۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران کے جوہری معاہدے کو کمزور کرنے کا کوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں ہے۔