Home / بزنس / ایف بی آر میں 187 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

ایف بی آر میں 187 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد۔قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ایف بی آر میں 187 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ‘آڈٹ اور ایف بی آر کے اعدادو شمار میں تضاد پر کمیٹی برہم،ازسرنو جائزہ لیکر اعدادو شمار دو بارہ پیش کر نے کی ہدایت کر دی ، کمیٹی نے ٹیکس ؂ گوشوارے جمع کروانے کی تاریخوں میں باربار توسیع دینے پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ ایف بی آر حکام نے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں ناکامی کا نزلہ افسران پر گراتے ہوئے بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں آٹھ کمشنرز کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ، اجلا س میں ایف بی آر حکام اور چیئرمین کمیٹی سردار عاشق گوپانگ میں انگریز ی زبان میں جواب دینے پر دلچسپ جملوں کا تبادلہ ، عاشق گوپانگ نے کہا کہ آپکو میری اردو او ر مجھے آپکی انگریزی سمجھ نہیں آتی،رکن کمیٹی میاں عبدالمنان نے کہا کہ آپ اردو میں بات کریں ورنہ ہم پر توہین عدالت لگ جائے گی جس پر ممبر ایف بی آر رحمت اللہ وزیر نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ نے تمام قانون سازی انگریزی زبان میں کر رکھی ہے۔

میری مجبوری ہے قانون کو اردو میں بیان نہیں کر سکتا۔ منگل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس سردار عاشق گوپانگ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں ممبران کمیٹی جعفر خان لغاری، سید نوید قمر، محمود خان اچکزئی، شیخ روحیل اصغر، عارف علوی، شاہدہ اختر، میاں عبدالمنان، جنید انوار چوہدری، ڈاکٹر درشن، عبدالرشید گوڈیل، شفقت محمود، رانا افضال، پرویز ملک، وزات خزانہ، ایف بی آر اور آڈٹ حکام سمیت دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس میں ایف بی آر کے پانچ سالہ آڈٹ اعتراضا ت اور ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹ ایف بی آر کی آڈٹ رپورٹ 2013-14کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف بی آرمیں 187ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں آڈٹ کی نشاند ہی پر سولہ ارب روپے کی ریکوری کی گئی جبکہ ان لینڈریونیو کے 29کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،کراچی اور لاہور کے فیلڈ فارمیشن دفاتر نے سیل ٹیکس کی مدمیں 42ارب روپے کی ریکوری نہیں کی۔ممبر ایف بی آر نے بتایاکہ اب تک صرف پانچ ارب روپے کی ریکوری کی گئی،سیل ٹیکس کی ریکوری آسان نہیں۔آڈٹ حکام نے کہا کہ کراچی اور لاہور میں 514ووہولڈنگ ایجنٹس نے 24ارب روپے کا ٹیکس قومی خزانے میں جمع نہیں کروایا،ایف بی آر نے کراچی اور لاہورمیں ایف بی آر نے اب تک صرف 4 ارب روپے کی ریکوری کی ہے، کراچی میں 17 ارب 87 کروڑ اور لاہور میں 6 ارب 27 کروڑ کا ٹیکس اکٹھا نہیں ہو سکا۔عبدالرشید گوڈیل نے کراچی کے بلیک لسٹ ٹیکس گزاروں کے نام بتانے کا مطالبہ کیا تاہم پی اے سی نے ممبر ان لینڈ ریوینیو کو بلیک لسٹ ٹیکس گزاروں کے نام بتانے سے روک دیا ۔ممبر ایف بی آر ڈاکٹر ارشاد نے کہا کہ گزشتہ برس براہ راست ٹیکس وصولیوں میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا۔

رواں مالی سال ٹیکس وصولیوں کی شرح میں کمی کا سامنا ہے، کمی کی بڑی وجہ مختلف سیکٹرز کو ٹیکسوں میں چھوٹ، شرح سود میں کمی اوردیگر اقدامات ہیں، پچھلے ماہ ٹیکس وصولیوں میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر آٹھ کمشنرز کے خلاف کاروائی کی گئی ۔آڈٹ حکام نے کہا کہ جو باتیں ایف بی آرحکام یہاں کررہے ہیں وہ ڈی اے سی میں نہیں کرتے ۔ ممبر ایف بی آر رحمت اللہ وزیر نے بتایا کہ گزشتہ برس دسمبرتک چھ لاکھ اکانوے ہزار ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے، رواں مالی سال دسمبرتک آٹھ لاکھ اکہترہزار ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ۔کمیٹی نے گوشوارے جمع کروانے کی تاریخوں میں باربار توسیع دینے پر برہمی کا اظہار کیا جس پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ یہ پہلے سے روایت چلی آرہی ہے ۔آڈٹ حکام نے کہا کہ ایف بی آر کا جنوری تا جون دوہزار سولہ کے دوران خصوصی آڈٹ کیا گیا ، اس دوران دو لاکھ فلانئنگ انوئسز کیسز میں صرف دوہزار کی نشاندہی ہوئی ،ایف بی حکام نے گھپلوں کی تحقیقات کے لیے دستاویزات فراہم نہیں کی۔ایف بی آر حکام کی طرف سے ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر کمیٹی نے اظہار برہمی کیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف بی آر حکام ریکارڈ دیں، جو ریکارڈ نہیں دیتا اس کے خلاف ایکشن لیں اور انکوئری کریں۔

ممبر ایف بی آر نے کہا کہ ماضی میں فلانئگ انوائسز سے متعلقہ واقعات ضرور ہوئے ہیں ۔آڈٹحکام نے بتایا کہ جنوری 2016 سے جون 2016 تک کراچی میں ایف بی آر کو سیلز ٹیکس ریفنڈ کی 2 لاکھ درخواستیں دی گئیں، دو لاکھ ری فنڈ کیسز میں سے صرف 2 ہزار کی تصدیق ہو سکی، جن دو ہزار کی تصدیق ہوئی ان کی بھی پوسٹ ری فنڈ رپورٹس نہیں دکھائی گئیں۔ رکن کمیٹی عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ کراچی میں جعلی انوائسز پر سیلز ٹیکس ری فنڈ عروج پر ہے۔پی اے سی ممبران نے کہا کہ کراچی کے معاملات پر سپیشلسٹ کمیٹی ہونی چاہیے ۔ رشید گوڈیل نے سوال کیا کہ کیا اب فلانئگ انوائس کی بنا پر سیلز ٹیکس کلیم نہیں کیا جارہا جس پر ممبر ایف بی آر نے جواب دیا کہ موجودہ سسٹم کے تحت اس کوئی گنجائش نہیں ۔ ایف بی آر اور آڈٹ حکام کی جانب سے دیئے گئے اعداوشمار میں تضاد پر کمیٹی چکرا کر رہ گئی ۔سردار عاشق گوپانگ نے کہا کہ آپ کچھ پڑھ رہے ہیں اور ہمارے سامنے کچھ اور ہے،اس سے پہلے آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہمارے پاس اعدادوشمار کچھ اور ،اور محکمے کے پاس کچھ اور ہوں۔شیخ روحیل اصغر نے تجویز دی کہ اگر اعداد و شمار ٹھیک نہیں تومیٹنگ کو کل تک ملتوی کر دیا جائے۔

کمیٹی اراکین آڈٹ حکام اور ایف بی آر کے اعداو شمار میں تضاد پر شدید برہم ہوئے اور آئندہ اجلا س میں ایف بی آر کو از سر نو اعدادو شمار پیش کرنے کی ہدایات کر دیں۔کمیٹی اجلا س کے دوران ایف بی آر حکام اور چیئرمین کمیٹی کے درمیان انگریز ی جواب دینے پر دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔پی اے سی ارکان نے ممبر ایف بی آر کو انگریزی بولنے سے روک دیا۔میاں عبدالمنان نے کہا کہ آپ اردو میں بات کریں ورنہ ہم پر توہین عدالت لگ جائے گی، سپریم کورٹ کے حکم کیمطابق تمام سرکاری خط و کتابت اور بحث اردو میں کرنے کے پابند ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپکو میری اردو او ر مجھے آپکی انگریزی سمجھ نہیں آتی،سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا ہے کہ اردو میں بات کی جائے جس پر ممبر ایف بی آر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے تمام قانون سازی انگریزی زبان میں کر رکھی ہے، میری مجبوری ہے قانون کو اردو میں بیان نہیں کر سکتا۔

عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ آپ سے اردو میں سوال کیا گیا،آپ اردو میں ہی جواب دیں۔ اجلاس میں ممبر ایف بی آر ڈاکٹر ارشاد نے اعتراف کیاکہ رواں مالی کی پہلی ششماہی میں ایف بی آر کو ٹیکس وصولولیوں کے ہدف میں ناکامی کا سامنا ہے۔جس پر کارکردگی نہ دکھانے والے 8ٹیکس کمشنز ز کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔

About نیوز ڈیسک