Home / پاکستان / قطری خط رضیہ بٹ کا ناول ہے، خط کی حیثیت ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں ،شیخ رشید

قطری خط رضیہ بٹ کا ناول ہے، خط کی حیثیت ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں ،شیخ رشید

اسلام آباد۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے پیش کیا گیا قطری خط رضیہ بٹ کا ناول ہے، جبکہ خط کی حیثیت ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں ہے۔بدھ کو سپریم کورٹ میں پاناما کیس سے متعلق سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ہم نے قطری نام ہیلی کاپٹر کیس میں سنا تھا، قطری شہزادہ نواز شریف کے لیے ریسکیو 1122ہے۔ قطری خط بیان حلفی کے بغیر ہے، سنی سنائی بات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا، جبکہ قانون کے مطابق زبانی ثبوت براہ راست ہونا چاہیے۔ شریف خاندان قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے۔شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ایل این جی اور پورٹ قاسم پاور پلانٹ کا ٹھیکا سیف الرحمن کمپنی کو دیا گیا، جبکہ کیس کے پیچھے اصل چہرہ سیف الرحمن کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری عمر سیاسی ورکر رہا ہوں۔

یہ ایک خاندان بامقابلہ بیس کروڑ عوام کا کیس ہے۔ میرا کوئی بچہ یا فیملی نہیں لیکن یہ قوم ہی میری فیملی ہے۔ آپ نے انصاف فراہم کرنے کا حلف لیا ہے عوام کی نظریں عدالت پہ ہیں۔سپریم کورٹ کا شیخ رشید کے دلائل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ ہے سیاسی تقریر کی جگہ نہیں ہے۔ جس پر شیخ رشید احمد کا عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہنا تھا کہ وکالت کا تجربہ نہیں غلطی کی معافی چاہتا ہوں۔