بریکنگ نیوز
Home / کالم / بچوں کے تابوت اورخون کے دھبے

بچوں کے تابوت اورخون کے دھبے

بڑھتی جاتی دھند تھی اور اسکے پیچھے شہر تھا… تب دسمبرکے دن تھے اور شہر لاہور میں بڑھتی جاتی دھند ہے اور اس میں روپوش ہوتی اورنج ٹرین کی دھول ہے جو روندتی چلی جارہی ہے اس شہر کی نایاب تاریخی عمارتوں کو اورگراتی جارہی ہے اپنے راستے میں آنے والی قدیم حویلیوں اور عبادت گاہوں کو… اور دوبرس بیت جانے کے باوجود میں اس دھند میں سے نمودار ہو رہے ہیں سینکڑوں بچوں کے تابوت جن کو ہلاک کرنے والوں نے نعرہ لگا کر انکے بدنوں میں گولیاں اتاری تھیں‘ انکے دماغوں کو پاش پاش کیا تھا اور کچھ مقدس اہل وطن نے اگرچہ ایک افسوس شکل بنائی تھی لیکن اس کا جواز بھی پیش کیا تھا کہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے بھی توکسی کے بچے تھے اور یہ تو فوج والوں کے بچے تھے جو انکے بچوں کو ہلاک کرتی ہے… میدان کربلا میں جو معصوم بچے یزید کے تیروں کا شکار ہوئے وہ سینکڑوں کی تعداد میں تو نہ تھے… ہم ہر ہلاکت اور ہر قتل کا جواز پیش کرنے والی قوم ہیں یہاں تک کہ جنید جمشید کے بارے میں بھی کہیں سے خبر آئی کہ وہ ایک گستاخ شخص تھا‘ اچھا ہوا جل مرا اور مٹھائی تقسیم کی گئی… دسمبر کی دھند میں میرے سینکڑوں بچوں کے تابوت چلے آتے ہیں اور وہ ان تابوتوں میں لڑھکتے پھرتے ہیں کہ وہ توبالغ مردوں کیلئے ہیں ان کے بدن سے بڑے ہیں اس لئے وہ ان میں لڑھکتے پھرتے ہیں‘ کھیلتے پھرتے ہیں… گویا یہ تابوت انکے جھولے ہیں جن میں وہ جھولتے پھرتے ہیں… وہ سب کے سب کسی قبرستان میں نہیں میرے دل میں دفن ہوئے…

میرے دل پر سب سے گہرا گھاؤ اس روز لگا جب ٹائیگر نیازی نے جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے اپنی بیلٹ اتاردی‘ پستول اتار دیا اور شکست کی ذلت پر اپنے دستخط ثبت کردیئے اور یہ سب مسکراتے ہوئے کیا ازاں بعدٹائیگر نیازی نے ایک مذہبی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور جب وہ تقریر کرنے کیلئے سٹیج پر آئے تو عوام نے ’’ شیراسلام‘‘ کے فلک سوز نعرے بلند کئے… انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران ارشاد فرمایا کہ مشرقی پاکستان میں اگر عورتوں کی عصمت دری کی گئی تو اسکا ایک فوجی جواز ہے…. علاوہ ازیں آپ اس انٹرویو کا متن آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں جس میں انہوں نے اپنے ذوق جمال کے دفاع میں کہا تھا کہ… مجھے تو بنگالی عورتوں سے بو آتی تھی‘ آخر کیوں کوئی بھی جنرل ٹکا خان کے اس تاریخی بیان کا حوالہ نہیں دیتا کہ مجھے بنگالی نہیں زمین چاہئے… فرض کرلیجئے کہ ہندوستان جس نے آج تک اپنی گاؤماتا کی تقسیم کو قبول نہیں کیا‘ اگر مشرقی پاکستان میں مداخلت نہ کرتا تو کیا ہم بنگالی غداروں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جاتے… شاید نہیں ان بنگالیوں نے شیخ مجیب الرحمن کو اپنے لیڈر کے طور بھاری اکثریت کے ساتھ چن لیا تھا اور سوائے چند لوگوں کے سب کے سب بنگالی آپ کے چنگل سے نکلنا چاہتے تھے… کیوں نکلنا چاہتے تھے‘اسکے بارے میں کبھی تو کسی کے ساتھ کچھ گفتگو کیجئے…کھٹمنڈو نیپال میں ایک کانفرنس کے دوران بنگلہ دیش کے وفد کے اراکین ہمارے سامنے بیٹھے تھے اور ہم سے کلام نہ کرتے تھے‘ میں انکی جانب دیکھتا تھا اور میری آنکھوں میں نمی آتی تھی کہ… ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد…

اور ادھر سے ایک سوال آتا تھا کہ… خون کے دھبے مٹیں گے کتنی برساتوں کے بعد… میں یہاں اس دن کی‘ دسمبر کے ایک دن کی‘ جب ہم نے ہتھیار رکھ دیئے تھے اس دن کی کیفیت میں شاید کبھی بھی بیان نہ کرپاؤں کہ میں کبھی اتنا رویا نہ تھا‘ جتنا اس روز رویا… اگرچہ میں نے اپنے دو ناولوں’’ راکھ‘‘ اور’’ خس و خاشاک زمانے‘‘ میں مشرقی پاکستان کی شکست کی داستان لکھی ہے لیکن میرے دل کا گھاؤ ہے کہ بھرتا ہی نہیں ہے… اور اسکے بعد جب میرے بچوں کو سینکڑوں کی تعداد میں ہلاک کیا گیا اور وہ سب کے سب آج تک میرے دل میں دفن ہوئے انکا گھاؤ بھی بھرتا ہی نہیں ہے… ہر دسمبر میں یہ دونوں گھاؤ پھر سے میرے بدن کو نوچنے لگتے ہیں… اور میں انہیں صرف ہندوستانی سازش کے کھاتے میں ڈال کر ان کی اذیت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا… اسے محض ہنودویہود کی ریشہ دوانیوں میں شامل کرکے قرار حاصل نہیں کر سکتا…

بڑھتی جاتی دھند ہے اور اسکے پیچھے سلہٹ کے چائے کے باغ ہیں‘ سندر بن میں پوشیدہ رائل بنگال ٹائیگر ہیں‘ بنگال کا سنہرا پن ہے‘ وہ دریا ہیں جو سمندر ہیں اور وہ سب ہم نے کھو دیئے…یہ عجب قصہ ہے کہ میں کبھی بھی مشرقی پاکستان نہ گیا… کل جہان دیکھ ڈالا لیکن اپنا سنہری بنگال نہ دیکھا اور اسکے باوجود وہ جدا ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ میرا ایک بازو کٹ گرا… اور اس میں اپاہج پھرتا ہوں… ایک نامکمل حالت میں زندگی کرتا ہوں… خون کے دھبے ہیں کہ مٹتے ہی نہیں… کتنی برساتیں گزر گئیں‘ مدھم ہوتے ہی نہیں…
کیا بے رحم مہینہ تھا… کیا ظالم دسمبر تھا کہ اسکی دھند میں سے تابوت نمودار ہوتے چلے جاتے ہیں‘ اور اس دھند میں میرے بنگال کے دھاریدار شاہانہ ٹائیگر ہمیشہ کیلئے گم ہوتے جاتے ہیں… ہم کہ ٹھہرے اجنبی…
خون کے دھبے مٹیں گے کتنی برساتوں کے بعد…