بریکنگ نیوز
Home / کالم / فوجی عدالتیں اوراتفاق رائے

فوجی عدالتیں اوراتفاق رائے

فوجی عدالتوں کی دو سالہ آئینی مدت مکمل ہو چکی ہے جس کے بعد وفاقی حکومت ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے سیاسی مشاورت کر رہی ہے حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں کو ایک اور مخصوص مدت کیلئے برقرار رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت عسکری اور سیاسی قیادتوں کا اجلاس ہوا اجلاس میں وزیراعظم نے بتایا کہ فوجی عدالتوں کیلئے آئین میں ترمیم کے سلسلہ میں پہلے ہی مشاورت کی جاچکی ہے اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ فوجی عدالتوں نے ملک میں دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ ان عدالتوں کے ذریعے آپریشن ضرب عضب کے نتائج کو مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے اعلامیہ کے مطابق دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس پالیسی‘‘ برقرار رکھی جائے گی اور اس قومی پالیسی کے مقاصد کے حصول کیلئے ہر سطح پر کوششیں تیز کی جائیں گی دو سال قبل اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں تشکیل دی گئیں تو اُس وقت بھی حکمران مسلم لیگ (نواز) اور سابق حکمران پیپلزپارٹی سمیت تقریباً تمام قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین فوجی عدالتوں کے حوالے سے تحفظات رکھتے تھے جس کا پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری‘ ایم کیو ایم متحدہ کے ڈاکٹر فاروق ستار‘ اے این پی کے اسفندیار ولی اور حکومتی اتحادیوں مولانا فضل الرحمان اور محمودخان اچکزئی نے کھلم کھلا اظہار بھی کیا تاہم اس وقت سانحہ’اے پی ایس‘ پشاور کے باعث فضا ایسی بن گئی تھی کہ وزیراعظم کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک اور عوام کو دہشتگردی کے ناسور سے مکمل خلاصی دلانے کی خاطر سیاسی قیادت کو فوجی عدالتوں کی تشکیل کی تجویز پر صاد کرنا پڑا چنانچہ فوجی عدالتوں کی تشکیل کیلئے اکیسویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرنیکا فیصلہ کیا گیا اس کے باوجود زرداری نے ’آل پارٹیز کانفرنس‘ میں وزیراعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’کہیں ایسا نہ ہو‘ کل کو ہم سیاست دانوں کو ہی ان فوجی عدالتوں میں پیش ہونا پڑے۔

جبکہ فوجی عدالتوں کی تشکیل سے متعلق وفاقی وزارت قانون کے تیار کردہ مسودے میں اِن عدالتوں کو فوجی عدالت کے بجائے خصوصی عدالت کا ٹائٹل دیا گیا جو فوجی عدالتوں کے حوالے سے حکمران پارٹی کے اپنے تحفظات کا عکاس تھا جبکہ ان تحفظات کی بنیاد پر ہی فوجی عدالتوں کی مدت دو سال کی مقرر کی گئی۔ آئینی‘ قانونی اُور جمہوری حلقوں کا ہمیشہ اِس اَمر پر اِتفاق رائے رہا ہے کہ آئین کے تحت قائم نظام عدل کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کی شکل میں متوازی عدالتی نظام کی تشکیل جمہوریت کی نفی اور مروجہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد کے مترادف ہوتی ہے جبکہ فوجی عدالتیں ہمیشہ جرنیلی آمروں کی جانب سے سیاسی مخالفین پر اپنی دھاک بٹھانے اور انہیں خوف و ہراس میں مبتلا رکھنے کیلئے تشکیل دی جاتی رہی ہیں قومی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسی بنیاد پر فوجی عدالتوں کی تشکیل کی مخالفت کی جاتی رہی ہے کہ ان میں سے اکثر جماعتوں نے مارشل لاء اور جرنیلی آمریت کے ادوار میں ان عدالتوں کی قید‘ کوڑوں اور پھانسی کی سزاؤں کو بھگتا ہوا ہے اپنی دو سالہ میعاد میں مجموعی 275مقدمات کی سماعت کی اور ان مقدمات میں 161ملزمان کو سزائے موت اور 116کو عمر قید کی اوردوسری مختلف سزائیں دیں جبکہ ان فوجی عدالتوں کے فیصلوں کیخلاف 127اپیلیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر ہوئیں ان میں سے اکثر اپیلیں ابھی تک اعلیٰ عدلیہ میں زیرالتوا ہیں۔ فوجی عدالتوں کی جس مقصد کے حصول کے لئے تشکیل ہوئی وہ مقصد حاصل کرنے کے لئے دو سال کا عرصہ کوئی کم عرصہ نہیں اگر اِن فوجی عدالتوں کی جانب سے دہشتگردی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو پھانسی پر لٹکانے کے باوجود ملک میں دہشت گردی کا مکمل تدارک نہیں ہوسکا اور دہشتگرد آج بھی دندناتے ہوئے اپنے مشکل ترین اہداف تک آسانی سے پہنچتے اور دہشتگردی کی گھناؤنی وارداتوں سے سکیورٹی اہلکاروں اور عام بے گناہ شہریوں کا خونِ ناحق بہاتے نظر آتے ہیں۔

تو فوجی عدالتوں کو توسیع دے کر کیا دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے گا۔ آج تو ملک میں ایسی صورتحال بھی نہیں ہے کہ اس سے فوجی عدالتیں برقرار رکھنے کا جواز نکل سکتا ہو ۔ وزیراعظم نوازشریف نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے پارلیمانی قائدین میں اتفاق رائے پیدا کرنیکا عندیہ دیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے سوا حکومتی اتحادیوں سمیت دیگر تمام پارلیمانی رہنماؤں کی جانب سے فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کی مخالفت سامنے آچکی ہے اس صورتحال میں تو فوجی عدالتوں کے لئے اتفاق رائے کی بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ سکے گی پھر حکومت کو ایسی بیکار ’ایکسرسائز‘ کرنے کی کیا ضرورت ہے جو نتیجہ خیز نہ ہو اگر تو اِس مشق کا مقصد فوجی عدالتوں کو توسیع نہ دینے کا جواز نکالنا اور اِس کے لئے حکومتی اُور حزب اختلاف کا سہارا حاصل کرنا ہے تو یہ الگ بات ہے ورنہ حکومت کو خود اپنے اقتدار کی مضبوطی اور جمہوریت کے استحکام کا عملی ثبوت فراہم کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کا بند ہونے والا باب اب بند ہی رہنے دینا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)