بریکنگ نیوز
Home / کالم / کاسٹروزنذہ رہے گا

کاسٹروزنذہ رہے گا


ہم سرکاری عمارتوں پر اپنے نام کی تختیاں لگوانے کے شوقین ہیں شاہراہوں کے نام اپنے ناموں پر رکھنے کے متمنی ہیں او ر یہ ذہنی مرض سیاست دانوں میں بھی پایا جاتا ہے اور سینئر بیورو کریٹس میں بھی بھئی کوئی ذراان سے یہ تو پوچھے کہ جن عمارتوں یا سڑکوں کے نام وہ اپنے نام پرر کھنا چاہتے ہیں کیا وہ انہوں نے اپنے ذاتی پیسوں سے بنائی ہیں؟ہاں البتہ یہ بات اورہے کہ کسی فرد کی بے مثال قومی خدمات کے پیش نظراسکی موت کے بعد کسی سرکاری عمارت کا نام اس کے نام پرر کھ دیا جائے ‘ فیڈل کاسٹرو بلاشبہ ایک عظیم سیاسی رہنما گزرا ہے وہ اپنی قوم کیلئے یقیناًایک مسیحا تھا اس نے اپنے دور اقتدار میں کیوبا کے عام آدمی کی فلاح کیلئے کئی کام کئے یہ اور بات ہے کہ امریکہ جو کہ اس کا ازلی دشمن رہا اس نے کبھی بھی دل سے کاسٹرو کے کسی اچھے کام کی تعریف میں دو بول نہ کہے‘ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی وہ ایسی شاندار مثالیں چھوڑ گئے ہیں کہ جن کو دیکھ کر انسان عش عش کر اٹھتا ہے ہمارے رہنما بھی اگر ان مثالوں پر عمل پیرا ہوں تو وہ اپنا نام روشن کر سکتے ہیں فیڈل کاسٹرو کی ایک وصیت سامنے آئی ہے کہ جس میں انہوں نے اپنے ملک کے حکمرانوں کو ہدایت کی ہے کہ کیوبا میں کسی بھی شاہراہ یا عمارت کو انکے نام سے منسوب نہ کیا جائے اب کیوبا کی پارلیمنٹ نے انکی اس وصیت کو قانونی شکل دی ہے اور ایک بل پاس کر دیا ہے کہ جس کے تحت ملک میں انکے نام سے موسوم کوئی بھی یادگار تعمیر نہیں کی جائیگی کوئی ٹائٹل یا کسی کو کوئی بھی اعزاز جو ان کے نام سے منسوب ہو نہیں دیا جائے گا تاہم فیڈل کاسٹرو نے اپنی وصیت میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر ان پر تحقیق کیلئے کوئی ادارہ قائم کیا جاتا ہے تو وہ کاسٹروکانام استعمال کر سکتا ہے وطن عزیز کا یہ حال ہے کہ یہاں تو سرکاری منصوبے محض شروع ہی اس لئے کئے جاتے ہیں۔

کہ ان کی افتتاحی تختی پر حاکموں کے نام ہوں گے کاش کہ ہمارے عقل کے اندھے حکمران فیڈل کاسٹرو کی مندرجہ بالا وصیت سے ہی کچھ سبق حاصل کر لیں خدا لگتی یہ ہے کہ کاسٹرو جیسے صحیح معنوں میں درد دل رکھنے والے رہنماؤں کو اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے افتتاحی تختیوں کی ضرورت نہیں ہوتی وہ لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں اس قسم کی تختیوں کے محتاج ہمارے حکمرانوں جیسے ہوتے ہیں کہ جو اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ شاید شاہراؤں یا عمارتوں کو اپنے نام سے منسوب کرکے وہ تاریخ میں امر ہو جائیں گے ایسا کبھی ہوا نہیں اور نہ ہی کبھی ہو گا محض پبلسٹی سے کبھی بھی کوئی لیڈر تاریخ میں زندہ نہیں رہا ہمیں یاد پڑتا ہے کہ ماؤزے تنگ نے اپنی قوم سے یہ وعدہ لیا تھا کہ ان کی وفات کے بعد وہ ہر سال انکی رحلت کے روز چھٹی نہیں کیا کرینگے بلکہ اس روز اپنے اوقات مقررہ سے دوگھنٹے زیادہ کام کیا کریں گے تاکہ ملک کی معیشت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائے کام خود بولتا ہے اسے پبلسٹی کی قطعاً ضرورت نہیں پڑتی ایوب خان نے جب اقتدار میں دس برس پورے کئے تھے تواس وقت کے وزیر اطلاعات الطاف گوہر کو ایک سکیم سوجھی اس نے ایوب خان کو باور کرایا کہ چونکہ ان کے دس سالہ دور اقتدار میں ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں ہر طرف خوشحالی کا دور ان ہے کیوں نا اس دس سالہ خوشحالی کے دور کو جشن کی صورت میں منایا جائے تاکہ یہ لمحات امر ہو جائیں چنانچہ جشن منایا گیا لیکن اس جشن سے اس قدر خوفناک عوامی رد عمل سامنے آیا کہ اس نے ایوب خان کی حکومت کی لٹیا ڈبودی یہ جو آج کل بھی مختلف حکومتیں اپنے تئیں سرکاری اشتہارات کے ذریعے پبلسٹی پر کروڑوں روپے کا عوامی بجٹ خرچ کرتی ہیں ۔

یہ بھی سرکاری پیسوں کے ضیاع کے مترادف ہے چاند نکلتا ہے تو دنیا خود بخود دیکھ لیتی ہے اسے بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی اگر اآپ نے کام کیا ہے تو وہ لوگوں کو خود بخود نظر آئیگا آپکو مرچ مصالحہ لگاکر رنگ برنگی ڈیزائنوں میں پبلسٹی کے اشتہارات شائع کرانیکی کوئی ضرورت نہیں لفظ پبلسٹی او ر پروپیگنڈا میں نہایت ہی خفیف سا فرق ہے اور لفظ پروپیگنڈابرا لفظ ہے اسے آرٹ کا درجہ ہٹلر کے وزیر اطلاعات ڈاکٹر گوبلز نے دیا تھا جس کا مقولہ تھاکہ اتنا جھوٹ بولو‘ اتنا جھوٹ بولا کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں چنانچہ دوسری جنگ عظیم میں وہ جرمن عوام کوروزانہ یہ باور کراتا رہا کہ ہم جنگ جیت رہے ہیں حالانکہ وہ ہار رہے تھے اور انجام کار جب روسی افواج برلن میں گھس آئیں تو انکو پتا چلا کہ ڈاکٹر گوبلر نے ان کے ساتھ کتنا بڑا ہاتھ کیا ہے کس قدر سنگین دھوکہ ان کو دیا ہے لیکن اس وقت بڑی دیر ہو چکی تھی پانی ان کے سر سے گزر چکا تھا فیڈل کاسٹرو نے 2005ء کے مظفر آباد کے زلزلے کے بعد طب کے میدان میں پاکستانیوں کی خدمت کیلئے سینکڑوں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ٹیمیں آزاد کشمیر بھجوائیں جنہوں نے پاکستانیوں کے دل جیتے اور وہ یہاں اچھی یادیں چھوڑ کر چلے گئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ فیڈل کاسٹرو کی موت پر نہ ہم نے انکی تدفین کیلئے پاکستان سے کوئی اعلیٰ سطحی وفد بھیجا اور نہ ہمارے رہنماؤں کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ چار جملے فیڈل کاسٹرو کی یاد میں کہہ ڈالتے وہ خاموش رہے کہ وہ کاسٹرو کی تعریف کرکے اپنے ان داتا امریکہ کو خفا کرنا نہیں چاہتے تھے ۔