بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / معیشت کا استحکام اور عوامی ریلیف

معیشت کا استحکام اور عوامی ریلیف

وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے اعلان کردہ 1800ارب روپے کا ریلیف پیکج برآمدات میں اضافے کیساتھ تجارتی خسارے میں کمی اور مجموعی ملکی معیشت کے حوالے سے بھی دوررس نتائج کا حامل ہے، وزیراعظم توانائی بحران کے خاتمے کیلئے اقدامات کاعزم دہرانے کیساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بھاشا ڈیم سے 4500میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی، ڈیم کیلئے 110ارب روپے کی اراضی حاصل کرلی گئی ہے، معیشت کے شعبے میں حکومت کے اقدامات اور اصلاحاتی عمل اعداد وشمار کی روشنی میں قابل اطمینان اور اچھے مستقبل کی نوید ضرور ہے تاہم عام شہریوں کو درپیش مسائل کی شدت میں کمی نہ آنا حکومتی اقدامات اور برسرزمین نتائج کے درمیان فاصلوں کا عکاس ہے، اعداد وشمار زرمبادلہ کے ذخائر 24ارب ڈالر تک پہنچنے افراط زر کی شرح 4 فیصد سے بھی کم سٹاک منڈی میں ریکارڈ 48ہزار پوائنٹس کا کاروبار بتاتے ہیں، یہ بھی درست ہے کہ مالیاتی خسارہ کم ہوا اور توانائی بحران پر اس حد تک قابو پایاگیا کہ صنعتوں کیلئے لوڈشیڈنگ زیرو ہوگئی، دوسری جانب بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھا اور ایک قرضے کی قسط ادا کرنے کیلئے دوسرا قرضہ بھی لیاگیا، وسائل کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کے سود کی مد میں ادا ہونے لگا، اس سب کیساتھ عام شہری کو ریلیف نہ ملنے کا گلہ بھی ہے،

سردی کی شدت میں بجلی کیساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، مارکیٹ کنٹرول کیلئے رائج قدیم مجسٹریسی نظام کی بساط مشرف دور میں سمیٹے جانے کے بعد سے اب تک گرانی کی شرح میں مسلسل اضافہ نوٹ ہورہا ہے، یہ ساری صورتحال حکومت کے تمام اقدامات اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے تصدیق شدہ اعداد وشمار کو بے ثمر بنا رہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بیوروکریسی میں اصلاحات لائی جائیں، مجسٹریسی نظام بحال کیاجائے، خدمات کی فراہمی کے اداروں کو براہ راست منتخب قیادت کو جوابدہ بنایاجائے ‘وزیراعظم اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ برآمدات میں اضافہ مقامی مارکیٹ میں معیاری مصنوعات میں کمی کا موجب نہ بنے اور ایکسپورٹرز کو ملنے والی مراعات کا فائدہ مقامی صارف کو بھی پہنچے، بصورت دیگر برآمدکنندگان کے اثاثوں میں ہی اضافہ ہوتارہے گا۔

مردہ مرغیوں کی فروخت

صوبے کے دارالحکومت میں مردہ مرغیوں کی فروخت انتہائی تشویشناک ہونے کیساتھ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ثبت کرتی ہے، پشاور کی ٹاؤن ون ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ روز ایک کاروائی میں سینکڑوں مردہ مرغیاں برآمد کرکے تلف کیں ‘ اس ایک کاروائی کو مردہ مرغیوں کی فروخت کے مکروہ دھندے کا خاتمہ قرار نہیں دیاجاسکتا، مردہ مرغیوں کیساتھ کم عمر، بیمار، لاغر جانوروں کے گوشت کی فروخت روکنا اور مارکیٹ میں گوشت، قیمے کے نرخ اور معیار کو چیک کرنا بھی انتہائی ضروری ہے،کھانے پینے کی دیگر اشیاء میں بھی ملاوٹ کی شکایات عام ہیں، دودھ کے نمونے مضر صحت ثابت ہوچکے ہیں، حد تو یہ ہے کہ مارکیٹ میں جعلی غیر معیاری اور دو نمبر دوائیں بھی فروخت ہو رہی ہیں،یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز محکمے اور خود تاجر تنظیموں کے عہدیدار مل کر باقاعدگی کیساتھ چیکنگ کا نظام وضع کریں تو اصلاح احوال کا راستہ زیادہ آسان ہوجائیگا۔