بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بتایا جائے وزیر اعظم اور ان کے بیٹے میں سے کس نے سچ بولا؟سپریم کورٹ

بتایا جائے وزیر اعظم اور ان کے بیٹے میں سے کس نے سچ بولا؟سپریم کورٹ

اسلام آباد۔عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ شریف فیملی کے بیانات میں واضح تضاد ہے ،عدالت کو بتانا ہوگا کہ وزیر اعظم اور اس کے بیٹے دونوں میں سے کس نے سچ بولا ہے ، نواز شریف کی وضاحت سے مقدمہ کلیئر نہیں ہوتا ، وزیراعظم کے وکیل عدالت کو مطمئن کریں،وزیر اعظم کی تقریر کو غلط نہیں مانتے لیکن کوئی چیز چھپائی گئی تو پھر اسے آدھا سچ مانیں گے، تقریرپہلے سے تحریرشدہ تھی انہوں نے فی البدیع نہیں کی اعتراف کے بعد بار ثبوت آپ پر ہے۔دونوں فریق سچ کو سامنے نہیں لانا چاہتے،سچ کو سامنے لانے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔

جمعرات کے روز جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزاراحمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے ، ان کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے ، لیکن اس کھلی کتاب کے بعض صفحات غائب ہیں ، اگر وزیر اعظم نے پورا سچ نہیں بتایا تو کیا غلط بیانی نہیں ہوگی۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے ۔ وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم پر ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا گیا، الزام میں کہاگیا کہ بیٹے حسین نواز نے باپ کو رقم تحفے میں دی، موقف اختیار کیاگیا کہ تحائف دینے والے کا ٹیکس نمبر موجود نہیں حالانکہ حسین نواز کا ٹیکس نمبر موجود ہے اور عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے بھی عدالت میں تسلیم کیاکہ حسین نواز کا ٹیکس نمبر موجود ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مریم نواز والد کے زیر کفالت ہیں۔

کہا گیا کہ وزیر اعظم اثاثے ظاہر نہ کرنے پر رکن پارلیمنٹ رہنے کے اہل نہیں رہے، مخدوم علی خان نے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب عدالت میں پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کا کسی آف شور کمپنی سے تعلق تھا اور نا ہے، نوازشریف کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں کوئی کمپنی نہیں، وہ کسی بھی آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر،شیئر ہولڈر یا بینیفشل بھی نہیں،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ ہم یہ بات کیسے مان لیں کہ وزیراعظم دبئی فیکٹری کے ڈائریکٹر نہیں تھے، ہمارے سامنے نواز شریف کے ڈائریکٹر نہ ہونے کی کوئی دستاویز نہیں، جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ دستاویزات فراہم کرنا اور الزام کو ثابت کرنا درخواست گزار کا کام ہے۔ درخواست گزاروں نے وزیر اعظم کی تقاریر میں تضاد کی بات کرکے ان کی نااہلی کی درخواست کی حالانکہ ان پٹیشنوں میں نوازشریف پر جھوٹ بولنے کا الزام ہی عائد نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے خود پر عائد الزامات کی درست وضاحت نہیں کی۔میرے موکل نے جھوٹ نہیں بولا، نواز شریف نے تقریر میں کہا کہ ان کے والد نے بیرون ملک اسٹیل مل لگائی، انہوں نے اپنے خطاب میں بچوں سے متعلق کاروبار شروع کرنے کا نہیں کہا۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ جدہ فیکٹری کا سرمایہ بچوں نے کاروبار کے لئے استعمال کیا۔جسٹس کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف کا کاروبار اور رقم سے کوئی تعلق نہیں؟ ساتھ ہی انھوں نے پوچھا کہ اگر تعلق نہیں تو پھر لندن فلیٹس کی منی ٹریل کیسے دی۔ ہمارے سامنے دو اقسام کی منی ٹریل ہیں، پہلی یہ کہ پیسہ دبئی سے جدہ اور پھر لندن گیا اور دوسری یہ ہے کہ پیسہ دبئی سے لندن اور پھر قطر گیا،جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف کا لندن جائیداد سے کوئی تعلق نہیں،اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ لندن جائیدادیں وزیراعظم کے بچوں کی ہیں یا کسی اور کی ہیں۔مخدوم علی خان نے کہا کہ دبئی کی فیکٹری کا معاہدہ عدالت میں پیش کیا گیا، الزام لگایا گیا کہ فیکٹری خسارے میں فروخت کی گئی، اس کے علاوہ قطر میں سرمایہ کاری نہ ہونے کا الزام بھی لگایا گیا، ایک الزام ہے کہ 7 ملین ڈالرز پر ویلتھ ٹیکس نہیں دیا گیا جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مانا گیا کہ دبئی فیکٹری 9 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی،اس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ آپ کی ساری کہانی بی سی سی آئی بینک کے قرض سے شروع ہوتی ہے، دبئی مل کا وجود تھا بھی یا نہیں، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ نواز شریف دبئی فیکٹری کے کبھی ڈائریکٹر نہیں رہے، دبئی فیکٹری قرض لے کر بنائی گئی تھی،دبئی مل کا سرمایہ بینکوں کا تھا،عدالت کمیشن بنائے جو دبئی جا کر جائزہ لے۔ اس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق دبئی فیکٹری کے 25 فیصد شیئرز نواز شریف کے والد میاں شریف کے نہیں بلکہ طارق شفیع کے تھے جبکہ آپ کی دستاویزات سے بھی بظاہر واضح نہیں ہوتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم نے خود دبئی فیکٹری کا اعتراف کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام ریکارڈ موجود ہے، وزیراعظم کی تقریرپہلے سے تحریرشدہ تھی انہوں نے فی البدیع نہیں کی اعتراف کے بعد بار ثبوت آپ پر ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ گلف اسٹیل مل ہونے یا نہ ہونے پر وقت ضائع نہ کریں، ساری دنیا گلف اسٹیل مل کو تسلیم کرتی ہے تو ہم کیسے تسلیم نہ کریں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ منی ٹریل آپ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا، نواز شریف کی وضاحت سے مقدمہ کلیئر نہیں ہوتا، وزیراعظم کے وکیل کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔ قطری خط لندن فلیٹس کو لنک کرتا ہے لیکن نواز شریف نے تقریر میں ذکر نہیں کیا، جس پر وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ تفصیلات کا نہ بتانا جھوٹ کے زمرے میں نہیں آتا، وزیراعظم پارلیمنٹ میں اپنے خاندان کے کاروبار کا عمومی جائزہ دے رہے تھے، وہ کسی دعویٰ کا بیان حلفی نہیں تھا کہ وہ کسی مخصوص سوال کا جواب دے رہے ہوں، نواز شریف کا معاملے سے کوئی تعلق نہیں، میاں شریف کی وفات کے بعد حسین نواز کو کاروبار منتقل ہوا،صادق اور امین کی تشریح پر ٹیسٹ صرف وزیراعظم نہیں تمام ارکان پارلیمنٹ کا ہو گا، اسی وجہ سے ہم بہت زیادہ احتیاط کر رہے ہیں۔ عدالت دوسروں کے بیانات پر وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دے سکتی،نعیم بخاری نے نواز شریف سے متعلق جیمز بیکر کی کتاب کا بار بار ذکر کیا لیکن اسی مصنف نے اپنی تحریروں میں پاک فوج سے متعلق بھی بہت کچھ کہا ہے لیکن ہم یہ باتیں درست نہیں مان سکتے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے پاس کئی فوجداری مقدمات آتے ہیں اور عدالت واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر رائے قائم کرتی ہے۔ بعض مقدمات حالات وواقعات سے سچائی کافیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

وزیر اعظم تقریر سے پہلے کمیشن کی تشکیل کا کہہ چکے تھے، تقریر مشاورت سے کی گئی، سلمان بٹ نے عدالت میں کہا تھا کہ وزیر اعظم کی تقریر سیاسی تھی، ہم تقریر کو غلط نہیں مانتے لیکن کوئی چیز چھپائی گئی تو پھر اسے آدھا سچ مانیں گے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ اس معاملے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا چاہیے، میری زندگی کھلی کتاب کی مانندہے لیکن اس کھلی کتاب کے بعض صفحات غائب ہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے سچ بولا یا ان کے بیٹے حسین نواز نے سچ بولا۔ اگر ایک نے سچ بولا تو دوسرے کا بیان سچ نہیں ہو گا۔ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں سچ بول رہے ہوں، میرا مقدمہ ہے کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ شریف خاندان کے بیانات میں تضاد ہے، ہمیں سچ کا پتہ چلانا ہے اور سچ بیانات سے نہیں دستاویزات سے سامنے آئے گا، سچ کو ثابت کرنے کے لئے ریکارڈ سے ثابت کریں کہ کس نے سچ بولا۔ سوال یہ ہے کہ کیااب تک پیش کئے گئے دستاویزات شواہد ہیں۔ کیا قانونی شہادت کو نظرانداز کردیں۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ اصل معاملہ یہ ہے کہ عوام سچ جاننا چاہتے ہیں لیکن دونوں فریق نہیں چاہتے کہ سچ سامنے آئے، کبھی ایک رکاوٹ کھڑی کرتا ہے تو کبھی دوسرا رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیں گے ، بتائیں کتنا وقت چاہیے ، بعض مقدمات میں دستاویزی شواہد نہیں ہوتے ، ایسے مقدمات میں عدالت کو حالات و واقعات پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ نا اہلی سے متعلق قوانین کے مطابق شک کا فائدہ کامیاب امیدوار کو جاتا ہے ، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اس کیس میں کوئی شواہد ریکارڈ نہیں ہو رہے ، شواہد ہیں کہاں ، جسٹس آصف سعید نے کہا کہ حالات و واقعات کے معاملے کو بعض اصولوں پر پرکھا جاتا ہے ، ہمارے سامنے پاناما کے علاوہ کوئی دوسرا مقدمہ نہیں ، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ عدالت آپ کے موقف پر انحصار کر رہی ہے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ الزام لگانے والوں کے اپنے موقف میں تضاد ہے ، الزام لگانے والوں نے اپنا کیس خود خراب کر لیا ہے اور یہی میرا کیس ہے ، عدالت کے پاس اتنی سمجھ بوجھ ہے کہ معاملے کو سمجھ سکے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ شواہد ریکارڈ کیے بغیر دستاویز محض کاغذ کا ٹکڑا ہوتی ہے ، کسی دستاویز پر نا اہلی سے قبل شواہد ریکارڈ کرنا ہوتے ہیں۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم کو ہٹانے کا طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے ، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ثابت ہو وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ اگر کوئی بات رہ گئی تو اسے غلط بیانی نہیں کہا جا سکتا ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نے پورا سچ نہیں بتایا تو کیا غلط بیانی نہیں ہوگی ، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی شقوں کا اس مقدمے سے کیا تعلق ہے ، یہ شقیں انتخابی عذرداری میں متعلقہ ہو سکتی ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ الیکشن کے بعد نا اہلی کیلئے کووارنٹو کی درخواست دائر ہوسکتی ہے ، دہری شہریت کے مقدمات میں عدالت عظمیٰ میں بھی کووارنٹو کی درخواستیں دائر ہوئیں ، دوہری شہریت والوں نے عدالت میں اپنی دوسری شہریت تسلیم کی ، ہمارے سامنے یہ کیس ہے کہ کچھ بیانات دیئے گئے ۔

جن پر نااہلی مانگی جا رہی ہے ، کیا سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے نا اہلی کے ریفرنس دائر ہوئے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ اس معاملے پر داد رسی کا فورم سپیکر قومی اسمبلی ہے ، سپیکر نے 2 اگست 2016 کو نا اہلی کے ریفرنس خارج کر دیئے تھے۔ عدالتی استفسار پر مخدوم علی خان نے کہا کہ سپیکر کے بعد دوسرا فورم ہائیکورٹ ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس براہ راست بھی ریفرنس دائر ہوئے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت کے سامنے موجود درخواستیں دوسرے فورمز پر بھی موجود ہیں ، دوسرے فورم پر معاملہ زیر التواء ہو تو کیا سپریم کورٹ میں کارروائی ہو سکتی ہے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ شیخ رشید نے سپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن میں درخواستیں دیں ، آرٹیکل 62 پر نا اہلی کیلئے عدالتی فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ درخواست گزار اگر کہے کہ پہلے ڈیکلریشن دیں پھر نا اہل کریں پھر کیا ہوگا ، اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ، یوسف رضا گیلانی کے مقدمے میں پہلے این آر او کیس کا فیصلہ ہوا ، اس کے بعد عدالت نے عملدرآمد کا حکم دیا ، فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کا نوٹس دیا ، یوسف رضا گیلانی کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کی سزا دی ، یوسف رضا گیلانی نے سزا پر اپیل دائر نہیں کی ، عدالتی فیصلے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ریفرنس گیا ، سپیکر نے ریفرنس خارج کیا تو عدالت عظمیٰ نے ایک درخواست پر یوسف رضا گیلانی کو نا اہل کیا۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کا معاملہ 184 تین کے دائرہ کار میں نہیں آتا ، عوامی نمائندگی ایکٹ میں جھوٹا الزام لگانے کی سزا بھی پانچ سے 7 سال ہے ، عدالت نے سماعت آج جمعہ تک کے لئے ملتوی کر دی۔