بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سرمایہ کاری کیلئے ماحول؟

سرمایہ کاری کیلئے ماحول؟

وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین برسوں کے دوران اقتصادی شرح نمو 4.84 فیصد سے زائد رہی ہے اور سرمایہ کاری کیلئے مواقع موجود ہیں کرغزستان کے اعلیٰ سطحی وفد سے بات چیت میں وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کا ریک کے ممبر ہیں اور اس ناطے سے ٹرانسپورٹ ‘ توانائی ‘ تجارتی پالیسی اور تخفیف غربت جیسے چار ترجیحی شعبوں میں اہداف حاصل کر سکتے ہیں ۔ دریں اثناء پاکستان اور کرغزستان کے درمیان باہمی تعاون کے بعض معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے جن میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں جوائنٹ وینچر بھی شامل ہے ۔ کرغزستان پاکستان سے سرجیکل آلات اور دیگر اشیاء درآمد کرے گا۔ اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف برآمدات کے فروغ کیلئے 1800 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کر چکے ہیں جس کا مقصد تجارتی خسارے میں کمی لانا اور ملکی مصنوعات کیلئے عالمی منڈی کو توسیع دینا ہے ۔ حکومت سرمایہ کاروں کو رقم لگانے کیلئے مسلسل کہہ رہی ہے سی پیک جیسا انوسٹمنٹ کا بڑا منصوبہ ملکی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ بھی کر رہا ہے یہ سب قابل اطمینان ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول سے مشروط ہے یہ ماحول امن کے حوالے سے تو وقت کے ساتھ بہتر سے بہتر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

سرمایہ کار کو اپنے پراجیکٹ کی تکمیل اور بعد ازاں آپریشن کیلئے ایک اچھی فضا کی ضرورت ہوتی ہے یہ فضا اس صورت مل سکتی ہے جب سرمایہ کار کو متعلقہ سرکاری اداروں میں بہتر خدمات آسان طریقہ کار کے تحت مل سکیں جب انویسٹر کو صنعتی پلاٹ کیلئے بجلی ‘ پانی ‘ گیس ‘ فائبر آپٹک کے کنکشن ہی نہ مل سکیں اور وہ درخواستیں لیکر متعلقہ دفاتر کے چکر ہی کاٹتا رہے تو ایسے ماحول کوکس طرح سرمایہ کار دوست گردانا جاسکتا ہے۔ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے حکومتی احساس اور کوششیں اپنی جگہ جب تک موجودہ سیٹ اپ میں سرکاری اداروں کو خدمات بروقت پہنچانے کا پابند نہیں بنایا جائے گاٹیکس نظام کو آسان نہیں کیاجائیگا، بینکوں میں سروسز کے معاوضے ختم یا کم نہیں کئے جائیں گے، شفاف صنعتی قرضوں کا اجراء یقینی نہیں بنایاجائیگا، خام مال اور تیار منصوعات کے منڈیوں تک پہنچنے کیلئے انفراسٹرکچر نہیں ہوگا، ہنر مند افرادی قوت نہیں ملے گی تو سرمایہ کار کس طرح اپنی رقوم لگائیں گے، بہتر ہوگا کہ حکومت انویسٹرز کو مناسب ماحول کی فراہمی کیلئے موثر حکمت عملی ترتیب دے اس سب کیساتھ غیر روایتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔

مریضوں کا خیال رکھاجائے

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں مزید فنڈز دینے سے معذرت کرلی ہے، ان ہسپتالوں کی ایڈمنسٹریشن کو اپنے امور اپنے ہی وسائل سے چلانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کی خودمختاری کے میرٹ اور ڈی میرٹ پر بحث میں پڑے بغیر یہ بات قابل توجہ ضرور ہے کہ ہسپتال اپنے وسائل پورے کرنے کیلئے مریضوں پر بوجھ نہ بڑھائیں، تشخیصی ٹیسٹوں کی فیسوں میں حالیہ اضافہ پہلے ہی مریضوں کیلئے مشکلات کا باعث بن چکا ہے، ذمہ دار محکموں کو بہتر حکمت عملی کے تحت یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ ہسپتالوں میں خدمات کا معیار بہتر ہونے کیساتھ مریضوں کیلئے آسانیاں ہوں اگر حکومتی پالیسی مریضوں کیلئے ادائیگی کے حوالے سے نجی اور سرکاری شعبے کا فرق ہی ختم کردے تو ساری ایکسرسائز کو بے ثمر کہاجائیگا۔