بریکنگ نیوز
Home / کالم / انٹرا پارٹی الیکشن سے گھبراہٹ

انٹرا پارٹی الیکشن سے گھبراہٹ


یہ تو ہم عرصہ دراز سے سنتے بھی آئے ہیں اور یہ بات ہمارے تجربے میں بھی شامل ہے کہ اس ملک میں آپ کو ہر چیز کا چربہ با آسانی دستیاب ہو جاتا ہے کہ جسے حرف عام میں دو نمبر کہتے ہیں سیاسی پارٹیاں بھی کیا دو نمبر ہو سکتی ہیں یہ البتہ ہمارے تجربے میں اب تک نہ تھا اب تو خیر سے ایک پی پی پی بلاول بھٹو کی میراث ہے اور اس کے چربے یعنی پی پی پی ( پارلیمنٹرینز ) پر ان کے والد محترم کا راج ہے یک نہ شد دو شد ۔ زرداری صاحب کی پی پی پی کو علیحدہ شناخت دینے کیلئے اسکے ساتھ پارلیمنٹرینز کا لاحقہ لگا دیا گیا ہے ویسے تو اس ملک میں اس کی خالق سیاسی جماعت مسلم لیگ کے بطن سے درجنوں مسلم لیگوں نے جنم لیا پر ان میں اور پی پی پی میں ایک واضح فرق یہ ہے کہ ان مسلم لیگوں کے سربراہان آپس میں ایک دوسرے کے بیری تھے جبکہ پی پی پی کے ان دو دھڑوں کی باگ ڈور بیٹے اور باپ کے ہاتھوں میں ہے کہ جنکی پالیسیاں بظاہر ایک سی نظر آ رہی ہیں عام تاثر یہ تھا کہ شاید بلاول ماضی کی روایات کو توڑ کر پی پی پی کے اندر سب سے پہلے انٹرا پارٹی الیکشن کروائیں گے۔ نیچے سے لیکر اوپر تک یعنی ایک تکون کی مانند سب سے پہلے تحصیل اور ضلع کی سطح پر موجود تمام پی پی پی ورکروں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے مقامی صدر اور دیگر عہدیداران منتخب کریں بعد میں یہ عمل ڈویژنل اور صوبائی سطح پر بھی دہرایا جائے گا اور آخر میں یہ نچلی سطح سے منتخب ہو کر آئے ہوئے تمام عہدیداران مرکزی سطح پر پارٹی کے عہدیداروں کو منتخب کرینگے پر بلاول نے اپنے چاہنے والوں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا یہ کیسی سیاسی قیادت ہے کہ اوپر اوپر سے اپنے منظور نظر افراد کو اہم سیاسی عہدوں پر نامزد کر دیتی ہے انٹرا پارٹی الیکشن سے صرف پی پی پی ہی نہیں دیگر تمام سیاسی جماعتیں بھی الرجک ہیں۔

ان کو ایک انجانا خوف کھائے جاتا ہے کہ اگر انہوں نے ہر خاص و عام کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تو ایسے لوگ لا محالہ پارٹی کے اندر اہم عہدوں پر قابض ہو سکتے ہیں کہ جو واقعی عوام دوست ہوں اور جو ملک میں بنیادی اصلاحات کرنے میں مخلص ہوں جبکہ ہماری اکثر سیاسی پارٹیوں کی قیادت سرمایہ داروں پر مشتمل ہے یا پھر وہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے مالک ہیں انہوں نے ہمیشہ عوام کو بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہانکا ہے ہر الیکشن میں وہ عوام کے غموں میں ٹسوے بہا کر ان کو گمراہ کرکے ان کے ووٹ حاصل کر کے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ جاتے ہیں صرف جماعت اسلامی کو چھوڑ کر جس میں انٹرا پارٹی الیکشن باقاعدگی سے ہوتے ہیں ۔

یہ بات جماعت اسلامی کے کریڈٹ میں جاتی ہے کہ مولانا مودودی کہ جو اس پارٹی کے خالق تھے ان کے خاندان کا تو کوئی فرد بھی امیر جماعت اسلامی نہ بن سکا اگر کوئی بنا بھی تو اس پارٹی کا عام ورکر جو اپنے حسن کارکردگی کی وجہ سے اعلیٰ منصب تک پہنچا دیگر سیاسی پارٹیوں کے تو ہم نام ہی نہیں لیتے آپ خود جانتے ہیں کہ ان کے بانی کون تھے یا ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد ان کے مناصب کو یا تو انکے چاچوں ماموں نے سنبھالا یا بیٹے بیٹیوں نے اور یا بھائیوں نے ۔ مستقبل قریب میں بھی نظر نہیں آتا کہ اس روش میں کوئی تبدیلی آئے اور اس میں سب سے بڑا قصور عوام کا ہے کہ وہ ہر الیکشن میں انہی لوگوں کو اپنے سر پر بٹھا لیتے ہیں کہ جو ان کا تواتر سے معاشی استحصال کر رہے ہیں یہ بات درست ہے کہ پی پی پی کے اندر کئی ایسے رہنما موجود ہیں کہ جنکا دامن کرپشن سے داغدار نہیں بلاشبہ انکی حوصلہ افزائی کرکے انکو الیکشن کے ذریعے آگے لایا جاسکتا ہے اگر آپ انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے پارٹی کے اندر پارلیمانی جمہوریت کی روایات کو فروغ نہیں دینگے تو کوئی کیسے یقین کرے کہ آپ اقتدار میں آکر ملک کے اندر جمہوریت کو بسنے دینگے؟ پہلے آپ اپنا گھر تو ٹھیک کریں پہلے اپنے گھر سے موروثی سیاست کا خاتمہ کریں ۔