بریکنگ نیوز
Home / کالم / عجیب منطق!

عجیب منطق!


دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی مشروط ہے کہ اِس میں عسکریت پسندوں کو اچھا یا برا سمجھنے کی بجائے بلاامتیاز نشانہ بنایا جائے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ’’فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشتگرد تنظیموں کیساتھ نہیں کھڑا کیا جا سکتا اسلئے فرقہ واریت اور دہشت گردی کو الگ الگ دیکھا جائے‘‘ انکے بقول دہشتگرد تنظیمیں سوات‘ جنوبی و شمالی وزیرستان کی پیداوار ہیں جبکہ فرقہ واریت اندرونی لڑائی کا شاخسانہ ہے۔ سینٹ اجلاس میں نیشنل سکیورٹی پلان پر بحث کے دوران سینٹ کے قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کے ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’جہاں تک ان کے دفاع پاکستان کونسل سے ملاقاتوں کا تعلق ہے تو یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ اس کونسل کے اہم ترین لوگ سابق حکومت میں ایوان صدر جاتے رہے اگر یہ ان لوگوں کے اتنے ہی مخالف ہیں تو پھر سابقہ دور حکومت میں فرقہ وارانہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع کیوں دیا گیا؟‘‘ پاکستان کو دہشتگردی کے ناسور سے نجات دلانا ہی ہماری اوّلین ترجیح اور بنیادی ضرورت ہے اس دہشتگردی کی جڑ کیا ہے‘ اسکے سوتے کہاں سے پھوٹتے ہیں اور اس کے پس پردہ کیا مقاصد و محرکات ہیں‘ فی الوقت ہمیں کسی نتیجہ تک نہ پہنچنے والی اس بحث میں خود کو الجھانے کے بجائے دہشتگردی سے ملک اور قوم کو نجات دلانی ہے جس کیلئے نہ اچھے اور برے دہشتگرد کا امتیاز کیا جا سکتا ہے نہ انہیں پسندیدہ اور ناپسندیدہ کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی دہشتگرد کیلئے ہمدردی کا اظہار ہوسکتاہے جو دہشتگرد اپنی سفاکانہ وارداتوں سے بے گناہ عوام اور سکیورٹی افسران و اہلکاروں کو بے دردی کے ساتھ خون میں نہا کر اور ان کے جسم لوتھڑوں میں تبدیل کرکے ملک میں بدامنی اور غیریقینی کی فضاء کو فروغ دے رہے ہی۔

‘ وہ چاہے فرقہ واریت کی بنیاد یا دیگر مقاصد کے تحت یہاں دہشت گردی کا ناسور پھیلا رہے ہیں‘ ان سب کا بلاامتیاز قلمع قمع حکومتی ریاستی اتھارٹی کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ دہشت گرد اپنی گھناؤنی وارداتوں سے ریاستی اتھارٹی اور حکومتی رٹ کو بھی چیلنج کررہے ہیں اگر فرقہ ورانہ دہشتگردی کے حوالے سے یہ تاویل پیش کی جائے کہ یہ تو گزشتہ ساڑھے تیرہ سو سال سے جاری ہے تو کیا اس تاویل کے تحت فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے اور انہیں کھلی چھوٹ دیئے رکھی جائے؟ اس تناظر میں نثار علی خاں کو فرقہ وارانہ تنظیموں اور دیگر دہشت گرد تنظیموں میں امتیاز کرنے کی نہ جانے کیوں سوجھی ہے جبکہ ملک میں عدم استحکام کی فضا اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے والے عناصر کی سرکوبی انکی وزارت کی ہی ذمہ داری ہے جو امن و امان کنٹرول اور نافذ کرنے والے قومی انتظامی اداروں کے انچارج وزیر ہیں اگر وہ اپنی کسی ذاتی سوچ کے تابع دہشت گردوں میں اچھے برے کی تمیز کرنے لگیں گے تو پھر ان کے ماتحت سکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے کے فرائض منصبی سے کیسے عہدہ برآ ہوسکیں گی۔دہشت گردی کے ناسور نے ہمیں یقیناًنائن الیون کے بعد دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بننے کے بعد زیادہ نقصان پہنچایا مگر اس دہشتگردی اور خودکش حملوں میں بھی زیادہ تر انتہا پسند عناصر نے ہی حصہ لیا ہے جبکہ فرقہ واریت پر استوار تنظیمیں اور انکے قائدین ہی ایسے دہشت گردوں کے سرپرست اور سہولت کار کی حیثیت سے مذموم عزائم کو تقویت و تحفظ دیتے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں ہی سابقہ دور حکومت میں جنوبی وزیرستان‘ دیر‘ چترال‘ مالاکنڈ اور دیگر قبائلی علاقہ جات میں ہماری سکیورٹی فورسز نے آپریشن راہ راست اور پھر راہ نجات کا آغاز کیا تو اس آپریشن کا ہدف دہشتگردی کو تقویت پہنچانے والی انتہا پسند تنظیمیں اور ان سے وابستہ افراد ہی تھے ان تنظیموں کی دہشت گردی کی مذموم وارداتوں کے باعث بیرونی دنیا میں پاکستان پر حرف آیا اور انسانی اخوت و بھائی چارہ پر مبنی دین اسلام پر اسلام مخالف قوتوں کو دہشت گردوں کا سرپرست ہونے کا لیبل لگانے کا موقع ملا اگر ان انتہا پسند تنظیموں کا ایجنڈا ملک میں افراتفری اور خوف و ہراس پھیلانا اور بے گناہ انسانوں کو خون میں نہلا کر ان کے جرم بے گناہ کی سزا دینا ہے تو کیا ایسے دہشت گردوں کو فرقہ وارانہ ذہنیت کی تسکین کی خاطر سینے سے لگائے رکھا جائے یا وہ بھی ایسی ہی عبرتناک سزا کے مستحق ہیں جو بلاامتیاز کسی بھی دہشتگرد کو دی جانی مقصود ہے اسی طرح ہم دہشت گردی کی جنگ میں سرخرو ہو سکتے ہیں اور دہشت گردی کی جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود اپنے کردار پر انگلی اٹھائے جانے سے بچ سکتے ہیں۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: امتیاز عالم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)